Al-Risala · October 2007

خیرِ اعلیٰ: معرفتِ خداوندی

Al-Risala, October 2007, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں خیرِ اعلیٰ (summum bonum) کا درجہ صرف ایک چیز کو حاصل ہے، اور وہ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی کے سوا، کسی اور چیز کو خیرِ اعلیٰ کا درجہ دینا، خدا کی بھی تصغیر ہے اور خدا کے دین کی بھی تصغیر۔ جو لوگ سیاسی نظام کو خیرِ اعلیٰ سمجھتے ہیں، ان کے بارے میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے معرفتِ خداوندی کی عظمت کو دریافت نہیں کیا۔ اگر وہ معرفتِ خداوندی کی عظمتوں سے واقف ہوتے تو انھیں یہ بات سخت مضحکہ خیز معلوم ہوتی کہ معرفتِ خداوندی کے بجائے، ایک سیاسی نظام کو خیرِ اعلیٰ کا درجہ دیا جائے۔ قرآن کی سورہ نمبر تین میں ارشاد ہوا ہے: کونوا ربانیین (آل عمران: 79) یعنی تم لوگ ربانی بنو۔ اسی طرح قرآن میں ایسی آیتیں ہیں جن میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ ذاکرین بنو، تم لوگ خاشعین بنو، تم لوگ مخبتین بنو، تم لوگ عارفین بنو، تم لوگ خائفین بنو، تم لوگ متقین بنو، تم لوگ قانتین بنو، وغیرہ۔ یہ تصور سارے قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔ ایک امریکی اسکالر نے اسلام کے گہرے مطالعے کے بعد ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس میں وہ بجاطور پر لکھتا ہے کہ:

Printed page