Al-Risala · October 2007

جہاد کیا ہے

Al-Risala, October 2007, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر (ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں) اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہاد کی طرف واپس آئے ہیں:

We have come back from temporary jihad to permanent jihad. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد (defensive jihad) ہے، جو کبھی کبھی پیش آتا ہے، اور مستقل جہاد سے مراد اسپرچول جہاد (spiritual jihad) ہے، جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جاهدوا أهوائكم كما تجاهدون أعدائكم۔ یعنی اپنی خواہشات سے جہاد کرو، جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔

دشمن کے خلاف جہاد انتہائی وقتی چیز ہے، جو اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ کسی باقاعدہ طور پر ریاست کے اوپر حملہ کر دیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اِس میں صرف کچھ تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اِس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے اور وہ ہر مومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔ اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِنفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو کہیں 'السلام علیکم' (تمھارے اوپر سلامتی ہو)۔ یہ کلمہ اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اُس کو

دوسروں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر ہر آدمی کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حقیقی معنوں میں 'السلام علیکم' صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنے دل کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرے اور اس کے بجائے اپنے دل کو لوگوں کے لیے خیر خواہی کے جذبات سے بھر دے۔ غور کیجیے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ اس کے لیے وہی زبردست کوشش کرنی پڑے گی جس کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: الحمد للہ تملأ المیزان (الحمد للہ کا کلمہ میزان کو بھر دیتا ہے) غور کیجیے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا الحمد للہ کہنے کے لیے بہت بڑا ذہنی عمل درکار الحمد للہ کہنا، خدا کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرنا ہے۔ خدا کی یہ نعمتیں آدمی کو مسلسل طور پر لا تعداد صورتوں میں ملتی رہتی ہیں۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں۔ چناں چہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طور پر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں الحمد للہ کہنے کے لیے ایک فکری جہاد کرنا پڑتا ہے۔ اُس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تفکیری قوتوں کو عمل میں لا کر غیر شعور کو اپنے شعور میں لائے، اپنے جذبات کی نئی رُخ بندی کرے، وہ اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے مجاہد بن جائے۔ اس کے بعد ہی اس کی زبان سے وہ کلمہ' حمد نکلتا ہے جو میزان کو بھر دینے والا کلمہ ہے۔ آدمی کے اندر طرح طرح کی خواہشیں ہیں — حرص، علو پسندی، دوسرے کو حقیر سمجھنا، بے صبری، غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ آدمی ہر وقت ان منفی جذبات کے تابع رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کچھ چیزوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت اور اولاد، وغیرہ۔ آدمی کی یہ بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کو بھر پور طور پر حاصل ہو جائیں۔

نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات، آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں، وہ جو کچھ سوچتا ہے، انھیں جذبات سے مغلوب ہو کر سوچتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انھیں جذبات کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بلاشبہ ایک جہادی عمل ہے کہ آدمی خدا کو مسلسل طور پر اپنا مرکز توجہ بنائے، وہ صراطِ مستقیم سے اپنے آپ کو ہٹنے نہ دے — یہی وہ پر مشقت عمل ہے جس کو حدیث میں جہادِ نفس کہا گیا ہے۔

Printed page