سیکولرازم کیا ہے
Al-Risala, October 2007, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
سیکولرازم کے بارے میں منصفانہ رائے قائم کرنے کے لیے دو چیزوں میں فرق کرنا ضروری وہ یہ کہ ایک ہے سیکولر فلسفی، اور دوسری چیز ہے سیکولر پالیسی۔ دونوں کے درمیان واضح فرق جو لوگ اس فرق کو نہ سمجھیں، وہ سیکولرازم کے بارے میں صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔ سیکولر فلسفی ابتداء اُن لوگوں کے ذہن کی پیداوار تھی جو ملحدانہ سوچ کا شکار تھے۔ مگر بعد کو فلسفے سے الگ ہو کر سیکولرازم، جمہوری نظام کی عملی پالیسی بن گیا۔ عملی پالیسی کی حیثیت سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ مذہبی اُمور کو لوگوں کی انفرادی آزادی کا معاملہ قرار دے دینا، اور مشترک مادی مفادات کو اسٹیٹ کے دائرے کی چیز سمجھنا۔
قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی کو لوگوں کا ایک ناقابل تنسیخ حق قرار دے دیا گیا ہے۔ سیکولر پالیسی دراصل لوگوں کی اسی مذہبی آزادی کا ایک حصہ ہے۔ میں یہ طریقہ تھا کہ ایک مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گروہ کو آزادی دینے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ وہ ان کو مذہبی تعذیب (religious persecution) کا شکار بناتا تھا۔ جدید جمہوریت میں اس کے برعکس، سیکولر پالیسی کو اختیار کیا گیا، یعنی مشترک مادی اُمور کو ریاست کے دائرے میں رکھنا اور مذہب اور کلچر کے معاملے میں لوگوں کو کامل آزادی عطا کرنا۔
ہر معاشرے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ وہاں امن کا ماحول ہو۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ سیکولرازم ایک عملی پالیسی کی حیثیت سے قیام امن کی یہی تدبیر ہے۔ نے موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں کو قدیم طرز کی مذہبی لڑائیوں سے بچایا ہے۔ چناں چہ انڈیا سے لے کر امریکا اور برطانیہ تک سیکولر اسٹیٹ کے اصول کو اختیار کیا گیا۔ اس کا مطلب مذہبی مخالفت نہیں، بلکہ مذہبی عدم مداخلت ہے۔ چناں چہ ان ملکوں میں ہر مذہبی گروہ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ میں جو چیز ممنوع ہے، وہ صرف تشدد ہے نہ کہ اپنے مذہب پر عمل۔