بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل
Al-Risala, October 2007, pp. 37–41
By Maulana Wahiduddin Khan
5 اگست 2007 کی شام کو راقم الحروف نے ایک کشمیری اجتماع کو خطاب کیا۔ یہ ٹیلی فون پر ہونے والا ایک خطاب تھا۔ میں نے دہلی سے اپنے ٹیلی فون پر تقریر کی اور سری نگر میں اکٹھا ہونے والے کشمیری مسلمانوں نے اسپیکر ٹیلی فون پر اُس کو سنا۔ یہ خطاب کسی قدر اضافے کے ساتھ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
مجھ سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل کیا ہے۔ کہوں گا کہ اُن کے لائحہ عمل کا پہلا نکتہ ری اسیس مینٹ (re-assessment) ہے، یعنی ماضی میں اپنی کوششوں کا تنقیدی جائزہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ماضی میں جان و مال کی غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں اب تک جاری ہیں۔ ایسی حالت میں پہلا سوال یہ ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے مسلح جدوجہد کے باوجود اپنے مقصد کو کسی بھی درجے میں نہیں پایا، بلکہ انھوں نے صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لیے کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ جہاد کے نام پر کی جانے والی موجودہ مسلح جدوجہد کو فوراً بند کردیں، تاکہ کم ازکم ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو مزید تباہی سے جہاد (بمعنی قتال) کا مقصد اپنے آپ کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ کسی مطلوب فائدے کو حاصل کرنا ہے۔ جب مطلوب فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو تو ٹکراؤ کی سیاست حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہو جاتی ہے۔ یہی اب مسلمانوں کو کرنا چاہیے۔
میں جون 1989 میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ اگر آپ شہر سے باہر جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ سے گھری ہوئی وادیوں میں ہر طرف پانی کے چشمے بہہ رہے یہ چشمے آپ کو خدا کا ایک پیغام دے رہے ہیں۔ اِن چشموں کا حال یہ ہے کہ وہ مسلسل بہہ رہے
اُن کے راستے میں بار بار پتھر آتے ہیں۔ یہ پتھر بظاہر چشمے کے لیے ایک رکاوٹ ہیں، لیکن چشمہ پتھروں سے نہیں ٹکراتا، بلکہ وہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرتے ہوئے پتھر کے دائیں یا بائیں سے نکل جاتا ہے اور اس طرح وہ اپنے سفر کو آگے کی طرف مسلسل جاری رکھتا ہے۔
میں نے کہا تھا کہ کشمیر یوں کو اپنے قریب بہتے ہوئے چشموں سے سبق لینا چاہیے۔ انڈیا سے یا انڈیا کی آرمی سے غیر ضروری ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ٹکراؤ اُنھیں تباہی کے سوا کچھ اور دینے والا نہیں۔ میرا یہ انتباہ اب آخری طور پر درست ثابت ہو چکا ہے۔ اب کشمیری مسلمانوں کے لیے آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ وہ ٹکراؤ یا مسلح جدوجہد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ پر امن میدان میں اپنی تعمیر کے کام میں لگ جائیں۔
آج کل نہ صرف کشمیر کے مسلمان، بلکہ ہر جگہ کے مسلمان ٹکراؤ کی سیاست کو اختیار کیے ہوئے کچھ لوگ عملاً ٹکراؤ کی سیاست چلا رہے ہیں۔ جو لوگ ٹکراؤ کی سیاست میں عملاً شامل نہیں ہیں، وہ بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ اُن کے پاس بھی سوچنے کا کوئی اور فریم ورک موجود نہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بدقسمتی سے اُس چیز سے محروم ہیں جس کو بصیرت زمانہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ تھا۔ اب ہر چیز بدل چکی ایسی حالت میں ضروری تھا کہ سب سے پہلے زمانے کو سمجھا جائے اور پھر زمانے کی رعایت سے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کی جائے، لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ ہمارے تمام رہ نما رَدِ عمل کی نفسیات کا شکار انھوں نے رد عمل کے تحت، مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ اس قسم کی جنگ زمانے سے بے خبری کا نتیجہ تھی، اس لیے وہ مکمل طور پر نا کام ہو کر رہ گئی۔ قدیم زمانے کو زرعی دور کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ نظام کے تحت سب سے زیادہ اہمیت پلٹکس کی ہو گئی تھی۔ اس طرزِ فکر کے تحت لوگوں کے پاس سوچنے کا فریم ورک صرف ایک تھا، اور وہ تھا پوٹیکل ایکٹوزم ۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں کا ذہن اسی فکری تسلسل کے تحت بنا، چناں چہ جب موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا
ہوئے تو انھوں نے اپنے متاثر ذہن (conditioned mind) کے تحت، فوراً پوٹیکل ایکٹوزم کا طریقہ اختیار کر لیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بصیرت زمانہ کی ضرورت تھی۔ ہمارے رہنماؤں کو جاننا چاہیے تھا کہ اب پوٹیکل ایکٹڑزم کا دور ختم ہو گیا۔ اب مکمل معنوں میں پیس فل ایکٹڑزم کا زمانہ آ چکا ہے۔ مواقع پیدا ہو چکے ہیں کہ پر امن طریقہ کار کے ذریعے وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید پہلے صرف سیاسی جدوجہد سے کی جا سکتی تھی۔
موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، اُس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اُس نے مواقع (opportunities) کو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھول دیا ہے۔ قدیم زمانے میں مواقع کار صرف اونچے طبقے کے کچھ لوگوں کو حاصل ہوتے تھے، اب مواقع کار عام انسانوں کی دست رس تک پہنچ پچھلا زمانہ ہر اعتبار سے محدودیت کا زمانہ تھا، اب جدید اسباب نے تمام حد بندیاں توڑ دی اب ہر آدمی ہر کام کرنے کی پوزیشن میں ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں علم کے نام سے آدمی بہت کم چیزوں کو جانتا تھا، اب علمی انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ پہلے زمانے میں سیاسی طاقت سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، اب تعمیری اداروں اور غیر سیاسی تنظیموں نے سب سے بڑی طاقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں سیکولر ازم نے حکومتوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ لوگوں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کریں۔ اب دنیا میں جمہوریت کا زمانہ ہے، جو عوام کی سیاسی حصے داری (power sharing) پر مبنی ہے۔ پہلے اقتصادیات کا تعلق صرف زراعت سے تھا، اب جدید صنعت نے اقتصادیات کو ہر ایک کی دست رس تک پہنچا دیا ہے۔ پہلے مذہبی جبر کا زمانہ تھا، اب دنیا میں مکمل طور پر مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ پہلے کوئی بڑا کام صرف بادشاہ کر سکتا تھا، اب اداروں (institutions) اور غیر سیاسی تنظیموں کے ذریعے ہر کام کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں صرف پوٹیکل ایمپائر بن سکتا تھا، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ غیر سیاسی سطح پر عالمی دعوہ ایمپائر بنایا جا سکے۔
سمجھا جاتا تھا کہ صرف تلوار میں طاقت ہے، اب پر امن ذرائع کا دائرہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ آج تقریباً ہر چیز پر امن ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے، وغیرہ۔
ان حالات میں متشددانہ طریقہ کار یا لڑائی کا طریقہ اختیار کرنا، ایک قسم کا خلاف زمانہ عمل (anachronism) بن چکا ہے۔ جدید اصولوں کے مطابق، آدمی اگر تشدد نہ کرے تو وہ ہر کام کے لیے ایسی حالت میں اب تشدد کا طریقہ اختیار کرنا، ایک قسم کی دیوانگی ہے۔ کیوں کہ تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہی آدمی غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو محروم بنا لیتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ جدید مواقع کار سے فائدہ اٹھائے اور اپنے مستقبل کی عظیم تعمیر کرے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے یہ تباہ کن طریقہ کیوں اختیار کیا کہ انھوں نے سیاسی غلبے کو اپنا نشانہ بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت جلد انھوں نے جہاد کے نام سے متشددانہ طریقہ کار کو اختیار کر لیا اور آخر کار استشہاد (طلب شہادت) کے نام پر خود کش بم باری کی تباہ کن حد تک پہنچ گئے۔
اس بھیانک غلطی کا سبب موجودہ زمانے میں پیش کی جانے والی اسلام کی سیاسی تعبیر تھی۔ اسلام کی سیاسی تعبیر بلاشبہ ایک بے بنیاد تعبیر تھی، لیکن موجودہ سیاسی حالات نے اس تعبیر کو موافق فضا اس بنا پر بہت سے لوگ، خاص طور پر نوجوان طبقہ، اس مغالطہ آمیز سیاسی تعبیر کے زیر اثر آ گیا اور اسلام کی عالمی حکومت قائم کرنے کے نام پر ایک پر شور سیاسی تخریب کا عمل جاری کر دیا۔ موجودہ زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ عین خدا کی منشا کے مطابق تھا۔ وہ اس لیے تھا کہ اہل اسلام، سیاسی نزاع اور متشددانہ ٹکراؤ سے بچ کر اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر بنا سکیں۔ موجودہ زمانے میں ایسا کرنا عین ممکن بن چکا تھا، لیکن ٹکراؤ کی متشددانہ سیاست نے سارے امکانات کو تباہ کر دیا۔
سیاسی اقتدار کی اصطلاحوں میں سوچنے کے بہت نقصانات ہوئے۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے کئی امکانات کو مسلم رہ نما بالکل سمجھ نہ سکے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ایک جدید
ظاہر وہ پیدا ہوا، جس کو گلوبل ولیج اور گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک عظیم نعمت تھی۔ خصوصاً اسلامی دعوت کے لیے اُس نے عالمی مواقع کھول دیے، مگر بگڑے ہوئے ذہن کی بنا پر مسلم رہ نما اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے اور غیر ضروری طور پر اُس کے مخالف بن گئے۔
اسی منفی ذہن کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں نے جگہ جگہ علحدگی پسندی اور سپریشن کی تحریک چلادی۔ آج کا زمانہ یونی ورسلائزیشن کا زمانہ تھا، مگر انھوں نے مسلمانوں کو محدودیت کے خول میں بند کرنے کی ناقابل فہم غلطی کا ارتکاب کیا۔ یہ اتنی بڑی غلطی تھی کہ اس کے بعد ان رہ نماؤں کا کوئی بھی کارنامہ اس غلطی کی تلافی نہ کر سکا۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے کسی مؤثر ملی عمل کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ انھوں نے ماضی میں غلط نشانہ بنایا۔ اس غلطی کا کھلا اعتراف کرنے کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ مسلمان موجودہ سیاسی ٹکراؤ اور جہاد کے نام پر مسلح عمل کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ اُس کے بعد مسلمانوں کے لیے عمل کا جو نشانہ بنے گا، وہ دو نکاتی فارمولے پر مشتمل ہوگا— اپنی نئی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم میں آگے بڑھانا، اور دعوۃ ورک کو اپنا نشانہ قرار دینا۔ اس کے سوا کوئی اور لائحۂ عمل، مسلمانوں کو اعلیٰ کامیابی تک پہنچانے والا نہیں۔
الـرسالہ کے قارئین سے گزارش ہے کہ اسلام کے پیغام کو بے آمیز اور قابل فہم صورت میں ہر خاص و عام تک پہنچانے کی غرض سے اپنے اپنے علاقوں میں دار المطالعہ (study centre) اس مقصد کے لیے الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں (اردو اور انگریزی) نصف قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں خط و کتابت کا پتہ یہ ہے:
1 Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com