Al-Risala · November 2007

اسماۂ حسنیٰ اور اسم اعظم

Al-Risala, November 2007, pp. 13–4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ولله الأسماء الحسنی (الأعراف: 180) یعنی اللہ کے لیے ہیں اچھے نام (best names)۔ یہ بات قرآن میں چار مقامات پر کہی گئی ہے (الأعراف: 180؛ الإسراء: 110؛ طه: 8؛ الحشر: (24) یہاں نام سے مراد نام نہیں ہیں، بلکہ صفات (attributes) ہیں، یعنی تمام اچھی صفتیں خداہی کے لیے ہیں۔

اسماۂ حسنیٰ کی تعداد کیا ہے، ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اسماۂ حسنیٰ کی تعداد بتا وے ہے۔ علما نے اسماۂ حسنیٰ کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، چناں چہ وہ کہتے ہیں کہ اسماۂ حسنیٰ کی تعداد ایک ہزار تک ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 269)۔ مگر اس معاملے میں تعداد کی حیثیت اضافی ہے۔ یہ تعداد دراصل، انسانی فرہنگ یا مجموعۂ الفاظ (vocabulary) کے اعتبار سے ہے۔ انسانی زبان کے الفاظ محدود ہوتے ہیں، لیکن خدا ایک لامحدود ہستی ہے، اس لیے خدا کی صفات بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسماۂ حسنیٰ کی ننانوے تعداد گویا کہ خدا کی نمائندہ صفات ہیں۔ اس اعتبار سے خدا کی بقیہ صفات بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر انھیں بنیادی صفات میں شامل ہیں۔ خدا کے ننانوے نام ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں : عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنّ لِلَّهِ تسعة وتسعين إسماً، مأة إلّا واحداً. مَن أحصاها دخل الجنة (صحيح البخاری، باب لله مأة إسم غير واحدة، صحيح مسلم، كتاب الذكر والدّعاء) یعنی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا— اللہ کے ننانوے نام ہیں، سَو میں ایک کم۔ جس شخص نے اُن کا احصا کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اس حدیث رسول میں ’احصاء‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ احصا کا مطلب مجرد شمار کرنا نہیں ہے،

بلکہ اس سے مراد اسماء حسنیٰ کا عارفانہ ادراک ہے۔ عربی کے مشہور لغت 'المعجم الوسیط' میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أحصی الشیئ: أی عرف قدرہ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں 'احصاء' سے مراد احصاء شعوری ہے، نہ کہ احصاء لسانی، یعنی اسماء حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انھیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا، اُن کا احصاء کرنا ہے۔ اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں، وہ بلاشبہ جنت میں جائیں گے، کیوں کہ جنت دراصل معرفتِ خداوندی کی قیمت ہے۔

حدیث میں ننانوے کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علما سے نقل کیا ہے کہ: إنّ لله خمسة الالاف إسم۔ یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ (19)، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ حدیث میں اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے بتائی گئی ہے۔ قرآن کا مطالعہ کرکے علما نے یہ تمام اسماء حسنیٰ نام بہ نام دریافت کیے ہیں، لیکن یہ نام خدا کے لامتناہی کمالات کی مطلق گنتی کو نہیں یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر جب عبدیت جاگتی ہے اور شعورِ خداوندی اُس کے اندر بیدار ہوتا ہے تو فطری طور پر اُس کے اندر مختلف قسم کی ربانی کیفیات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل، انھیں ربانی کیفیات کے لیے موزوں الفاظ (appropriate words) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مثلاً انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، جو کہ احسن تقویم کا نمونہ ہے (التین: 4)۔ وہ نیچر پر غور کرتا ہے، جس میں ہر چیز حیرت انگیز طور پر اپنے آخری ماڈل پر ہے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور کرتا ہے، جس میں کہیں کوئی خلل یا نقص موجود نہیں (الملک (3)۔ یہ سوچ اور یہ مشاہدہ آدمی کے اندر ایک پُرتموج تجربہ (thrilling experience) پیدا کرتا ہے۔ اُس وقت آدمی بے اختیارانہ طور پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ اُس کے پاس ایسے موزوں الفاظ ہوں، جن کے ذریعے وہ ان لطیف احساسات کا اظہار

اُس وقت ، قرآن اُس کی عین طلب کے مطابق، اُس کو یہ الفاظ فراہم کر دیتا ہے: فتبارک اللہ احسن الخالقین (المؤمنون: 14)

Printed page