خدا کے نام میں الحاد
Al-Risala, November 2007, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی صفات کی یہ تعداد دراصل الحاد کے مقابلے میں بتائی گئی ہے، جیسا کہ خود قرآن میں آیا ہے الحاد کے معنی انحراف (deviation) کے ہیں۔ یہ الحاد یا انحراف سب سے زیادہ فلسفے میں کیا گیا ہے۔ فلسفے میں خدا کا تصور ایک بے صفاتی شخصیت (attributeless being) کے طور پر کیا گیا ہے۔ اسی فلسفیانہ تصور کے زیر اثر، ہندوازم میں نراکار خدا (formless god) کا عقیدہ پایا مشہور جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل (Friedrich Hegel) نے اس کو روحِ عالم (world spirit) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک اور فلسفی نے اس کو مجرد تصور (abstract idea) قرار دیا ہے۔ یہ فلسفیانہ تصور، بعض بڑے مذاہب کی اعتقادیات میں بھی داخل ہو گیا۔ اس تصور کے مطابق، خدا کی کوئی مستقل اور علاحدہ شخصیت نہیں۔ وہ ایک بے شخصیت اور بے صفات ہستی ہے، یعنی زمین کی قوت کشش (gravity) یا کاسمک ریز (cosmic rays) کی طرح۔ قرآن میں اسماءِ حسنیٰ کا بیان دراصل اسی فلسفیانہ گمراہی کی تردید کے طور پر آیا ہے، نہ کہ اسماءِ الہیٰ کی متعین تعداد کو بتانے کے لیے۔ فلسفے میں یا اُس سے متاثر مذاہب میں خدا کا تصور خالق کے طور پر نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس تصور کے مطابق، تخلیق کے تمام مظاہر خود خدا کا اپنا ظہور ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مجرد فلسفیانہ قیاس ہے۔ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ کائنات میں متنوع مظاہر پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف ایک بے بنیاد قیاس ہے کہ ایک ایسا مفروضہ خدا، جو ہر قسم کی صفات سے کلی طور پر خالی ہو، وہ متنوع تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہو جائے۔ اس قسم کے تضادات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا مذکورہ تصور محض ایک فلسفیانہ قیاس ہے، اُس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔