Al-Risala · November 2007

سائنسی مطالعہ

Al-Risala, November 2007, pp. 4–7

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں فطرت کے سائنسی مطالعے کے بعد خدا کے متعلق یہ فلسفیانہ تصور عملاً بے اصل

ثابت ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ کائنات کے اندر کمال درجے میں معنویت (meaning) پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی معنویت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اُس کا خالق ایک ذہن (mind) ہو۔ چناں چہ سائنس میں خدا کا نام نہ لیتے ہوئے یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا ایک ذہین نقاش (intelligent designer) ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر 2007، سائنس اور الہیات)۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسے خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے، جو متنوع صفات کا حامل ہو۔ اِس طرح سائنسی مطالعے میں کائنات اگرچہ آخری طور پر ایک ہی یونٹ (atom) کا مختلف ظہور ہے، لیکن یہ ایٹم حیرت انگیز طور پر مختلف اور متضاد قسم کی بامعنی چیزوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی فطرت اور خارجی کائنات، دونوں اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات میں ایک طرف بہت زیادہ اختلاف اور تنوع ہے اور دوسری طرف کائنات کے مختلف اجزا میں غیر معمولی ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا ذہن یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کی متنوع حیثیتوں کا تصور کر سکے۔ قرآن میں مذکور اسماء حسنی اسی سوال کا جواب ہیں۔ خدا کا فزیکل ماڈل خدا کا عقیدہ انسان کے اندر ہمیشہ سے پایا گیا ہے۔ اینتھر اپالوجی (anthropology) کے تحت جو مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسانی سماج کسی نہ کسی اعتبار سے خدا کو مانتا رہا ہے۔ خدا کا عقیدہ فلسفیوں کے یہاں بھی پایا گیا ہے اور اہل مذاہب کے یہاں بھی۔ فلسفہ اور مذہب دونوں میں خدا کا عقیدہ ایک بے صفات خدا (attributeless God) کی حیثیت سے پایا جاتا رہا ہے، یعنی کاسمک ریز (cosmic rays) یا زمین کی قوت کشش (gravity) کی مانند۔

لیکن مجرد خدا (abstract God) انسان کی ذہنی گرفت میں نہیں آتا۔ انسان خدا کا ایک ایسا ماڈل بنانا چاہتا ہے، جس میں وہ خدا کو صفات کی اصطلاحوں (in term of attributes) میں قابل فہم

انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے غیر فطری اظہار کے نتیجے میں بت وجود میں آئے۔ کی یہ کمزوری ہے کہ وہ الفاظ یا ناموں کے ذریعے کسی حقیقت کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ طرح مختلف بُت ، انسان کو مختلف الفاظ یا نام دے دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بزعمِ خود ایک ماڈل کے روپ میں خدا کا ادراک کرتا ہے۔ انسان نے اپنی اِسی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے غلط طور پر بت بنائے اور ان کی پرستش شروع کر دی۔

لیکن بتوں کی شکل میں خدا کا ماڈل بنانا، ایک بے بنیاد قیاس ہے، کیوں کہ خدا کو بتوں کا روپ دینا ایک لامحدود ہستی کو محدود کا روپ دینا ہے، یہ خدا کا ایک بگڑا ہوا فارم ہے۔ یہ خدا کے نام پر خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔

بت چوں کہ مٹی یا پتھر کے ہوتے ہیں اور انسان خود ان بتوں کو بناتا ہے۔ خدا کو بتوں کی شکل دینے کے باوجود ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف مٹی اور پتھر ہیں، اُن کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ اس لیے بتوں کی سطح پر خدا پرستی عملاً صرف ایک بے روح رسم بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بتوں سے قلبی ربط قائم کر سکے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ رسمی اعمال، خدا پرستی کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آدمی خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح رسموں، مثلاً پھول چڑھانے یا نذر و نیاز دینے کو خدا پرستی کے لیے کافی سمجھ لیتا ہے۔

مزید یہ کہ آدمی خدا کے نام پر بتوں سے قریب ہوتا ہے، لیکن بتوں کی طرف سے جوابی طور پر اس کو کوئی انسپریشن (inspiration) نہیں ملتا، انسان داخلی طور پر اپنے لیے کوئی روحانی غذا نہیں پاتا، اس لیے بتوں کا کلچر محض ایک بے روح تعلق بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں سے قربت کے باوجود انسان کو اتنی بھی روحانی کیفیت نہیں ملتی جتنا کہ ایک باپ یا ماں کو اپنے بچے سے مل کر حاصل ہوتی ہے۔ انسان ایک باروح شخصیت ہے۔ اپنی اس فطرت کے اعتبار سے اس کو ایک باروح خدا درکار پتھر کی مورتی سے اس قسم کا روحانی تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ روحانی تعلق دو طرفہ تعلق کا نام ہے۔ ہمارے اندر کیفیات ہوں، لیکن دوسری طرف سے اس کا جواب نہ ملے تو اس قسم کا یک طرفہ تعلق صرف

اوپر یا غیر فطری تعلق ہو گا ، وہ انسان کی زندگی میں کوئی حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہ واقعہ ایک اور شدید تر خرابی پیدا کرتا ہے ، وہ یہ کہ بت کلچر آخر میں جھوٹ کلچر یا ظاہر داری کلچر بن کر رہ جاتا ہے ۔ بتوں کے اندر خدائی اوصاف ثابت کرنے کے لیے فرضی کہانیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو خوب شہرت دی جاتی ہے ، تا کہ بتوں کا جو فائدہ حقیقی طور پر نہیں ملا ، ان کے بارے میں لوگوں کو یہ فرضی تاثر دیا جائے کہ وہ حاصل ہوئے ، یا وہ حاصل ہو سکتے ہیں ۔

بت پرستی کا یہی ظاہر ہ (phenomenon) قبر پرستی کی دنیا میں بھی نظر آتا ہے ۔ لوگ صاحب قبر کے نام پر انتہائی بے بنیاد قسم کی فرضی کہانیاں وضع کرتے ہیں ۔ وہ جھوٹے خوابوں کا طلسم بناتے ہیں اور پھر ان فرضی کہانیوں اور فرضی خوابوں کو اس طرح پھیلاتے ہیں جیسے کہ وہ سچ مچ واقعہ ہوں ۔ اس طرح اصنام کلچر اور درگاہ کلچر انسان کو دیوالیہ پن کی حد تک اعلیٰ اخلاق سے دور کر دیتا ہے ۔

انسان عین اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے ایک جذباتی وجود ہے ۔ جذبات کا تفرق (diversification) ممکن نہیں ۔ انسان فطری طور پر اپنے جذبات کا کوئی ایک مرکز چاہتا ہے ۔ جذبات کا کئی مرکز ہونا ایک غیر فطری بات ہے جو عملاً ممکن نہیں ۔ بت پرستی اس معاملے میں بھی انسانی نفسیات سے ٹکرا جاتی ہے ۔ فطری طور پر انسان کسی ایک ہی چیز سے جذباتی تعلق قائم کر سکتا ہے ۔ بت پرستی کے مذہب میں چوں کہ یہ مراکز متعدد ہو جاتے ہیں ، اس لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی خدا پرستی سرے سے ختم ہو جاتی ہے ۔ خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح مظاہر باقی رہتے ہیں ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

Printed page