اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل
Al-Risala, November 2007, pp. 8–12
By Maulana Wahiduddin Khan
اسماء حسنی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسماء حسنی کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں خدا کا تصور اپنے ذہن میں لائے، وہ حقیقی طور پر خدا سے مربوط ہو سکے۔ بت پرستی کے مذہب میں انسان، خدا کے فزیکل ماڈل (physical model) بناتا ہے۔
اس قسم کے ماڈل بنانا ایک سنگین انحراف ہے، وہ خدا پرستانہ کلچر کو ایک بے روح رسم بنا کر رکھ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصنام کلچر یا درگاہ کلچر خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ بت پرستی کے کلچر میں یا قبر پرستی کے کلچر میں اعلیٰ خدائی اخلاقیات کبھی پرورش نہیں پا سکتے۔ اسماء حسنیٰ گویا کہ اسی غلطی کی تصحیح ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان کو خدا کا تصوراتی ماڈل (conceptual model) مل جاتا ہے۔ اور بلاشبہہ خدا کا تصوراتی ماڈل ہی صحیح ماڈل ہے۔
کی شکل میں آدمی اُن صحیح الفاظ کو پالیتا ہے جن کے ذریعے وہ خدا سے تصوراتی ربط قائم کرسکے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے خدا سے جو تعلق قائم ہوتا ہے، وہ ایک زندہ اور معلوم تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ خدا ایک ہو اور وہ زندہ اور قائم خدا ہو۔ اب جب وہ کہتا ہے کہ: الله لا إله إلا هو الحي القيوم (ال عمران: 2) تو وہ عین اپنی فطری مانگ کے مطابق، فوراً خدا کا ایک حقیقی ماڈل پالیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسماء حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط (contact at conceptual level) کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھر پور جواب (complete response) ہیں۔
اسماء حسنیٰ، انسان کے لیے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان، خدا کی صفاتی شخصیت کا یقینی تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اسماء حسنیٰ خدا کا وہ تصوراتی ماڈل ہے جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں، بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہے۔ وہ اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سر چشمہ عطا کرتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کے ذریعے انسان اُس صحیح فریم ورک کو پالیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لیے پوری طرح قابل فہم (understandable) بناسکے۔ اسماء حسنیٰ اور دیگر مذاہب اسماء حسنیٰ کا مطالعہ تاریخی نقطہ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسماء حسنیٰ کا تصور (concept) اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اُس کے اندر خدا کے بارے میں اسماء حسنیٰ کا تصور پایا
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چناں چہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا، دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا
کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی (symbolic God) کی ہے، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے۔ یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل (عہد نامہ قدیم) آپ اِس کتاب کا مطالعہ کریں تو اُس میں اسماء حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔ ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے، اُس کے بارے میں ’’میں جو ہوں، سو میں ہوں‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں:
تب موسیٰ نے خدا سے کہا: جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُن کو کہوں کہ تمھارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے، تو میں اُن کو کیا بتاؤں۔ نے موسیٰ سے کہا: میں جو ہوں، سو میں ہوں۔ سو تو، بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے (خروج 13, 14 : 3)
اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ (بائبل) کہا جاتا ہے۔ عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گیے تو اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: الوہی، الوہی، لما شفقتی، یعنی اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا: My God, my God, why have You forsaken me. (Mark, 15:34)
مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح کا سولی پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا، وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کے عقیدہ (atonement) کے مطابق، خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھ جائیں، اور انھوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق، خدا، تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹری نٹی (trinity) کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔ اس عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔
ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ، انسان کے لیے خدا کے معاملے میں یقین کا
سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ اِس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔ اُس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکم رانوں سے محفوظ رکھ ایسا خدا، دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اُس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے، مگر مسیحیت، انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔
اس کے بعد اِن مذاہب کو لیجیے جن کو آرین مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی ہندوازم، وغیرہ۔ مذاہب میں پرسنل گاڈ (personal God) کا تصور موجود نہیں۔ ان مذاہب میں اگرچہ خدا کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک علامتی لفظ ہوتا ہے، کیوں کہ ان مذاہب میں عقیدۂ خدا کے تشخص کے لیے کسی مستقل وجود کا کوئی تصور نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، آرین مذاہب میں خدا کو نراکار (formless God) مانا جاتا ہے۔ کے عقیدے کے مطابق، خدا ’نرگن‘ ہے، یعنی اُس کی کوئی صفت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خدا کو ایک متعین ہستی کے طور پر اپنے ذہن میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں خدا کی کوئی عبادت گاہ نہیں ہوتی۔ اُن کے یہاں بتوں کی پرستش ہوتی ہے یا گرؤوں کی۔ بت یا گرو کا تشخص اُن کو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کا تشخص اُن کے لیے قابلِ تصور نہیں ہوتا۔ عقیدۂ خدا اور اسماء حسنیٰ خدا کا عقیدہ انسان کے لاشعور میں پیوست ہے۔ انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت، اس لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کا تصور انسان کی اسی فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ کی حیثیت ایک فکری ماڈل کی ہے۔ یہ انسان کے اپنے فریم ورک کے مطابق، خدا کی ہستی کو اُس کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔
مختلف مذاہب میں خدا کی ہستی کے مختلف ماڈل بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے دو ماڈل زیادہ معروف ہیں— آکار ماڈل اور نراکار ماڈل، مگر یہ دونوں انسانی فریم ورک کے اعتبار سے انسان کے
لیے قابل فہم ماڈل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ماڈل صرف کاغذ میں یا لفظوں میں پائے جاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں انسانی شعور کا حصہ نہ بن سکے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بُت کا ماڈل، ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا بظاہر ایک فارم تو ہے، مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی (powerless) ہے۔ دوسری طرف، نزا کار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت، کشش ارض (gravity) کی طرح بے صفاتی (attributeless) ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل، انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں، وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء حسنی دراصل اسی خلا کو پر کرتے ہیں۔