اسماء حسنی: تلاش فطرت کا جواب
Al-Risala, November 2007, pp. 12–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسماء حسنی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (seeking animal) ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔
اسماء حسنی دراصل اسی سوال کا جواب ہیں۔ اسماء حسنی کا مطلب ہے، صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسماء حسنی کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اُس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔ چناں چہ جب کوئی انسان اِن اسماء حسنی کو اُن کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اُس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اُس کا تعارف اُس کو اسماء حسنی کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام 'الغنیٰ‘ ہے۔ غنی کے لفظی معنی بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام
حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔ بعد جب انسان اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اُس کو اُس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: یايُّها الناس أنتم الفقراء إلى الله، والله هو الغنيُّ یعنی اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے (فاطر: 15)۔ اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے—پانی غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔
انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو ان تمام ضروری چیزوں کو اُس کے لیے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اُس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس محسنِ اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے، وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اُس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں اُس کو رہنمائی ملتی ہے۔
خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام ’الرَّزّاق‘ ہے ۔ انسان جب خدا کو رُزاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اچانک اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی طلب کا جواب پا لیا۔ حقیقت ہے، جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: إنَّ الله هو الرَّزّاق ذو القوَّةِ المتين۔ یعنی بے شک، اللہ ہی رزق دینے والا، زور آور، زبردست ہے (الذّٰریات: 58)
اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا جس میں انسان کو زندگی گزارنا ہے، وہ اس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اُس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تمناؤں کے زیر اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں
کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے اپنے آپ کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں وہ اپنے لیے تسکین کا سامان پالیتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام ”الغفور“ ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پالیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہ نما ہے: قُلْ یا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً، إنَّهُ هو الغفور الرّحيم۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے (الزمر: 53)۔