پوائنٹ آف ریفرنس
Al-Risala, November 2007, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں خدا کے جو اسماءِ حسنیٰ بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہ نمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کرسکیں اور اُس کی مختلف صفات (attributes) کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کرسکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لیے تمام اچھے نام ہیں، اُس کے بعد فوراً یہ ارشاد ہوا ہے— پس تم انھیں اچھے ناموں سے خدا کو پکارو، اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو، جو خدا کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں (الأعراف: 180)، یعنی انھیں ناموں کے ذریعے خدائے کامل الصفات کا تصور قائم کرو، نہ کہ اُن ناموں کے ذریعے جو دوسروں نے خود ساختہ طور پر بنا لیے ہیں۔ خدا کیا ہے۔ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز (helplessness) کی تلافی ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجزِ مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادرِ مطلق۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقعے پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ اس کام میں انسان کے لیے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خدا کے یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے جن خدائی حوالوں کا محتاج ہے، وہ تمام خدائی حوالے ان ناموں کے اندر موجود ہیں۔ آدمی کے اندر جب بھی اپنے عجز، اپنی عبدیت، اور اپنی حیثیتِ انسانی کے اعتبار سے کوئی جذبہ جاگتا ہے تو یہ خدائی نام اُس کو فوراً ایک رہ نما لفظ دے دیتے ہیں۔ ان رہ نما الفاظ کے ذریعے سے وہ اُسی طرح خدائے رب العالمین سے مربوط ہو جاتا ہے، جس طرح ٹیلی فون پر ایک نمبر ڈائل کر کے وہ اپنی مطلوب شخصیت سے فی الفور ربط قائم کر لیتا ہے۔