چند مثالیں
Al-Risala, November 2007, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (truth-seeking animal) اس چھپی ہوئی فطرت کے زیر اثر آدمی کے اندر یہ جذبہ جاگता ہے کہ کوئی برتر ہستی ہو جو اُس کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائے۔ اُس وقت وہ پکار اٹھتا ہے کہ اے خدائے ہادی، تو مجھ کو اپنی رحمتِ خاص سے ہدایت عطا فرما۔
موجود دنیا میں انسان بار بار ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اُس وقت اُس کی فطرت میں چھپا ہوا جذبہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بالاتر ہستی کو یہاں وہ اسماءٔ حسنیٰ میں اس بالاتر ہستی کا ایک متعلق خدائی نام پال لیتا ہے اور اُس کے حوالے سے وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا، تو ہی میرا ناصر ہے، تو ہر اعتبار سے میری مدد فرما۔ انسان مجرد طور پر نہیں سوچ سکتا۔ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے انسان کو ہمیشہ الفاظ درکار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ کسی تصور کو اپنے ذہن میں لا سکے۔ خدا کے اسماءٔ حسنیٰ کی نوعیت یہی ہے۔ یہ اسماءٔ حسنیٰ یہ بتانے کے لیے نہیں ہیں کہ مطلق طور پر خدا کے نام کیا ہیں، وہ صرف اُن اسماء کو بتاتے ہیں جو انسان کی نسبت سے ہم کو درکار ہیں۔ گویا کہ یہ اسماءٔ حسنیٰ ضرورتِ انسانی کے اعتبار سے بتائے گئے ہیں، نہ کہ خود ذاتِ خداوندی کی حقیقتِ اعلیٰ کے اعتبار سے۔
اسماءٔ حسنیٰ سے مراد صفاتِ حسنیٰ ہیں، مگر اسماءٔ حسنیٰ خود خدا کی مطلق نسبت سے خدا کا تعارف نہیں
ہیں، وہ انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ دراصل، ذکر اور دعا کے لیے انسان کو پوائنٹ آف ریفرنس دیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو رزق درکار ہے تو وہ خدا سے کہہ سکے کہ ــــ اے رزّاق، تو مجھے رزق دے دے۔ ایک شخص اپنے کو عاجز محسوس کرتا ہے تو وہ کہہ سکے کہ ــــ اے قادرِ حقیقی، تو میرے عجز کی تلافی فرما۔