Al-Risala · November 2007

پُر اسرار نہیں

Al-Risala, November 2007, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اسماءِ حسنیٰ کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ حروف مقطّعات کی مانند کچھ پُر اسرار الفاظ ان الفاظ کے اندر کوئی معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، جیسے کہ جادوگروں کے منتر میں ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اُن کو یاد کر کے اُن کا ورد کرتے رہیں۔ اور پھر پُر اسرار طور پر ہمیں ان کے انوکھے فوائد ملتے رہیں گے۔ اکثر لوگوں کے دماغ میں اسی قسم کا تصور بسا ہوا ہے۔ مگر اسماءِ حسنیٰ کے بارے میں اِس قسم کا تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کسی بھی درجے میں پُر اسرار الفاظ نہیں، وہ پورے معنوں میں ایک معلوم اور بامعنی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ کا معاملہ بلاشبہ انسان کے لیے ایک عظیم رحمت کا معاملہ ہے۔ مگر یہ رحمت کوئی پُر اسرار رحمت نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی رحمت ہے جو پوری طرح ہمارے معلوم دائرے کی چیز ہے اور علمی طور پر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔

اسماءِ حسنیٰ دراصل، خدا کی رحمتوں کے معلوم دروازے ہیں۔ قرآن میں ان دروازوں کو اس لیے کھولا گیا ہے کہ آدمی ان کی دریافت کرے اور ان کے راستے سے گزر کر وہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں پہنچ جائے ۔ اسماءِ حسنیٰ گویا کہ رحمتِ خداوندی کے ابوابِ حسنیٰ ہیں۔ اسماءِ حسنیٰ ہم کو خدا سے مربوط کرنے کا اسماءِ حسنیٰ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی وہ کلیدِ معرفت ہے جو ہمارے دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے اور ہم کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔

Printed page