اسماءِ حسنیٰ اور انسان
Al-Risala, November 2007, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں کمیونیکیشن کی تاریخ بتائی گئی ہو۔ اِس کتاب میں
نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسے نام ہوں۔ اس کتاب کو ایک شخص پڑھے، خواہ وہ کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو، لیکن اگر نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسی چیزوں کو اُس نے دیکھا نہ ہو تو وہ ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔ اس قِسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک ناواقف انسان کے لیے وہ صرف ایک معمہ بن کر رہ جائے گی۔
ایسا ہی کچھ معاملہ اسماءِ حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ، قرآن اور حدیث میں نام بتا دیے گیے ہیں، لیکن ان ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کے لیے ایک نامعلوم چیز کی دریافت (discovery) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اُس وقت جان سکتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر اُن کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کے لیے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفتِ خداوندی کا خزانہ۔