Al-Risala · November 2007

اسمِ اعظم

Al-Risala, November 2007, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اسماءِ حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا اسمِ اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس سلسلے میں مسند امام احمد کی دو روایتیں اس طرح ہیں:

عن أنس بن مالك أنّ النبى صلى الله عليه وسلم سمع رجلاً يقول:

اللهم إنى أسئلك أنّ لك الحمد، لاإله إلا أنت وحدك، لا شريك لك، المنان، بديع السموات والأرض، ذاالجلال والإكرام۔ فقال النبى صلى الله عليه وسلم: لقد سألتَ الله بإسم الله الأعظم، الذى إذا دُعى به أُجاب، وإذا سُئل به أعطى (جلد 3، صفحہ 120)۔

عن عبد الله بن بُريدة عن أبيه قال: سمع النبى صلى الله عليه وسلم

رجلاً يقول اللهم إني أسئلك بأنّي أشهد أنك أنت الله، الذى لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذى لم يلد و لم يُولد، ولم يكن له كفواً أحد، فقال: قد سألت الله بإسم الله الأعظم، الذى إذا سُئل به أُعطى، وإذا دُعى به أُجاب (جلد 5، صفحہ 350)۔ ترجمہ: انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ تیرے ہی لیے حمد ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرا کوئی شریک تو بڑا احسان کرنے والا ہے۔ زمین اور آسمان کو کسی نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ عزت اور کبریائی والا ہے۔ یہ سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ کو اُس کے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا، جس کے ساتھ اُس کو پکارا جائے تو وہ ضرور پکار کا جواب دیتا ہے، اور جب اُس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔

عبداللہ بن بُریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہیں ہوئے سُنا کہ: اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ تو اکیلا ہے، تو بے نیاز ہے۔ تو نے نہ کسی کو جِنا اور نہ تجھے کسی نے جنا۔ اور تیرے برابر کوئی یہ سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اُس کے اُس اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے، جس کے ساتھ اُس سے مانگا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے۔ اور جب اُس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ضرور اُس کو قبول کرتا ہے۔

دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اُس کے اور کئی صفاتی نام آئے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہوسکتا۔ اگر اسمِ اعظم کوئی ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف وہی ایک نام ہوتا، جب کہ اس دعا میں واضح طور پر خدا کے کئی نام ہیں۔ اشارے کے باوجود اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھنا اور اُسی ایک نام کی تلاش میں لگے رہنا، بلاشبہ ایک غلطی ہوگی۔ اسمِ اعظم کسی لفظِ اعظم کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ مفہومِ اعظم کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے، بلکہ وہ خصوصی کیفیت کے

ساتھ خدا کو پکارنے کا نام ہے۔ اسمِ اعظم سے مراد، اسم اعظم نہیں ہے بلکہ کیفیتِ اعظم ہے۔ میں صحابی نے کسی رٹے ہوئے دعائیہ لفظ کو استعمال نہیں کیا، بلکہ جذبات کے وفور میں ان کی زبان سے کچھ خاص الفاظ نکل گئے، اسی کا نام اسم اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ اسمِ اعظم کا تعلق دراصل ربانی کیفیت سے ہے۔ کیفیت سے بھرے ہوئے الفاظ میں خدا کو پکارنے کا نام اسم اعظم ہے۔ مذکورہ حدیث میں ایک صحابی کی دعا کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دعا کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا اسم اعظم کی دعا تھی ۔ چوں کہ یہ دعا صحابی نے عربی زبان میں کی تھی، اس لیے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اسم اعظم والی دعا وہی ہے جو عربی زبان میں کی گئی ہو، غیر عربی زبان کی دعا اسم اعظم کی دعا نہیں۔

مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، صحابی نے جو دعا کی، وہ ان کی اپنی مادری زبان میں تھی، نہ کہ سادہ طور پر عربی زبان میں۔ دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کرنا، ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ دعا دل کے جذبات کا نام ہے، نہ کہ کسی زبان کے الفاظ کا نام۔ بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا (ابراهيم : 4)، یہی معاملہ دعا کا بھی ہے۔ طرح دعوت مخاطب قوم کی زبان میں ہوتی ہے، اسی طرح دعا، دعا کرنے والے کی اپنی مادری زبان میں ہوتی ہے۔

ایسا ماننا بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ اگر دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے، یا عربی زبان کی دعا کو افضل دعا بتایا جائے تو یہ دعا کی اصل روح کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ دعا کسی قسم کی تکرارِ الفاظ کا نام نہیں، دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار کا نام ہے، اور ایسی دعا ہمیشہ آدمی کی اپنی مادری زبان ہی میں ظہور میں آتی ہے۔

Printed page