Al-Risala · February 2007

دعوہ ایکٹوزم

Al-Risala, February 2007, pp. 49–3

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی مقصد کے حصول کے لیے ہمیشہ زبردست کوشش کرنی پڑتی ہے۔ پچھلے زمانے میں ایسی کوشش کو جدوجہد (struggle) کہا جاتا تھا۔ ایڈولف ہٹلر (وفات ۱۹۴۵) نے ۱۹۲۳ میں اپنی مشہور کتاب لکھی، جب کہ وہ جرمنی کی جیل میں تھا۔ اس کتاب میں اس نے اپنی ’’نازی تحریک‘‘ کا تعارف بیان کیا تھا۔ اس کتاب کا نام اس نے میری جدوجہد (My Struggle) رکھا۔ جرمن زبان میں اس کا نام مین کامف (Mein Kampf) تھا۔ موجودہ زمانے میں اس مفہوم کے لیے ایکٹوزم (activism) کا لفظ بولا جاتا ہے، جو بعض اعتبار سے زیادہ بامعنی ہے۔

عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر ایکٹوزم کے دو طریقے ہیں—وائلنٹ ایکٹوزم، اور نان وائلنٹ ایکٹوزم، مگر یہ تقسیم ناقص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک تیسرا طریقہ بھی موجود ہے اور وہ اسپرپچول ایکٹوزم ہے۔ اسپرپچول ایکٹوزم کا دوسرا نام دعوہ ایکٹوزم ہے۔ اس مضمون میں ہم اس تیسرے طریقے کے لیے دعوہ ایکٹوزم کا لفظ استعمال کریں گے۔ یہاں ان تینوں طریقوں کے بارے میں مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔

وائلنٹ ایکٹوزم (violent activism)

وائلنٹ ایکٹوزم میں آدمی کا طریقِ فکر کیا ہوا ہے، اس کا اندازہ چین کے کمیونسٹ لیڈر ماؤزی تنگ (Mao Tse-Tung) کے اس مشہور قول سے ہوتا ہے—طاقت بندوق کی نالی سے نکلتی ہے: Power flows from the barrels of gun. وائلنٹ ایکٹوزم ایک نگیٹیو ایکٹوزم ہے، اور یہ لا آف نیچر ہے کہ نگیٹیو ایکٹ سے کبھی پازیٹیو رزلٹ نہیں نکل سکتا۔ جو عمل اپنے آغاز میں منفی ہو، وہ اپنے اختتام پر بھی منفی ہی رہے گا۔ منفی آغاز کبھی مثبت انجام کا باعث نہیں ہوسکتا۔

وائلنٹ ایکٹوزم کا نتیجہ ہمیشہ بدترین تباہی کی صورت میں نکلتا ہے، جیسا کہ دوسری عالمی جنگ

میں ہٹلر کے ساتھ پیش آیا۔ جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر غالباً تاریخ کا سب سے بڑا جنگ جو اور سب سے بڑا تشدد پسند انسان تھا۔ اس نے جدید ترین مہلک ہتھیاروں کے ذریعے اپنا سیاسی مقصد حاصل کرنا چاہا، مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ آخر میں اس نے برلن کے ایک بنکر میں خودکشی کر لی، جب کہ اس کے تمام ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ آخروقت میں اس نے کہا تھا کہ اب جنگ کا دور ختم ہو چکا، اب اگر جنگ ہوگی تو اس میں کوئی فاتح نہ ہوگا۔ صرف یہ ہوگا کہ کچھ لوگ جنگ کی عمومی تباہی سے بچ جائیں گے :

Printed page