Al-Risala · November 2007

دعا کیا ہے

Al-Risala, November 2007, pp. 19–23

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کسی تکنکل واقعے کا نام نہیں، دعا ایک داخلی طوفان کا خارجی اظہار ہے۔ جب ایک انسان

خدا کو اُس کی عظمت و کبریائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے اٗس کو خدا کی موجودگی کا اتنا شدید احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا جب اٗس پر وہ طوفانی تجربہ گزرتا ہے، جس کو حدیث میں: ذَکَرَ اللہ خَالِیاً، فَفَاضَتْ عَیْنَاہ (البخاری، کتاب الرِّقَاق) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور شدتِ تاثر سے اٗس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اٗس نے دنیائے امتحان کے بارے میں سوچا، اٗس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا، وہ اٗن ربانی کیفیات سے گزرا، جب کہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اٗس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے جب اٗس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جب کہ سب کچھ اٗس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے، خدا کے سواہر چیز اٗس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔

ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اٗس کے دل و دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر اُمڈ پڑتا ہے۔ جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی۔ اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اُس کے اندر چھپی ہوئی ربانی فطرت الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اٗسی کا نام دعا ہے۔ یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسمِ اعظم کی زبان میں نکلتی ہے اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے، نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں دس سال سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن اب تک مجھے اٗس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا وہ کیا سوال ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسمِ اعظم کیا ہے۔ اِس سلسلے میں، میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سے علما اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر اب تک کسی نے اِس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ آپ کے پاس آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ مجھے اِس کا جواب دے کر میری پریشانی کو دور فرمائیں۔

میں نے کہا آپ کی پریشانی ایک خودساختہ پریشانی ہے۔ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اسمِ اعظم جادو کے منتر کی طرح کوئی منتر ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ منتر کا وہ لفظ آپ کو معلوم ہو جائے، مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔

میں نے کہا کہ اسمِ اعظم کسی لفظ کا نام نہیں ہے، بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ کیفیت اعظم کے ساتھ جو دعا کی جائے، وہی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ دراصل آپ کی اپنی قلبی کیفیت ہے جو کسی دعا کو اسمِ اعظم کی دعا بناتی ہے۔ کسی انسانی لفظ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خدا کا اسمِ اعظم بن جائے، وہ خدا کی لامحدود ہستی کا احاطہ کر لے۔

میں نے کہا کہ آپ ہی کی طرح کا ایک شخص تھا۔ اُس کو ایک خزانے کی تلاش تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ خزانہ فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک محل کے اندر رکھا ہوا ہے۔ اِس محل کے گیٹ پر ایک تالا لگا ہوا ہے۔ یہ تالا کسی کنجی سے نہیں کھلتا، بلکہ وہ ایک منتر سے کھلتا ہے۔ اب اِس کو اِس منتر کی تلاش ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک جگہ پہنچا۔ یہاں اُس کی ملاقات ایک سادھو سے ہوئی ۔ منتر کو جانتا تھا۔

اس نے سادھو سے درخواست کی کہ وہ اُس کو یہ منتر بتا دے۔ سادھو نے اُس کو وہ منتر بتا دیا۔ سادھو نے کہا کہ وہ منتر’’سم سم‘‘ ہے۔ تم فلاں پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ۔ وہاں تم کو ایک محل ملے گا۔ کے گیٹ پر ایک تالا لٹکا ہوگا۔ تم اُس کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا: کھل اے سم سم، کھل اے سم سم، پھر وہ تالا کھل جائے گا۔ وہ آدمی روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے بعد وہ محل کے گیٹ پر پہنچا، مگر اُس وقت وہ منتر کو بھول چکا تھا۔ وہ گیٹ کے سامنے کھڑا ہو کر دوسرے دوسرے الفاظ بولتا رہا۔ مثلاً کھل اے ٹم ٹم، کھل اے ڈم ڈم، کھل اے بم بم، مگر دروازہ نہیں کھلا۔ اب وہ وہاں سے واپس ہو کر دوبارہ سادھو کے پاس سادھو نے کہا کہ تم غلط منتر بول رہے تھے، اس لیے تالا نہیں کھلا۔ دوبارہ جاؤ اور سم سم کہو۔ منتر کو خوب اچھی طرح یاد کر لیا اور سفر کر کے دوبارہ وہاں پہنچا۔ اُس نے محل کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: کھل اے سم سم اور پھر فورا دروازہ کھل گیا۔

اکثر لوگ اسم اعظم کو اسی قسم کا ایک طلسماتی لفظ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کی سوچ بالکل غلط ہے۔ ایک حقیقت ہے کہ اسم اعظم ڈکشنری کے کسی لفظ کا نام نہیں، وہ انسان کی اپنی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ جب بھی کوئی سچا بندہ، اعلی قلبی کیفیات کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اُس کو فرشتوں کی مدد حاصل ہو جاتی اُس وقت اُس کے اندر سے مخصوص قسم کے ربانی الفاظ نکلنے لگتے ہیں، اِسی کا نام اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ اِس قسم کی دعا، خدائی الہام کے تحت ہوتی ہے اور وجودِ اِعخاندائی الہام کے تحت انسان کے دل سے نکلے، اٗس کا معاملہ وہی ہوتا ہے جو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں نظم کیا ہے: اجابت از در حق بہر استقبال می آید حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے، نہ کہ محض زبانی الفاظ سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں۔ مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو: خدایا! مجھے اپنا بنالے، مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہا ہے، تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں، اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی، خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے، آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے، آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بھری ہوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دے۔

آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھانی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے

بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں، مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا، جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر وہ کہے کہ خدایا، میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی۔ بخدا، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے—”کون ہے جو مجھ سے مانگے، تا کہ میں اسے دوں‘‘، مگر جنھیں لینا ہے وہ اس سے غافل بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔

Printed page