ایک واقعہ
Al-Risala, November 2007, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
رام پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لیے ایک بائیکل خرید دیجئے۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا، اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: میں نے کہہ دیا کہ میں بائیکل نہیں خرید سکتا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا، ورنہ میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد وہ روتے ہوئے
بولا ــــ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ۔ اس جملے نے باپ کو تڑپا اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا : اچھا بیٹے اطمینان رکھو، میں تمھارے لیے بائیسکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے ایک نئی بائیسکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطے پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا کہ وہ خود اس کے لیے بیٹے کے الفاظ نے باپ کو اس سنگین سوال سے دوچار کر دیا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو بائیسکل نہ دے تو اُس کی پدر یت (fatherhood) ہی مشتبہ ہو جائے گی۔
اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دعا کی وہ کون سی قسم ہے جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں ۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘‘ ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمّل زمین اور آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ’’مانگنے والا‘‘ اور ’’دینے والا‘‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا ، محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے ۔ اُس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں ۔ قادرِ مطلق ، عاجزِ مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔
اس واقعے پر غور کیجیے تو اس میں دونوں قسم کی دعا کی مثال نظر آئے گی۔ مذکورہ بچے نے جب پہلی بار اپنے باپ سے یہ کہا کہ مجھے ایک بائیسکل خرید دیجیے تو اْس نے گویا کہ صرف دعا کی، لیکن دوسری بار جب اُس نے روک کر یہ کہا کہ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے بائیسکل کے لیے نہ کہیں تو
اور کس سے کہیں ۔ جب بچے کی زبان سے یہ دوسرے الفاظ نکلے تو وہ گویا کہ ایک سپر دعا تھی۔ کے الفاظ سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا، لیکن دوسرے قسم کے الفاظ نے باپ کو پگھلا دیا۔ اب وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ فوراً بائیسکل خریدنے کے لیے تیار ہو گیا۔
اس مثال سے عام قسم کی دعا اور اسمِ اعظم کی دعا کا فرق سمجھا جا سکتا ہے۔ عام قسم کی دعا، محض دعائیہ الفاظ کو زبان سے دہرادینے کا نام ہے، لیکن اسمِ اعظم کے ساتھ کی گئی دعا گویا کہ سپر دعا ہے۔ ایسی دعا خود خدا کو ہلا دیتی ہے، جیسا کہ مظلوم کی دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: دعوة المظلوم تحمل على الغمام، وتفتح لها أبواب السماء، يقول الربّ عزّ وجلّ:
وعزّتي، لأنصرنّك ولو بعد حين (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 305)۔
دعا اور سپر دعا کا فرق، الفاظ میں فرق کا نام نہیں، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپرٹ میں فرق کا نام ہے۔ یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالتِ داخلی پر منحصر ہے کہ اُس کی زبان سے نکلنے والی دعا، سپر دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔