No Victors, Only Survivors.
Al-Risala, February 2007, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
ہٹلر کو تو جنگ میں مکمل شکست ہوئی تھی، لیکن جنگ ایسی تباہ کُن چیز ہے کہ اس میں فتح بھی شکست ہی کی ایک دوسری قسم ہوتی ہے۔ شکست نما فتح کی کئی واضح مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ ایسی فتح جس میں فاتح نے فتح کے باوجود اپنا سب کچھ کھو دیا ہو۔ بظاہر فتح، لیکن حقیقت کے اعتبار سے
قبل مسیح یونان میں پیدا ہونے والا بادشاہ پائرس (Pyrrhus) اس معاملے کی ایک مثال ہے۔ اس کی لڑائی مقدونیہ (Macedonia) کے حکمراں سے ۲۷۵ قبل مسیح میں ہوئی۔ اس لڑائی میں بظاہر پائرس کو فتح ہوئی، لیکن اس فتح کو حاصل کرنے میں اس نے اپنی ساری طاقت کھودی تھی۔ اس کے بعد اس کی سلطنت اتنی کمزور ہوگئی کہ ۲۷۲ قبل مسیح میں خود اس کو بھی قتل کر دیا گیا۔ چناں چہ اس قسم کی شکست نما فتح کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے۔
کسی مقصد کے حصول کے لیے ہتھیار کو بطورِ طریق کار استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی صورت موجودہ (status quo) کو توڑ کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ طریق کار کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورے سماج میں نفرت، تشدد، لا قانونیت، انارکی اور ان ٹالرنس جیسی منفی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج منفی سرگرمیوں کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ جس ماحول میں لوگوں کے اندر پر تشدد طریق کار کا مزاج ہو، وہاں ڈیموکریسی کبھی نشوونما نہیں
ایسے ماحول میں ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ جنم لیتی ہے۔ اور جہاں ڈکٹیٹر شپ ہو، وہاں آزادیِ رائے کا خاتمہ ہوجاتا ہے، اور آزادیٔ رائے کا خاتمہ ہمیشہ ذہنی ترقی کے خاتمے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ صورت حال کی ایک مثال ستاون مسلم ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ان ملکوں میں ہر جگہ ڈکٹیٹر شپ قائم ہے، اور اس کے نتیجے میں وہاں ذہنی ارتقا کا عمل رک گیا ہے۔ پُر تشدد طریق کار عملاً بدامنی کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ ایک فریق کی طرف سے تشدد کا استعمال دوسرے فریق کو تشدد کا جواز فراہم کر دیتا ہے۔ اس طرح پورا ماحول لازمی طور پر دو میں سے ایک بُرائی میں مبتلا ہو جاتا ہے— ذہنی تشدد، جس کا دوسرا نام نفرت ہے، یا عملی تشدد جو خوں ریزی کی صورت میں پورے سماج کو حیوانی سماج میں تبدیل کر دیتا ہے۔
پُر تشدد طریق کار کا سب سے زیادہ بھیانک نقصان یہ ہوتا ہے کہ ذہنی ارتقا کا عمل رک جاتا ذہنی ارتقا، لازمی طور پر آزادیٔ رائے چاہتا ہے۔ آزادانہ فکری عمل کے بغیر ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جن ملکوں میں ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم ہے اور نتیجۂ آزادیٔ رائے پر پابندی لگی ہوئی ہے، وہاں کوئی آدمی اتنا بڑا علمی کام نہیں کر پاتا کہ اس کو نوبل پرائز جیسا عالمی انعام دیا جائے۔ ایسے ملکوں میں پیدا ہونے والے کسی شخص کو اگر کوئی نوبل پرائز ملا ہے تو ایسا صرف اُس وقت ممکن ہوا ہے جب کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر مغرب کے آزاد ملکوں میں جا کر آباد ہو گیا ہو۔ نان وائلنٹ ایکٹوزم (non-violent activism)
موجودہ زمانے میں نان وائلنٹ ایکٹوزم ایک مستقل شعبۂ مطالعہ بن گیا ہے۔ مطالعہ کو آج کل پیسفزم کہا جاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں پیسفزم پردس صفحے کا مقالہ اس مقالے میں بہت سے لوگوں کو پیسفسٹ(pacifist) کی حیثیت سے بتایا گیا ہے۔ موضوع پر ایک انسائیکلو پیڈیا بھی چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے :
An Encyclopaedia of Pacifism (1937)
نان وائلنٹ کی کامیاب عملی مثال کے لیے اس میں صرف مہاتما گاندھی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
سمجھ جاتا ہے کہ پیسفزم کو بطور اصول ماننے والے تو بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن پیسفزم کی بنیاد پر ایک پوری تحریک اٹھانا اور اس کو کامیابی تک پہنچانے کا کام صرف مہاتما گاندھی نے کیا۔ لیکن اِس معاملے میں مہاتما گاندھی کی مثال صرف پچاس فیصد کی حد تک درست ہے۔ کہ اُن کے مشن کے دو حصے تھے۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ انڈیا سے برٹش رول کا خاتمہ کیا جائے، یہ کام ۱۹۴۷ء میں ہوگیا۔ ان کے مشن کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایک بہتر سماج کی تعمیر کی جائے، ایک ایسا سماج جس کی بنیاد’’سیوا‘‘پر قائم ہو۔ اِس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ماڈل گاؤں کے طور پر مہاراشٹر میں’’سیوا ا گرام‘‘کے نام سے ایک گاؤں بسایا تھا۔ حضرت مسیح کے الفاظ کو لیتے ہوئے انھوں نے اپنے اس مشن کو اس طرح بیان کیا تھا— میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پوچھنا ہے: My mission is to wipe away tears from all faces. مگر واقعات بتاتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کے مشن کا دوسرا حصہ ایک فیصد کے درجے میں بھی پورا نہیں ہوا۔ آزادی کے بعد جب مشن کے دوسرے حصے کے لیے کام کرنے کا وقت آیا تو خود مہاتما گاندھی کے اپنے ملک میں ۱۹۴۸ء میں اُن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے مشن کا دوسرا پہلو ہی اُس کا اصل پہلو تھا، مگر اس معاملے میں ان کے قریبی آدمیوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ مشن کے دوسرے پہلو کے اعتبار سے سخت مایوسی کی حالت میں مرے۔ اپنے آخری زمانے میں اِس کا اعتراف انھوں نے خود اِس طرح کیا تھا کہ انھوں نے کہا—”اب میری کون سُنے گا“۔ مہاتما گاندھی کے اس قول کو لے کر ایک کتاب لکھی گئی ہے جس کا ٹائٹل ان کا یہی قول ہے: