دو مثالیں
Al-Risala, November 2007, pp. 29–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اُس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں۔ ان دعاؤں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں اُن کو دہرانے لگا۔ مثلاً یہ دعا: ربّنا اتنا فی الدنیا حسنۃ، و فى الآخرة حسنۃ، وقنا عذاب النار۔ یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (البقرۃ: 201)۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔
اب سپر دعا کی ایک مثال لیجیے۔ اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی، جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنھوں نے مصر میں دعوت توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم،
حضرت موسیٰ کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ قدیم زمانہ ’النّاس علی دینِ مُلوکهم‘ کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا، سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا، اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا اور اُس کو وہ سزا دی جاتی تھی جو ریاست سے بغاو ت کے لیے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام رائج تھا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لیے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ بْنِ لِي عِنْدَکَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ۔ یعنی اے میرے رب، اپنے پاس میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے (التحریم: 11)
آسیہ کی اس دعا کو اُس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا۔ رب، میں نے تیرے لیے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لیے اپنے پڑوس میں ایک محل بنادے:
I sacrifice my seat in the palace of worldly king, O Lord, give me a better seat in your neighbourhood in the world hereafter. آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے لیے بعض علما نے درست طور پر کہا کہ : ما أحسن هذا الکلام، یعنی کتنی اچھی ہے یہ دعا (صفوة التفاسیر، جلد 3، صفحہ 412)۔
یہ دعا بلاشبہ، ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سقانہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اُس وقت اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اُس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر، دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہیے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لیے منتخب کر لینا چاہیے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھایا جائے۔
اس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلا شبہہ ایک سپرد عاطھی اور وہ فوراً ہی قبول ہوگئی۔ روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اُس کے محل کا چناں چہ آسیہ نے اس حال میں جان دی کہ اُس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے بلکہ وہ ایک نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی مرحلے سے ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ ۔ خدایا، میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تا کہ تو اگلے مرحلہ حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔ وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یوم الحساب (Day of Judgement) کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انھوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑ دیا تھا، اب اُن کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کر دو، تا کہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی اُکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔