Al-Risala · November 2007

اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ

Al-Risala, November 2007, pp. 31–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا، خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ توفیق صرف اُس انسان کو ملتی ہے جو اسمِ اعظم کی دعا سے پہلے اسمِ اعظم کی کیفیات میں جی رہا ہو۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ۔ وہ دراصل ’الانا يترشح بما فيه کا معاملہ ہے، یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اُس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا اور اُس کا وہ حال ہوا جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: اَو مَن كَان ميتاً فَأحيَيناه، وجعلنا له نوراً يمشى به فى النّاس۔ وہ شخص جو مُردہ تھا، پھر ہم نے اُس کو زندگی دی اور ہم نے اُس کو ایک روشنی دی کہ اُس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (الأنعام: 123)۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذِکرِ کثیر (الأحزاب: 41) میں جینے لگتا ہے، یعنی ہر

وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلیات کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہوتا ہے۔ کوئی خاص موقع اُس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اُس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر اُبل پڑتے ہیں۔ اُس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ ذہن سے نکلنے والی اسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ ایک صالح خاتون کا واقعہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اُس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ آسیہ کی زبان سے ایک دعا نکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ، وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ، وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچا لے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے (التحریم: 11)۔

یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جس کے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اُس وقت موت سے پہلے اُس کو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اُس کو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان اُس کو دکھا دیا (القرطبی، جلد 18، صفحہ 203)۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اُس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔ اس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی۔ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لمحات میں جی رہی تھی ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب فرعون کی سفاکی کا معاملہ پیش آیا تو اُس کی زبان سے فطری طور پر مذکورہ قسم کے ربانی الفاظ نکل پڑے۔ ایک تاریخی مثال سلطان عبد الرحمن الناصر (وفات : 961 ء) اسپین (اندلس) کا ایک مسلم حکمراں تھا۔

پچیس سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شان دار محل بنایا۔ یہ محل چار میل لمبی اور تین میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اس محل کا نام اس نے الزہرا رکھا۔ مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔

سلطان عبد الرحمن الناصر کو عمارتوں کا بہت شوق تھا۔ اس نے الزہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شان دار محل تعمیر کیے ۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل تین جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامع مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر (وفات: 966ء) نے جو خطبہ دیا، اُس میں نام لیے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شان دار محل بناتے ہو گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبارانہ حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو (الشعراء : 131-128)، تمھارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو، یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات گگر پر اٹھائی اور وہ عمارت اُس کو لے کر جہنم کی آگ میں ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ہے، ہمیشہ اُن کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی، یہاں تک کہ اُن کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے (التوبہ : 110-109)۔

اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ خطبے میں اگر چہ انھوں نے سلطان کا نام نہیں لیا، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں۔

تنقید، یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر

اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دین دار لوگ بھی اُس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں، مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا، مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آگیا۔

گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحكم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت سخت اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں اُن کے پیچھے کبھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھوں گا۔ کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے، آپ اُن کو معزول کر دیجیے اور اُن کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجیے، جو ایسی گستاخی نہ کرے۔ یہ سن کر سلطان غصے میں آ گیا۔ اُس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھارا بُرا ہو، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستے سے بھٹکا ہوا ہے، کیا اُس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتی (هذا ما لا يكون)۔

مجھے اُن کی باتوں سے چوٹ لگی، اس لیے میں نے اُن کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھائی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارے کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے (بل يصلّى بالناس حياتنا وحياته إن شاء الله تعالى)، چناں چہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اُس کے لڑکے نے بھی اُن کے مقام کو اُسی طرح باقی رکھا۔

اوپر جس واقعے کا ذکر ہوا، اُس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں، جو اگر کسی کے اندر ہوں تو اُس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا میں اگر پچاس فی صدا اسمِ اعظم کا حصہ ہے تو پچاس فی صد خود دعا کرنے والے کی ربانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبد الرحمن دونوں کے اندر

کم وبیش موجود تھی، اس لیے اُن کے ساتھ ایک عظیم دعا کی تاریخ شامل ہو گئی۔ حسب ذیل واقعہ اس معاملے میں ایک چشم گُشا مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔

Printed page