بارش شروع ہو گئی
Al-Risala, November 2007, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانے میں ایک بار اسپین میں قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر سجدے میں گرے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے آنسورواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے: خدایا، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا، حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصيتي بيدك، أتراك تعذّب بی الرّعيّة، وأنت أرحم الراحمين)
یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ، اب ضرور بارش ہوگی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبّار الأرض، رحم جبار السماء) چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہوگئی (الكامل في التاريخ، جلد 8، صفحہ 675)۔ زمین پر خشک سالی اس لیے آتی ہے، تاکہ آنکھوں کی خشک سالی ختم ہو۔ آسمان پر بادل اس لیے گرجتے ہیں، تاکہ لوگوں کے دل خدا کے خوف سے دھلیں۔ گرمی کی شدت اس لیے ہوتی ہے، تاکہ لوگ جہنم کی آگ کو یاد کر کے تڑپ اٹھیں۔
اس طرح کے واقعات کا نہایت گہرا تعلق، اسماء حسنی اور اسم اعظم کے معاملے سے ہے۔
وہ واقعات ہیں جو انسان کے اندر ربانی کیفیات کی پرورش کرتے ہیں، اور جس سینے کے اندر ربانی کیفیات کا یہ چشمہ جاری ہو جائے، وہی وہ انسان ہے جس کو اسماء حسنیٰ کی معرفت ہوتی ہے اور اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اسمِ اعظم کے ساتھ خدا وندِ عالم کو پکارے اور اُس کی پکار ضرور سنی جائے۔ خدا کے فضل سے مجھ کو اس قسم کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔ 30 دسمبر 2006 کو میں اپنی ٹیم (سی پی ایس) کے کچھ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں گیا۔ یہ گویا کہ ہماری اسپرچول آؤٹنگ (spiritual outing) تھی۔ اس موقع پر میرے دل سے ایک دعا نکلی، جو میری فہم کے مطابق ،اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے۔
جب ہم لوگ لودھی گارڈن کے اندر پہنچ گئے تو میں نے اپنی ٹیم کے افراد سے پوچھا کہ آپ لوگ جب یہاں پہنچے تو آپ کا پہلا احساس کیا تھا۔ لوگوں نے مختلف انداز سے اپنے اپنے تجربے پھر میں نے کہا کہ جب میں اس خوب صورت گارڈن کے اندر داخل ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں جنت کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ خوب صورت گارڈن میرے لیے جنت کا ایک بعید تعارف
میں نے اشک بار آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے مجھے ناقص جنت میں پہنچا دیا، اب تو اپنی رحمت سے مجھے کامل جنت میں بھی داخل کر دے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اور میرے ساتھی، پوری انسانی تاریخ میں، جنت کے لیے سب سے زیادہ غیر مستحق لوگ (least deseving candidates) اگر تو ہمارے کامل عدم استحقاق کے باوجود ہم کو اپنی جنت میں داخل کر دے تو یہ واقعہ تیری شانِ رحمت کے ایک نئے اظہار کے ہم معنی ہوگا۔ سارے زمین اور آسمان اور تمام فرشتے یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ خدا کی رحمتوں کا سمندر اتنا وسیع تھا کہ ہمارے جیسے آخری حد تک غیر مستحق افراد بھی تیری رحمتِ بے پایاں کے فیض سے محروم نہ رہے، تیری رحمتِ بے پایاں کتنی وسیع تھی کہ وہ تاریخ کے ان نااہل ترین افراد تک کا احاطہ کر رہی تھی۔