تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا
Al-Risala, November 2007, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار میں ایک مغربی ملک کے سفر پر تھا۔ اس دوران مجھے ایک اجتماع میں خطاب کے لیے بلایا گیا ۔ بلانے والے نے مجھ سے یہ نہیں بتایا تھا کہ مجمع کی نوعیت کیا ہوگی، اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا مجمع ہوگا۔ کسی غلط فہمی کی بنا پر میرے ذہن میں یہ آگیا کہ وہاں ہندوستان اور
پاکستان کے لوگ ہوں گے اور مجھے وہاں اردو میں خطاب کرنا ہوگا۔
یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے ہال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیوں کہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ خبر میرے لیے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کیے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ ہال کے ساتھ وہاں ایک سائیڈ روم تھا۔ میں سراسیمگی کے عالم میں اس سائیڈ روم میں گیا۔ میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا۔ اور وضو کر کے دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا، یہاں ایک عاجزِ مطلق کو قادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چلا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ اگر آپ حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا، مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا، آپ خود اپنے قانونِ امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں کی۔
خدایا، میں آپ کے تمام اسماءِ حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے پلے بیک اسپیکر (playback speaker) بن جائیں۔ آپ بولتے جائیں اور میں اس کو دہراتا آپ خاموشی کی زبان میں مجھ کو بتائیں اور میں نُطق کی زبان میں اس کو دوسروں کے سامنے پیش خدایا، اگر میں اس موقع پر نہ بولوں تو یہ میرے لیے 'فرار من الزّحف‘ کے ہم معنی ہوگا۔ آپ میری مدد نہ کریں تو اُس بات کا اعلان نہ ہو سکے گا جس کا اعلان آپ کی سب سے زیادہ مطلوب چیز خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ نہ میرے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہے اور نہ آپ کے لیے کوئی دوسرا
خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندے کا عجز اور خالق کی قدرت دونوں ایک سطح پر آ گئے ہیں۔ صورت میں نہ میرے لیے واپسی کا موقع ہے اور نہ آپ کے لیے مجھ کو نظر انداز کرنے کا موقع۔ یہ دعا کر کے میں باہر آیا اور ہال کے اندر مقرر کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا یہاں صرف مجھ کو تقریر کرنا تھا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں بولنا شروع کیا۔ اور تقریباً ایک گھنٹے تک انگریزی میں بولتا رہا۔ میں نے پوری تقریر برجستہ طور پر اور روانی کے ساتھ کی۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں، لیکن مجمع کی طرف سے کوئی سوال نہ ایک صاحب نے بتایا کہ تمام لوگ آپ کی انگریزی تقریر سے اس قدر مسحور تھے کہ وہ اپنے اندر سوال کرنے کی جرأت نہ پا سکے۔
اس تجربے کے بعد میری زندگی میں غیر متوقع طور پر ایک نیا دور آیا، جب کہ میں برجستہ طور پر انگریزی زبان میں بولنے لگا۔ انگریزی میں گفتگو، انگریزی میں انٹرویو، انگریزی میں تقریر۔ یہ سب جو اس سے پہلے میری زندگی میں موجود نہ تھا، اب وہ عمومی طور پر میری زندگی میں شامل ہو گیا اور بفضلہ تعالیٰ تادم تحریر (30 اگست 2007) جاری ہے۔
آزادیٔ ہند (1947) کے بعد جب میں نے خصوصی طور پر انگریزی سیکھنا شروع کیا تو ہر ایک میری حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی (عبدالعزیز خاں) نے میرے انگریزی شوق کو دیکھ کر کہا تھا: بُڈھا طوطا کیا پڑھے گا۔ عام تجربے کے لحاظ سے، اُن کا ایسا کہنا بالکل درست تھا۔ لیکن خدا کی نصرت سے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو انسان سے نہیں ہوسکتا۔ میرے گمان کے مطابق، مذکورہ دعا بلاشبہ، اسم اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی اور اسی دعا کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک نہ ہونے والی بات واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے آگئی۔