عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
Al-Risala, November 2007, pp. 40–46
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر محمد مجیب (وفات: 1985) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین بڑے ستونوں میں سے ایک بقیہ دو یہ تھے: ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات: 1969)، ڈاکٹر عابد حسین (وفات: 1978)۔
پروفیسر مجیب نہایت اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ اُن کو انگریزی زبان پر غیر معمولی قدرت تھی۔ مستشرقین (orientalists) کا لٹریچر تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا۔
غالباً 1970 کی بات ہے۔ میں جامعہ ملیہ کے کیمپس میں پروفیسر مجیب سے ملا۔ پروفیسر انور علی خان سوز (وفات: 1987) بھی میرے ساتھ تھے۔ گفتگو کے دوران پروفیسر مجیب نے خاص انداز میں مجھ سے کہا: مولوی صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کی نمائندگی یہودی اسکالر کر رہے ہیں۔
اُن کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا اسلوب تحریر پیدا ہوا ہے۔ اس اسلوب تحریر میں، مسلم علما اسلامی لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ البتہ تعلیم یافتہ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ انھوں نے وقت کے جدید اسلوب میں اسلام کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں اگر چہ اسلام کی تعلیمات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اسلوب تحریر کے اعتبار سے وہ وقت کے اسلوب اس لیے آج جو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی زبان میں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثر انھیں یہودی علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
میں پروفیسر مجیب کی باتوں کو سنتا رہا۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اُن کی بات کو سن کر میرے دماغ میں ایک بھونچال آگیا۔ میں خاموشی کے ساتھ واپس آگیا اور پھر رات دن یہ دعا کرنے لگا کہ خدایا، مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کے دین کو آج کے اسلوب میں دنیا کے سامنے پیش کر سکوں، میں عصری اسلوب میں اسلام کا لٹریچر تیار کر سکوں۔
میں اکثر کسی واقعے کا حوالہ دے کر دعا کرتا ہوں۔ اس معاملے میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ اصل یہ ہے کہ آزادی کے بعد یوپی میں خاتمہ زمین داری کا قانون (zamindari abolition act) نیشنل گورنمنٹ کے تحت، یہ قانون اِس اصول پر مبنی تھا کہ ــــ جو جوتے، اُس کا کھیت۔ میرا خاندان یوپی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمین داروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو اُن کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے
خاتمہ زمیں داری کے قانون کے مطابق، زمین دار کو اُس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی، وہ یہ کہ زمین کو جوتنے والا کسان تحریری طور پر زمین سے استعفادے دے۔ ہماری بیشتر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں ۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ زمیں داری کے منیجر بھی ایک ہندو تھے، جن کا نام بھاؤ رام تھا۔ بھاؤ رام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔ انھوں نے ایک طوفانی مہم چلادی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے، وہ تحریری استعفادے دیں۔ بھاؤ رام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے استعفا ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفا حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔
اُس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔ وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ: بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے (بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے) میں اِس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔ اِس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذھن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اِس داغ کو ہٹاؤں، میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور اشک بار آنسوؤں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔ اُس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دلی پبلک لائبریری میں گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جاکر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اِس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ چناں چہ مجھے سردی لگ گئی اور میں بیمار ہو کر تقریباً دو مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔
آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریباً ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں، جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے وقت کے اسلوب میں
اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہل علم نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔
لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردی ہیں۔ امریکہ میں مقیم کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت، میری تمام کتابوں اور ماہ نامہ الرسالہ کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ، انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انھوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت، میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فزاهم الله خيرا الجزاء۔
”عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا وجود میں آنا بلاشبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں کہ اسم اعظم کے دعا جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اُس کو خدا نے قبول فرمایا اور اس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لیے ناقابل تصور تھا۔ 24 اکتوبر 2005 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ میں مسلسل رورہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔ میری اس حالت کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے دیکھا۔
بعد کو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاملہ تھا۔ اُن کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی، جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے والے اہل ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: ....... فاذا کان یوم عیدهم، یعنی یومِ فطرهم، باهی بهم ملائکته، فقال: ملائکتی، ماجزاءُ أجیرٍ وفّی عمله۔ قالوا: ربّنا، جزاؤه أن یُوفّی أجره۔ عبیدی وإمائی قضوا فریضتی علیهم، ثمّ خرجوا یَعُجّون إلى الدّعاء، وعزّتی وجلالی وکرمی وعُلُوّی وارتفاع مکانی لأجیبنّهم۔ فیقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدّلتُ سیّئاتکم حسنات۔ قال: فیرجعون مغفوراً لهم۔ (رواه البیهقی فی شعب الإیمان؛ مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 2096)۔
ترجمہ: جب اُن کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے عُلُو شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ کہتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں بدل پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔
آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے، لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لیے ہے اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔
پھر مجھ کو سر سید احمد خاں (وفات: 1898) کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہ اپنے محمدن کالج (موجودہ علی گڑھ یونیورسٹی) کے چندے کے لیے ایک مسلم نواب کے یہاں گئے۔
سرسید کے بعض خیالات پر ان سے بہت غصہ تھے۔ انھوں نے سرسید سے ملنے سے انکار کر دیا، مگر سرسید مایوس نہیں ہوئے۔ ان کو معلوم تھا کہ شام کو نواب صاحب اپنی گھوڑا گاڑی پر سیر کے لیے نکلتے اُس وقت ان کی کوٹھی کے سامنے بھکاری لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ نواب صاحب ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں۔
سرسید شام کے وقت وہاں پہنچے اور بھکاریوں کی صف میں اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ٹوپی کو کاسۂ گدائی کی طرح اپنے سامنے رکھ لیا۔ نواب صاحب حسب معمول اپنی گھوڑا گاڑی پر نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ سرسید بھکاریوں کی صف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر نواب صاحب کو تعجب انھوں نے کہا کہ سید تم یہاں کہاں۔ سرسید نے جواب دیا کہ — نواب صاحب، اگر آپ مجھے چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں۔ اس بات کا نواب صاحب پر بہت اثر پڑا۔ گاڑی سے اتر پڑے اور سرسید کو لے کر اپنی کوٹھی کے اندر گئے۔ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا اور ان کو کالج کے لیے کافی چندہ دیا۔
میں نے اس واقعے کو لے کر کہا کہ خدایا، اگر میں عمل کی بنیاد پر کچھ پانے کا مستحق نہیں تو بھیک کے طور پر تو مجھے اپنا انعام عطا کردے، کیوں کہ تو نے قرآن میں جس طرح عامل کو عطیہ کا مستحق قرار دیا ہے، اسی طرح تو نے سائل کو بھی عطیہ کا مستحق بتایا ہے۔ اگر تو انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ عامل کو دینے کے ساتھ سائل کو بھی دے تو یقیناً میں امید کر سکتا ہوں کہ تو خود بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے، جس کی توفیق مجھے خدا کی خصوصی رحمت کے تحت حاصل ہوئی۔ جہاں تک میرا تجربہ ہے، اسمِ اعظم کے ساتھ دعا نہ تو کسی یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام ہے اور نہ خود انسان پیشگی طور پر سوچ کر اس قسم کی دعا کر سکتا ہے۔ اس قسم کی دعا براہِ راست خدا کی توفیق سے ہوتی ہے اور وہ اچانک ہی انسان کے سینے سے اُبل پڑتی ہے، جیسے کوئی جوالہ مُکھی پہاڑ اچانک پھٹ پڑے، حالاں کہ موسمیات کے ماہرین نے اس کی پیشین گوئی نہ کی ہو۔
ننانوے اسماءِ حسنیٰ الله -1 الرّحمن -2 الرّحيم -3 السّلام -6 المؤْمن -7 المهيْمن -8 المتكبّر -11 الخالق -12 الباريُ -13 القهّار -16 الوهّاب -17 الرّزّاق -18 القابض -21 الباسط -22 الخافض -23 المُذِلّ -26 السّميع -27 البصير -28 اللّطيف -31 الخبير -32 الحليم -33 الشّكور -36 العليّ -37 الكبير -38 الحسيب -41 الجليل -42 الكريم -43 الواسع -46 الحكيم -47 الودود -48 الشّهيد -51 الحق -52 الوكيل -53 الهُ وليّ -56 الحمد 57 المُحصي 4- الملك 5 - القدوس 9- العزيز 10 - الجبار 14 - المصور 15 - الغفار 19 - الفتاح 20 - العليم 24 - الرافع 25 - المعز 29 - الحكم 30 - العدل 34 - العظيم 35 - الغفور 39 - الحفيظ 40 - المقيت 44 - الرقيب 45 - المجيب 49 - المجيد 50 - الباعث 54 - القوى 55 - المتين 59 - المبدئ 60 - المعيد 61- الحیی 62- المُمیت 63- المحیی 66- الماجد 67- الواحد 68 - الصّمد 71- المُقدّم 72 - المُؤخّر 73 - الأوّل 76- الباطن 77- الوالی 78 - المتعالی 81- المُنْتَقِم 82- العَفُوّ 83 - الرَّءُوف 85- ذُو الجلال والإکرام 86- المُقْسِط 89- المُغْنی 90- المَانِع 91- الضَّارّ 94 - الهادی 95 - البدیع 96 - الباقی 64- القیّوم 65- الواجد 69- القادر 70- المقتدر 74- الأخر 75- الظاهر 79- البَرّ 80 - التّواب 84- مــــــالـــك المُلــك 87- الجامع 88 - الغنيّ 92- النّافع 93 - النّور 97- الوارث 98 - الرّشيد (229 ص 11 جلد)
99-الصبور (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، جلد 11، صفحہ 220)۔