Al-Risala · February 2007

اب میری کون سنے گا

Al-Risala, February 2007, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۴۷ء میں آزادی کے بعد جواہر لال نہرو انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انڈیا کے لوگوں میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے، وہ ہے سائنسی مزاج (scientific temper)، مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کے لوگوں میں سائنسی مزاج نہ ہونا بعد از آزادی دور کا ظاہر ہ ہے، ورنہ آزادی سے پہلے کے زمانے میں یہاں سائنسی مزاج ثابت شدہ طور پر موجود تھا۔

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آزادی کے پہلے کے انڈ یا میں اس پہلو سے ٹاپ کے لوگ پیدا ہوئے۔ سی ایس وی رمن، رابندر ناتھ ٹیگور، آرووندو، رادھا کرشنن، راج گوپال آچاریہ اور سوامی وویکا نند، اس قسم کی بہت سی اعلیٰ شخصیتیں آزادی سے قبل کے زمانے میں پیدا ہوئیں، مگر آزادی کے بعد اس قسم کا کوئی ایک شخص بھی پیدا نہ ہوسکا۔

آزادی کے بعد کے انڈیا میں غیر سائنسی مزاج کیسے آیا۔ اس کی تمام تر ذمے داری اُس نان وائلنٹ ایکٹوزم پر ہے جس کو حصول آزادی کے لیے یہاں استعمال کیا گیا تھا۔ جواہر لال نہرو آزادی سے پہلے ہندوستانیوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے غلامی یا آزادی، دونوں میں سے ایک کا انتخاب

Printed page