Slavery or freedom-choose between the two.
Al-Risala, February 2007, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کے نعروں کے ذریعے انڈ یا کے لوگوں میں جو مزاج پیدا ہوا، وہ یہی غیر سائنٹفک مزاج ۱۹۴۷ سے پہلے انڈیا میں جو سیاسی نظام تھا، وہ صحیح لفظ میں ’’برٹش رول تھا غلامی در اصل برٹش رول کا بُرا نام تھا جو اس لیے استعمال کیا گیا تھا کہ ہندوستانیوں کو بھڑکایا جا سکے۔ گاندھی اور نہرو کی قیادت میں آزادی کی تحریک نان وائلنس کی بنیاد پر چلائی گئی تھی۔ نان وائلنٹ متحد کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری تھا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ موبلائز کیا جائے۔ برٹش رول کا لفظ لوگوں کو زیادہ بھڑکانے والا نہیں بن سکتا تھا، اس لیے اس کو غلامی کا اشتعال انگیز نام دیا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انگریزی اقتدار کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔
بھڑکانے والے الفاظ بول کر اور اشتعال انگیز تقریریں کر کے یہ فائدہ تو ہوا کہ ہندوستانی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس طرح نعروں کی سیاست کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ انگریز مُردہ باد جیسے نعرے ہر طرف سنائی دینے لگے، مگر انگریزوں کے خلاف یہ کامیاب سیاست خود انڈیا کے لیے ایک ناکام سیاست ثابت ہوئی ۔ اس بھڑکانے والی سیاست کا یہ براہ راست نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں سائنسی مزاج کا خاتمہ ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔
قدیم ہندوستان کا مائنسی مزاج اچانک نہیں بنا تھا، بلکہ وہ لمبی روایات کے نتیجے میں پیدا ہوا درست طور پر کہا گیا ہے کہ کسی سماج میں اس قسم کی صحت مند روایت کے لیے ایک لمبی تاریخ درکار
It requires a lot of history to make a little tradition. انڈیا میں نان وائلنٹ موومنٹ کا سائنس پہلو یہ تھا کہ اس کی وجہ سے ماضی کی تمام صحت مند روایتیں ٹوٹ گئیں۔ قانون کی پابندی کی روایت، تعلیم اور تعلم کی روایت، سماجی میل ملاپ کی روایت، دیانت دارانہ طور پر کام کرنے کی روایت، صلح پسندی کی روایت، بے غرضانہ سروس کی روایت، چھوٹے اور بڑے کے احترام کی روایت، اخلاقی قدروں کی روایت، یہ تمام روایتیں عوام کو موبلائز کرنے کے طوفان میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگئیں۔ آج انڈیا میں جو انارکی اور کرپشن ہے، وہ انگریزوں کی وراثت نہیں ہے، بلکہ وہ یقینی طور پر نان وائلنٹ تحریک کی وراثت ہے۔ وقتی طور پر کچھ انسانوں کا خون بہاتی ہے، لیکن نان وائلنٹ تحریک سماجی روایات کو توڑ کر نا معلوم مدت تک کے لیے سماج کو مزاج کو مبتلا کر دیتی ہے۔ انسان کا قتل بلاشبہہ غلط ہے، لیکن روایات کا قتل اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں دانش مند لوگوں کے درمیان کوئی دو رائے نہیں۔ لمبی مدت کے درمیان رشیوں اورمنیّوں، سنتوں اور صوفیوں نے ملک میں جو صالح سماجی روایات قائم کی تھیں، وہ نان وائلنٹ تحریک کے سیاسی ابھيان میں اس طرح ختم ہوگئیں جس طرح کوئی آندھی تنکوں کو اڑا کر بکھیر دیتی ہے۔
نئی دہلی (پائتر ہاؤس) میں جنوری 1997 میں ایک سیمنار ہورہا تھا۔ اس میں حسب ذیل پانچ افراد نے شرکت کی تھی— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبر اتا مکھرجی، آر کے ملکانی، اور راقم اس سیمنار کا موضوع یہ تھا: