باہمی اعتماد
Al-Risala, December 2007, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
دو آدمی جب مل کر کام کریں تو کامیاب کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان کامل اعتماد ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے اوپر اعتبار سے بھروسہ رکھتے ہوں۔ دونوں کے درمیان اجنبیت کی کوئی دیوار باقی نہ رہے۔ باہمی اعتماد کا یہ اصول شوہر اور بیوی کے درمیان انتہائی حد تک اس کے بغیر کوئی گھر اچھا گھر نہیں بن سکتا۔
شوہر اور بیوی کے درمیان کیوں ایسا ہوتا ہے کہ مطلوب قسم کا باہمی اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ کے درمیان اجنبیت کی ایک غیر محسوس دیوار مسلسل طور پر باقی رہتی ہے۔ اس مطلوب صورت حال کی ذمے داری عورت اور مرد دونوں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ عورت کی غلطی یہ ہے کہ وہ نکاح کے بعد اپنے ذہن کو نئے حالات کے مطابق نہیں بناپاتی۔ وہ بدستور اپنے میکے کو اپنا گھر سمجھتی رہتی ہے۔ اس کا اظہار بار بار اس کے رویے سے ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً جب وہ اپنے میکے کا ذکر کرے گی تو وہ اس طرح کہے گی کہ میرے گھر میں ایسا تھا، یا میرے گھر میں ایسا ہوتا ہے۔ یہ چیز فطری طور پر مرد کو ناگوار وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ اُس کے اور اس کی بیوی کے درمیان ایک قسم کی غیریت موجود ہے، جو کسی طرح ختم نہیں ہوتی۔
دوسری طرف مرد کے اندر عام طور پر ایک کم زوری ہوتی ہے، جو مطلوب نوعیت کے باہمی اعتماد میں مسلسل طور پر رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مرد کے ذہن میں ایک مفروضہ عورت کا تصور بسا ہوا ہوتا ہے، یہ مفروضہ مرد کے ذہن میں مسلسل طور پر بسا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنی موجود بیوی کے ساتھ مطلوب قسم کا باہمی اعتماد قائم نہیں کر پاتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں اپنی اصلاح کریں۔ دونوں اپنے آپ کو مذکورہ قسم کے واہمہ (obsession) سے دونوں یہ کریں کہ وہ خیالی دنیا میں جینے کے بجائے عملی حالات کے مطابق، اپنا ذہن جب وہ ایسا کریں گے تو دونوں کے درمیان اپنے آپ باہمی اعتماد قائم ہو جائے گا۔