میکے اور سسرال کا فرق
Al-Risala, December 2007, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک لڑکی جب اپنی میکے میں ہوتی ہے تو وہ اُن لوگوں کے درمیان ہوتی ہے جن سے اس کا خونی تعلق ہے۔ اس خونی تعلق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ میکے میں اس کو یک طرفہ محبت کے ماحول میں جینا میکے میں لڑکی کے لیے یہ ماحول ہوتا ہے کہ ـــ تم کچھ نہ کرو تب بھی تم کو ہر چیز ملتی رہے گی۔ سسرال کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سسرال میں لڑکی کو غیر خونی رشتے داروں کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ میکے کا کلچر اگر دیے بغیر پانیے کے اصول پر قائم تھا تو سسرال کا کلچر یہ ہوتا ہے کہ دو گے تو پاؤ گے، اگر نہیں دیا تو تم کو بھی کچھ ملنے والا نہیں۔
لڑکیاں عام طور پر میکے اور سسرال کے اس فرق کو نہیں سمجھتیں۔ چناں چہ وہ ہمیشہ ایک غیر حقیقی احساس میں جیتی رہتی ہیں۔ میکے کو اچھا سمجھنا اور سسرال کو اُس کے مقابلے میں بُرا سمجھنا۔ خواتین میں عام ہے۔ اس کا نقصان سب سے زیادہ خود خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اپنے اس غیر حقیقی مزاج کی بنا پر وہ اپنے شوہر سے اور اپنے سسرال والوں سے گہرا تعلق قائم نہیں کر پاتیں۔ خالق نے ہر عورت اور مرد کو مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کے لیے کوئی بڑا رول مقدر ہے۔ اس رول کے لیے ضروری ہے کہ عورت اپنے نے رشتے داروں کے ساتھ بھر پور تعلق قائم کر کے رہے۔ مگر اکثر عورتیں اپنے سسرال والوں کے ساتھ یہ تعلق قائم نہیں کر پاتیں اور نتیجہ وہ رول ادا نہیں کر پاتیں جو اُن کے خالق نے اُن کے لیے مقدر کیا تھا۔ اس دنیا میں کسی بڑے رول کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔ گھر اسی قسم کا ایک اجتماعی ہر گھر اپنی اجتماعی کوشش سے ایک بڑا کام کر سکتا ہے، لیکن یہ بڑا کام اُسی گھر کے لوگ انجام دیں گے جو اپنے گھر کو حقیقی معنوں میں ایک اجتماعی ادارہ بنا دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی عورت کے لیے اس کی سسرال بھی اُسی طرح اس کا اپنا گھر ہے جس طرح اس کا میکہ اس کے لیے اس کا اپنا گھر تھا۔