Al-Risala · February 2007

India is world's No. 1 bribe payer.

Al-Risala, February 2007, pp. 9–12

By Maulana Wahiduddin Khan

انٹر نیشنل ادارے کی یہ رپورٹ ۱۲۵ ملکوں کے سروے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ کے مطابق، انڈیا میں کرپشن آخری حد تک بڑھ چکا ہے۔ نیشنل اور انٹرنیشنل دونوں میدان میں انڈیا تمام ملکوں سے آگے ہے :

“India doesn't just have loads of corruption at home, it is also the world leader in exporting graft.” (p. 1)

انڈیا میں رشوت اور کرپشن اتنا زیادہ عام ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے کسی عالمی سروے کی ضرورت ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ یہاں کے سرکاری دفتروں میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، جب کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے برٹش دور کے سرکاری دفتروں میں رشوت کے بغیر ہر کام ہوا کرتا تھا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑی حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ ہمارے سیاسی لیڈروں کے عمل کا نقطۂ آغاز ہی درست نہ تھا۔ وہ ایک بہتر ہندوستان بنانا چاہتے تھے۔ اس حقیقت کے حصول کے لیے انھوں نے برٹش رول کے خاتمے کو اپنا نقطۂ آغاز بنایا، حالاں کہ تجربہ بتاتا ہے کہ اُن کے لیے اپنے عمل کا صحیح آغاز یہ تھا کہ وہ ملک سے پیسہ پرستی (money worship) کے ذہن کو ختم پیسہ پرستی ہندوستان کا مقدس کلچر ہے۔ یہی انڈیا کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ سنجیدہ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ انڈیا سے پیسہ پرستی کے کلچر کا خاتمہ کرے ۔ یہی اس ملک میں کسی حقیقی تعمیری تحریک کا پہلا

جب تک یہ کام نہ ہو، دوسرا کوئی کام ہمیں اپنے مطلوب نشانے تک نہیں پہنچا سکتا۔ کچھ صنعتی ترقیوں کا حوالہ دے کر یہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا نے آزادی کے بعد بہت ترقی کی ہے۔ یہ ایک مغالطے کی بات ہے۔ اس قسم کی مادی ترقیاں آزادی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ وہ زمانی حالات کا موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں صنعتی ترقیوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ صنعتی ترقی کے اس عمومی سیلاب میں ہر ملک کو اس کا حصہ مل رہا ہے۔ انڈیا میں خواہ کوئی بھی حکومت ہو، اس عالمی سیلاب کا اثر بہر حال انڈیا تک پہنچنا ہی تھا، اور اس کا آغاز خود برٹش دور ہی میں ہو چکا تھا۔ انگریزی زبان کے معاملے میں انڈیا کو امریکہ اور برطانیہ کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کے معاملے میں انڈیا کا یہ تقدم اس کی صنعتی ترقی کا سب سے بڑا سبب ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کو انگریزی زبان کا تحفہ برٹش رول ہی کے ذریعے ملا تھا۔ وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف طریقے ہیں، مگر دونوں کے درمیان ایک چیز کامن ہے، وہ یہ کہ دونوں مبنی بر پرابلم (problem-based ideology) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کا مشترک فکر یہ ہے کہ پہلے پرابلم کو راستے سے ہٹاؤ، اس کے بعد ہی آگے کا سفر طے ہو سکے گا۔

مثلاً انڈیا میں دو ہم عصر لیڈر تھے۔ ایک، سبھاش چندر بوس اور دوسرے، مہاتما گاندھی۔ سبھاش چندر بوس وائلنٹ ایکٹوزم پر یقین رکھتے تھے، جب کہ مہاتما گاندھی نان وائلنٹ ایکٹوزم کے مگر دونوں کا مشترک فکر یہ تھا کہ انگریزوں کا سیاسی اقتدار ایک ایسا مسئلہ ہے جو انڈیا کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس مسئلے کو ختم کیا جائے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان فرق صرف یہ تھا کہ سبھاش چندر بوس، اس پولیٹکل پرابلم کو تشدد کے زور پر ہٹانا چاہتے تھے، اور مہاتما گاندھی عدم تشدد کے زور پر اس کو دور کرنے کے حامی تھے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں لیڈروں کی فکر نے مشترک طور پر انسانی تفریق کی بُرائی پیدا کی۔ انگریز اور انڈین دونوں انسان تھے، مگر اس تحریک نے دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا۔

اس تفریقی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا کی آزادی، کامیڈی (comedy) کے بجائے ٹریجڈی (tragedy) میں تبدیل ہو گئی۔ ہندوؤں مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت پیدا ہوئی، جو جلد ہی فرقہ وارانہ فساد میں تبدیل ہو گئی۔ اس منفی نتیجے کو پیدا کرنے میں ہندو لیڈروں کے ساتھ مسلم لیڈر بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف اگر گاندھی اور نہرو اور انگریز کے مقابلے میں اس تفریقی سیاست کو چلا رہے تھے تو دوسری طرف مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے مسلم لیڈر بھی اس تحریک میں برابر کے شریک تھے۔ اس لیے اس منفی سیاست کی ذمے داری دونوں ہی فرقے کے لیڈروں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ نان وائلنٹ ایکٹوزم میں ایک بنیادی کمزوری شامل ہے، وہ یہ کہ اجتماعی تحریکوں میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نیا موڑ آتا ہے، اور نیا فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ مثلاً کبھی یوٹرن لینا پڑتا ہے، کبھی دشمن کو دوست بنانا پڑتا ہے، کبھی آگے مارچ کرنے کے بجائے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، مگر بلا استثنا ہر نان وائلنٹ تحریک میں یہ ہوا ہے کہ اس کے لوگ نیا فیصلہ لینے میں ناکام ہو گئے، وہ بدلے ہوئے حالات میں بدلا ہوا رسپانس نہ دے سکے۔

انڈیا کے حوالے سے اُس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں آزادی ملنے کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ اب تم لوگ آل انڈیا کانگریس کو توڑ دو، اس کی جگہ ایک غیر سیاسی پارٹی بناؤ اور اس کے تحت ملک میں وہ منصفانہ سماج قائم کرو جس میں تمام لوگوں کے آنسو پوچھے جا سکیں، مگر مہاتما گاندھی کے مشورے کو ان کے ساتھیوں نے نہیں سنا اور مہاتما گاندھی کا مشن ادھورا ہو کر رہ گیا۔ اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مذکورہ قسم کا یوٹرن لینے کے لیے تیار ذہن (prepared mind) درکار تھا، اور یہ تیار ذہن وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ کمزوری بھی وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم میں یکساں طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس لیے کہ دونوں ہی قسم کی تحریکوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کا آغاز عملی اقدام سے کرتے ہیں، نہ کہ افراد کی ذہن سازی حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گہری تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے افراد کی ذہن سازی کی جائے، اور

جب ذہن پوری طرح بن چکا ہو تو اس کے بعد عملی اقدام کیا جائے۔ ذہن سازی کے بغیر اقدام کرنے کا مطلب ، بغیر تیاری کے اقدام کرنا ہے ، اور جو اقدام تیاری کے بغیر کیا جائے اس کا انجام پیشگی طور پر معلوم ہے ، اور وہ ہے مکمل تباہی۔

مزید یہ کہ نان وائلنٹ ایکٹوزم کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آخر میں وہ منافقانہ ایکٹوزم بن کر رہ اس کا سبب یہ ہے کہ کامل نان وائلنس عملی طورپر ناممکن ہے۔ اس لیے اس نظریے کے علم بردار اپنے ابتدائی دور میں زور و شور کے ساتھ نان وائلنس کی بات کرتے ہیں ، لیکن بعد کو جب عملی حقائق کا سامنا پیش آتا ہے تو اُس وقت وہ مجبور ہوتے ہیں کہ وائلنس کے ذریعے اپنے مسئلے کو حل اپنے اصول سے اِس انحراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ بے بنیاد عذر پیش کرتے ہیں ، جو اُن کے منافقانہ ذہن کو مزید پختہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔

اس معاملے کی عملی مثال خود انڈیا ہے۔ انڈیا نے پُو ٹکل آزادی عدم تشدد کے ذریعہ حاصل کی ، لیکن آزادی کے بعد انڈیا کو متعدد بار اپنا یہ فارمولا چھوڑنا پڑا۔ متعدد بار انڈیا مجبور ہوا کہ وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر کے اپنے مسائل کو حل کرے۔

گاندھین ماڈل کا ہندوستانی تجربہ بتاتا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے منفی رزلٹ حاصل کرنا تو ممکن ہے ، مگر اس ماڈل کے ذریعے پازیٹیو رزلٹ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ نان وائلنٹ ایکٹوزم کا گاندھیائی تجربہ بتاتا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے منفی مقصد کا حصول تو ممکن ہے ، مگر مثبت مقصد کا حصول اس ماڈل کے ذریعے ممکن نہیں۔

Printed page