Al-Risala · February 2007

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

Al-Risala, February 2007, pp. 14–22

By Maulana Wahiduddin Khan

مواقع کو استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اصول ایک گہری اسٹریٹجی پر قائم ہے۔ ایسا کیا جائے کہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پرابلم کا اروژن (erosion) شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرابلم مسلسل طور پر گھٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ پرابلم عملاً غیر مؤثر ہو جائیں اور سارے امکانات اُن لوگوں کے حصے میں آ جائیں جو اس فارمولے کو استعمال کر کے اپنا عمل جاری کیے

دعوہ ایکٹوزم کا سب سے زیادہ امتیازی پہلو یہ ہے کہ آدمی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پالیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی اصلاحی عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز، اقدام نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن بنایا جائے۔ ذہن کی ڈی کنڈیشننگ، ذہن کی ری انجینئرنگ، ذہن کا ری اورین ٹیشن، ذہن کو اس قابل بنانا کہ وہ منفی سوچ سے اس طرح خالی ہو جائے کہ وہ منفی واقعے کو مثبت تجربے میں تبدیل کر سکے۔ اسی کا نام ذہنی تیاری ہے، اور کسی گہرے عمل کے لیے یہی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔

حضرت مسیح دو ہزار سال پہلے یروشلم میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پہلے شہر کے اندر اپنا مشن اس کے بعد وہ سمندر کے کنارے گئے۔ وہاں ملاّح مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ نے ان ملاّحوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اے مچھلیوں کو پکڑنے والو، آؤ کہ میں تم کو انسان کا پکڑنے

"Follow me, and I will make you fishers of men." (Matthew 4:19)

حضرت مسیح کا یہ قول دعوہ ایکٹوزم کے بنیادی فلسفے کو بتاتا ہے۔ سیاسی تحریکوں کا نشانہ کوئی مفروضہ

یاغیر مفروضہ خارجی دشمن ہوتا ہے، لیکن دعوہ ایکٹوزم کا نشانہ صرف انسان ہوتا ہے۔ یعنی انسان کے اندر چھپے ہوئے فطری امکان (potential) کو باہر لانا، ذہنی ترقی (intellectual development) کے ذریعے اعلیٰ انسان بنانا۔ ہر عورت اور مرد فطری طور پر بہترین امکانات لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ امکانات کو واقعہ بنانا، یہی دعوہ ایکٹوزم کا اصل نشانہ ہے۔

دعوہ ایکٹوزم کی ترتیب یہ ہوتی ہے— فرد سازی، معاشرہ سازی اور اس کے بعد حسبِ امکان یہ پورا عمل امن کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ دعوہ ایکٹوزم میں ہر اگلے مرحلے کی طرف اقدام پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں تشدد کے لیے کوئی دعوہ ایکٹوزم میں سارا عمل لوگوں کے اپنے اختیار پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ جبر پر۔ اس لیے اصولی طور پر اس میں کبھی امن شکنی کی نوبت نہیںآتی۔ دعوہ ایکٹوزم میں اگر کبھی تشدد نظر آئے تو وہ اصول سے انحراف کی بنا پر ہوگا نہ کہ اصول کے اتباع کی بنا پر۔

دعوہ ایکٹوزم میں امن کا ماحول کس طرح قائم رکھا جاتا ہے، اس کا جواب حضرت مسیح کے ایک قول میں اس طرح ملتا ہے۔ انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ — جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے، وہ خدا کو دو:

“Render therefore to Caesar the things that are Caesar's, and to God the things that are God's.”

حضرت مسیح کے زمانے میں فلسطین رومن ایمپائر کے ماتحت تھا۔ رومی بادشاہوں کا خاندانی لقب قیصر (Caesar) ہوا کرتا تھا۔ کچھ لوگوں نے حضرت مسیح سے سوال کیا کہ فلسطین میں سیاسی اعتبار سے رومیوں کی حکومت ہے، دوسری طرف ہمارے مذہبی احکام ہیں اس طرح ہم دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہیں۔ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ حضرت مسیح نے جواب دیا کہ رومی حکمران جو حکم دیں اس کو مانو، ان سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے عمل کا جو غیر سیاسی دائرہ باقی رہتا ہے، اُس میں اپنے مذہبی تقاضے پورے کرو۔ اِس مسیحی فارمولے کو ایک لفظ میں پوٹکل اسٹیٹس کو ازم (political status quoism) کہا جا سکتا ہے۔

حضرت مسیح کے پیروؤں نے اُن کے بعد اسی اصول پر عمل کیا۔ وہ مختلف ملکوں میں داخل ہر جگہ کسی نہ کسی کی حکومت تھی ، مگر مسیح کے پیروؤں نے ان سے سیاسی ٹکراؤ نہیں کیا۔ سے اوائڈ کرتے ہوئے انھوں نے مسیحیت کی پرُ امن تبلیغ کی۔ وہ پچھلے دو ہزار سال سے اس اصول پر کار بند ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسیحی مذہب تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن

حضرت مسیح کا مذکورہ قول دراصل اسپرچول ایکٹوزم یا دعوہ ایکٹوزم کے ابدی اصول کو بتاتا چنانچہ یہی بات پیغمبر اسلام نے اس طرح بیان فرمائی : أَدُّوا إليهم حقهم وسئلوا الله حقكم ( صحیح البخاری) یعنی حکمرانوں کو ان کا حق دو ، اور اپنا حق خدا سے مانگو۔ اس حدیث میں خدا سے مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے قائم کردہ فطری نظام پر بھروسہ کرو اور اس کے مطابق عمل کر کے اپنا حق حاصل کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ سیاسی پاور کس کے ہاتھ میں ہے اور کس کے ہاتھ میں نہیں ، اس کو نظر انداز کرو۔ اس کے بجائے یہ کرو کہ خدا کے قائم کردہ فطری نظام میں جو ابدی مواقع رکھے گئے ہیں ، ان کو استعمال کر کے اپنا مقصد حاصل کرو: Ignore the political system and avail the natural opportunities present in the circumstances. حکومت ہمیشہ سے سماج کا ایک حصہ رہی ہے۔ قدیم زمانے میں حکومت ہی کو سماج کا سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم زمانے میں زراعت ، آمدنی کا واحد ذریعہ تھا اور زرعی زمین حاکم کی ملکیت میں ہوتی تھی۔ اس لیے لوگوں کا یہ حال ہوا کہ ان کی امیدیں سب کی سب وقت کے حاکم سے وابستہ ہونے لگیں۔ اس ذہن کا آخری نتیجہ یہ تھا کہ لوگ وقت کے حاکم کو اپنا دشمن سمجھنے اسی عمومی مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ جب بھی کوئی لیڈر یا ریفارمر اٹھتا تو لوگ یا تو اپنے مسائل کو لے کر حکمراں سے ٹکرانے لگتے ، اور اگر ٹکراؤ ممکن نہ ہوتا تو وہ اس سے متنفر ہو کر مایوس ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ عوام اور حکمران سے ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی۔ دعوہ ایکٹوزم کی

فلاسفی اس معاملے میں بالکل مختلف ہے۔ دعوہ ایکٹوزم اس تصور پر قائم ہے کہ حکمراں کے سیاسی اقتدار کے باوجود ہمیشہ عمل کا ایک غیر سیاسی دائرہ پایا جاتا ہے۔ اُس غیر سیاسی دائرے میں ہمیشہ کچھ مواقع موجود ہوتے ہیں۔ امن پسندانہ طریقہ یہ ہے کہ سیاسی حاکم سے ٹکراؤ کو نظر انداز کر کے غیر سیاسی دائرے میں موجود مواقع کو استعمال کیا جائے۔ یہی مطلب ہے اس قولِ رسول کا کہ ـــ حاکم کو اس کا حق دو، اور جو تمھارا حق ہے اس کو خدا سے مانگو۔ یعنی اپنے امکاناتِ فطرت کو استعمال کر کے اس کو

موجودہ زمانے میں اس اصول کی اہمیت اب ہزار گُنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ موجودہ زمانہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن کا زمانہ ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کے بغیر مختلف کاموں کے لیے ادارے قائم کیے جائیں اور ان کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ـــ مثلاً ایجوکیشن، میڈیا، دعوہ ورک، تجارت و صنعت اور لائبریری جیسے علمی مراکز کا قیام، وغیرہ۔ دعوہ ایکٹوزم کا ایک بنیادی اصول صبر ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص یا کوئی گروہ ایک مشن کو لے کر اٹھے تو درمیان میں بار بار مختلف قسم کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں، کبھی انٹرسٹ خطرے میں پڑتا ہوا نظر آتا ہے، کبھی انا پر چوٹ لگتی ہے، کبھی وقتی مصلحتیں تباہ ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس طرح کے مواقع مشن کے لیے سخت خطرہ ہیں۔ کیوں کہ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ اصل نشانے سے انسان کی نظریں ہٹ جاتی ہیں ، اس کا اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ غیر متعلق چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصل منزل کی طرف اس کا سفر جاری نہ رہ سکے۔

اس خطرے سے بچنے کے لیے دعوہ ایکٹوزم میں ایک مضبوط تحفظ موجود ہے، یہ تحفّظ صبر کا دعوہ ایکٹوزم میں صبر کے اصول کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ ہر نقصان اور ہر ناخوش گواری کو برداشت کرنا، اور ہر حال میں اصل منزل کی طرف اپنا سفر جاری رکھنا۔ یہی صبر ہے، اور اس صبر کے بغیر کوئی مشن راستے کے انحراف سے بچ نہیں سکتا۔

دعوہ ورک میں صبر کی اس روش پر قائم رہنے کے لیے ایک نہایت طاقت ور محرک موجود ہوتا

ہے، اور وہ جنت ہے۔ دعوہ ورک میں آدمی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کا مقصد دنیا کے مفاد کا حصول نہیں، بلکہ صرف جنت کا حصول ہے، جو موت کے بعد ملنے والی ہے۔ جنت کا تصور آدمی کے لیے اس کے مستقبل کو اتنا زیادہ پرکشش بنا دیتا ہے کہ وہ حال کے نقصان کو پوری رضامندی کے ساتھ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ وہ کسی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صرف اُس وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اس کو زیادہ بڑا فائدہ ملنے والا حقیقت یہ ہے کہ ابدی جنت کا تصور اتنا بڑا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز کو اس کے مقابلے میں چھوٹا کر دیتا ہے۔ جنت کا یہ تصور آدمی کے اندر اتھاہ حوصلہ پیدا کرتا ہے اور اس کو ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ تاریخ میں اصحاب رسول کا گروہ اس صبر و برداشت کی ایک معیاری مثال تھے۔ وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں میں عمل کا آغاز پارٹی سازی (party forming) سے کیا جاتا ہے، جب کہ اسپرچول ایکٹوزم، یا دعوہ ایکٹوزم میں عمل کا آغاز کردار سازی (character building) سے کیا جاتا ہے۔ دونوں تحریکوں کے درمیان یہ فرق کوئی سادہ فرق نہیں، یہ بے حد بنیادی فرق ہے اور اسی فرق کی وجہ سے دونوں کا معاملہ شروع سے آخر تک بدل جاتا ہے۔ پارٹی سازی سے آغاز کب ممکن ہوتا ہے۔ یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ عوام کے اندر ایسے لوگ موجود ہوں جو پہلے سے پارٹی کی فکر سے متفق ہوں اور اس بنا پر وہ پارٹی کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ جب تک لوگوں کے اندر پیشگی طور پر پارٹی کے موافق فضا موجود نہ ہو، پارٹی سازی سے آغاز ممکن نہیں۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

روسی لیڈر ولا دیمیر لینن (وفات (۱۹۲۴) نے ۱۹۰۳ میں کمیونسٹ پارٹی بنائی۔ میں بہت سے لوگ شریک ہو گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کو بنانا کیوں کر ممکن ہوا ۔ وہ اس لیے ممکن ہوا کہ اس زمانے میں روس کے شہنشاہ زار (Nicholas II) کی نا کام حکومت کی بنا پر روس کے اقتصادی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ لوگوں میں عام طور پر حکومت کے خلاف بے چینی پائی جاتی تھی۔ میں تبدیلی چاہتے تھے، اُس وقت لینن نے کمیونسٹ پارٹی بنائی تو لوگ تیزی سے اس میں شریک ہونے

کیوں کہ اپنے پیشگی جذبات کے تحت، وہ سمجھتے تھے کہ یہ پارٹی حالات کو بدلے گی اور ان کے مسائل کو حل کرے گی۔

یہی معاملہ تمام سیاسی تحریکوں کا ہوا ہے، خواہ وہ تشدد کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہوں یا عدم تشدد کی گویا کہ تمام وہ تحریکیں جنھوں نے پارٹی بنانے سے اپنے عمل کا آغاز کیا، وہ سب کی سب ردِ عمل کی تحریکیں تھیں، یعنی عوام کے اندر پائی جانے والی ناراضگی کو استعمال کر کے تحریک چلانا۔ انڈیا میں بھی ۱۹۴۷ سے پہلے جو سیاسی تحریک اٹھی، وہ برٹش راج کے خلاف عوام کی ناراضگی کو لے کر اٹھائی گئی۔ لیے فوراً ہی اس کو عوام کے اندر مقبولیت حاصل ہوگئی۔

مگر اس قسم کی تمام تحریکیں منفی تحریکیں ہوتی ہیں، وہ کسی منفی نعرے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ کی پارٹی ’’ زار کو ہٹاؤ‘‘ کے نعرے پر کھڑی ہوئی، اور انڈین نیشنل کانگریس ’’ برٹش راج کو ختم کرو‘‘ کے نام پر کھڑی کی گئی۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔ احساسات کو جگا کر اٹھائی گئی ہو، وہ پورے سماج کو منفی احساس میں جینے والا بنا دیتی ہے، اور جو لوگ منفی احساس میں جیتے ہوں، وہ کبھی مثبت سماج بنانے کا کام نہیں کر سکتے۔

اس معاملے میں ایک مسئلہ جنگ کا ہے۔ دعوہ ایکٹوزم میں جو اصول مقرر کیے گیے ہیں وہ سب کے سب اس تصور کے تحت مقرر کیے گیے ہیں کہ جنگ کے امکان کو آخری حد تک کم کر دیا جائے: By setting these principles, it has minimised the possiblity of war to the last extent. مثلاً دعوہ ورک کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ مسائل سے ٹکرانے کے بجائے مسائل کو نظر انداز کیا جائے، اور صرف ممکن دائرے میں اپنے عمل کا نقطہ آغاز تلاش کیا جائے۔ اسی طرح دعوہ ایکٹوزم کے نظریے میں دشمن اور حملہ آوار کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے تحت، صرف حملہ آور کے خلاف دفاعی جنگ کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، اُس سے ڈائیلاگ اور دوسری پر امن تدبیروں کی سطح پر معاملہ کرنا ہے نہ کہ ٹکراؤ کی سطح پر۔

اسی طرح دعوہ ایکٹوزم کی آئیڈیالوجی میں نشانہ فرد کو بنایا گیا ہے نہ کہ سسٹم کو۔ یہ اصول بھی متشددانہ ٹکراؤ کو عملی طور پر صفر کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ، یا متشد دانہ ٹکراؤ صرف اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ سسٹم کو توڑنے کی کوشش کی جائے۔ اگر اپنے عمل کا نشانہ سسٹم کے بجائے فرد کو بنا دیا جائے تو جنگ اپنے آپ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ اسپرچول ایکٹوزم یا دعوہ ایکٹوزم کے طریقے میں یہ انوکھی صفت ہے کہ جنگی حالات کے باوجود اس کا عمل جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز دعوہ پر اس کے لیے رُکاوٹ نہیں بنتی۔ اس کی ایک مثال اسلام کی تاریخ ہے۔ اسلام نظریاتی اعتبار سے ایک انقلابی فکر کا حامل ہے، یعنی کئی خداؤں کی پرستش کو چھوڑ کر ایک خدا کی پرستش کی طرف لوگوں کو بلانا۔ اسلام کے اس انقلابی کیریکٹر کی بنا پر وقت کے حکمراں طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی گئی، حتیٰ کہ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی، مگر ان جنگی حالات کے باوجود اسلام فکری طور پر پھیلتا رہا، اسلام کے فکری پھیلاؤ کو کوئی چیز روک نہ سکی۔ حقیقت کا اعتراف اکثر مؤرخین نے کیا ہے۔

سر آر تھر کیتھ (Keith) ایک برٹش اسکالر تھے۔ وہ مصریات(Egyptology) کے ماہر سمجھے انھوں نے قدیم مصر کے بارے میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اسلام کی پر امن اشاعت کے معاملے کو اس طرح بیان کیا ہے ۔ مصریوں کو جس چیز نے فتح کیا وہ مسلمانوں کی تلوار نہیں تھی، بلکہ وہ قرآن تھا :

The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Quran. اسی کا نام دعوہ ایکٹوزم ہے۔ دعوہ ایکٹویزم کا اعتماد، گن یا پولیٹکل پاور پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اعتماد دل اور دماغ پر ہوتا ہے۔ دل اور دماغ کو فتح کرنا، دعوہ ایکٹویزم کا اصل نشانہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود اس کے مائنڈ سے کنٹرول ہوتا ہے۔ مائنڈ ہمیشہ چیزوں کو ریزن اور لاجک پر جانچتا ہے۔ جب کوئی چیز ریزن اور لاجک پر ثابت شدہ بن جائے تو انسان اس کو افورڈ نہیں کر سکتا کہ وہ اُس کے آگے سرینڈر نہ کرے۔ تلوار کسی انسان کی گردن مار سکتی ہے، لیکن لاجک

اور ریزن انسان کے دماغ کو مسخر کر لیتی ہے، اور جب دماغ مسخر ہو جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز مسخر کرنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔

پوری تاریخ میں لوگ دوست اور دشمن کی ڈائکاٹمی میں جیتے رہتے ہیں، وہ کسی کو اپنا دوست سمجھ لیتے ہیں اور اُس کے ساتھ نارمل طریقے سے رہتے ہیں، اور کسی کو اپنا دشمن کہہ دیتے ہیں اور اس کو غیر سمجھ کر اس کے ساتھ غیر معتدل معاملہ کرتے ہیں، مگر دعوہ ایکٹوزم کے طریقے میں یہ ڈائکاٹمی غیر حقیقی دعوہ ایکٹوزم کے تصور کے مطابق، صحیح ڈائکاٹمی یہ ہے کہ ہر آدمی یا تو ہمارا ایکچول دوست ہے، یا وہ ہمارا اپوٹنشیل دوست۔ یعنی جو شخص آپ کو بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دیتا ہے، وہ بھی امکانی طور پر آپ کا دوست ہے۔ کیوں کہ یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے آپ اس کو اپنا دوست بنا سکتے

یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ادفع بالتی هی احسن، فاذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم (حم السجده ۳۴) یعنی اپنے دشمن کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو، پھر تم دیکھو گے کہ جو شخص تمھارا دشمن نظر آتا تھا، وہ تمھارا قریبی دوست بن گیا ہے۔ اس لیے دعوہ ایکٹوزم کا نظریہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ پوٹینشل کو ایکچول بنانے کی کوشش کرو، اپنے آج کے دشمن کو اپنا کل کا دوست بناؤ۔

دعوت ایکٹوزم کی آئیڈیالوجی اِسی انسان فرینڈلی (Human friendly) اصول پر مبنی ہے۔ دعوہ ایکٹوزم کا انسان فرینڈلی تصور ایک آفاقی تصور ہے۔ اِس آفاقی تصور کے دائرے میں نہ صرف عام انسان بلکہ دشمن جیسے لوگ بھی یکساں طور پر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ دعوہ ایکٹوزم کا آغاز اِس مثبت تصور پر ہوتا ہے کہ ساری دنیا میری دوست ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ اُن میں سے کوئی ایکچول دوست ہے اور کوئی پوٹینشل دوست۔

آفاقی انسانیت کا تصور منفی سوچ کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ جو لوگ اِس تصور سے متاثر ہوتے ہیں، وہ مکمل طور پر مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ دعوہ ایکٹوزم کے تصور کے تحت جو کلچر فروغ پاتا ہے، وہ

کامل معنوں میں ایک مثبت کلچر ہوتا ہے۔ اس تصور کے تحت جن لوگوں کا ذہن بنتا ہے، وہ اُس انوکھی صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ منفی تجربے کو مثبت احساس میں تبدیل کر سکیں۔ ظاہر ہے کہ جس سماج میں لوگ منفی احساس کو مثبت احساس میں بدلنے کا آرٹ جانتے ہوں، وہاں ہر طرف مثبت ذہن کے عورت اور مرد ہوں گے۔ وہاں منفی ذہن کے افراد کا کوئی وجود نہ ہوگا۔ وائلنٹ ایکٹوزم، اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں کی اپنی ایک فلاسفی ہے۔ اِسی طرح دعوہ ایکٹوزم کی بھی اپنی ایک مستقل فلاسفی ہے۔ یہ فلاسفی لا آف نیچر پر مبنی ہے۔ یعنی وہ ابدی قانون جس پر خالق نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ دعوہ ایکٹوزم کی فلاسفی براہ راست طور پر خدا کے کریشن پلان (creation plan) سے جڑی ہوئی ہے۔

پوتر قرآن (पवित्र क़ुरआन)

پوتر قرآن، ہندی میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

Printed page