11 ستمبر، اور امت مسلمہ
Al-Risala, February 2007, pp. 25–29
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے صنعتی شہر نیو یارک میں مشہور ورلڈ ٹریڈ ٹاور بنایا گیا۔ یہ دو ٹاور پر مشتمل تھا۔ ایک سو دس منزلیں تھیں ۔ وہ ۷۷-۱۹۷۰ میں بن کر تیار ہوا۔ امریکہ کے ایک سفر کے دوران میں نے اس کو دیکھا تھا، اور اس کے اوپر لفٹ کے ذریعے چڑھا تھا۔ یہ ٹوئِن ٹاور (twin tower) گویا جدید صنعتی دور کا ایک عجوبہ تھا۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو اچانک یہ خبر ملی کہ کچھ ہائی جیکرس نے اس سے ہوائی جہاز ٹکرا کر اس کو توڑ دیا۔
اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد مجھ کو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن جانا ہوا۔ کانفرنس کی روداد ماہ نامہ الرسالہ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس روداد کا ایک حصہ یہ تھا: ”اس کانفرنس کے اجلاس ۱۸ ستمبر ۲۰۰۱ میں میری تقریر تھی۔ جب میں نے لندن میں یہ تقریر کی، اس سے صرف ایک ہفتہ پہلے ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک اور واشنگٹن کی اونچی عمارتوں پر حملے کا واقعہ ہوا تھا، جس میں تقریبا چار ہزار آدمی مر گئے ۔ میں نے اپنی تقریر میں اس واقعے کا ذکر کیا تو غم سے میرا دل بھر آیا، اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس کانفرنس کے صدر مسٹر آندرے بائکوف تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں میرا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان آج ایک ایسا مسلمان بھی موجود ہے جو انسانیت کا درد رکھنے والا ہے، اور جو ۱۱ ستمبر کے واقعے پر اتنا زیادہ دکھی ہے کہ وہ اس کے لیے روتا ہے۔ اس انٹرنیشنل کانفرنس میں میرے سوا، ایک اور مسلمان تھے۔ وہ امریکہ سے آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ صرف ایک مسلمان کی بات نہیں، بلکہ یہ سارے مسلمانوں کی بات دنیا بھر کے تمام مسلمان ۱۱ ستمبر کے واقعے پر رو رہے ہیں اور چلا رہے ہیں: The whole Muslim world is weeping and crying. اجلاس کے بعد کھانے کی میز پر مذکورہ امریکی مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے ان
سے کہا کہ میں بھی اسی مسلم دنیا میں رہتا ہوں، میں نے تو کسی مسلمان کو امریکا کے اس واقعے پر ’’روتے اور چلاتے ہوئے‘‘ نہیں دیکھا۔ آخر یہ آپ کس مسلم دنیا کی بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ امریکہ بہت چودھراہٹ کر رہا تھا، اس کو سبق دینا تو ضروری تھا‘‘۔ (ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر، ۲۰۰۲، صفحہ ۹)
۱۱ ستمبر کے واقعے پر مسلمانوں کا پہلا ردعمل یہی تھا۔ اس خبر کو سن کر عام طور پر وہ خوش تھے۔ کے مفروضے کے مطابق، امریکہ، اسلام کا دشمن نمبر ایک (عدوّ الاسلام رقم واحد) تھا، اس لیے ان کے لیے یہ ایک پُر مسرت خبر تھی کہ کچھ لوگوں نے خود امریکہ کے ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کر کے ان کو امریکہ کے نشان فخر (ورلڈ ٹریڈ ٹاور) سے ٹکرا دیا۔ اس طرح انھوں نے ظالم امریکہ کو ’’سبق سکھانے‘‘ کی کوشش کی۔
اس کے بعد مغربی ذرائع سے یہ خبریں آنے لگیں کہ نیو یارک کے ٹاور کو جن لوگوں نے توڑا، وہ سب کے سب مسلمان تھے۔ اب مسلم دانش وروں نے عجیب و غریب طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ خود امریکی انتظامیہ نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے یہ واقعہ انجام دیا ہے۔ کچھ اور لوگوں نے انکشاف کیا کہ یہ واقعہ کچھ یہودیوں نے کیا ہے، مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اسی قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس درمیان میں امریکہ کی انتظامیہ نے اس معاملے کا باقاعدہ ثبوت پیش کرتے ہوئے اُن مسلمانوں کے نام شائع کر دیے جو اس واقعے کے ذمے دار تھے۔ لیکن مسلم دانش ور اب بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس واقعے کے ذمے دار مسلمان ہیں۔
یہ بحث اسی طرح چلتی رہی۔ یہاں تک کہ آخر میں الجزیرہ ٹی وی نے اپنے پروگرام میں ایک ایسا ویڈیو ٹیپ دکھایا جو آخری طور پر ثابت کر رہا ہے کہ ۱۱ ستمبر کا واقعہ مسلمانوں نے کیا تھا، اور اس کی قیادت خود اسامہ بن لادن نے کی تھی۔ الجزیرہ ٹی وی، اب تک مسلمانوں کے درمیان معتبر ذریعے کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی میں دکھایا ہوا یہ ویڈیو تمام میڈیا میں آ چکا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی
اخبار ٹائمز آف انڈیا، ۹ ستمبر ۲۰۰۶ کے صفحہ ۸ پر یہ خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہے: Al-Jazeera airs pre-9/11 tape of bin Laden Shows Osama Meeting Planners of WTC Attacks, Greeting Hijackers. ۱۱ ستمبر کے اس واقعے کے بعد مسلمانوں کا ردِّعمل بلاشبہ درست نہ تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ۱۱ ستمبر اور اس طرح کے دوسرے واقعات، جدید میڈیا کے دور میں پیش آئے۔ جدید میڈیا کا مزاج یہ ہے کہ وہ سنسنی خیز واقعات کو بہت زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ اس واقعے کے پیش آنے کے بعد، مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے نے اپنی ساری توجہ صرف اس سوال پر دی کہ اس کا کرنے والا کون تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ثانوی مسئلہ تھا۔ زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ اس واقعے نے اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بہت زیادہ بگاڑ دی۔ ساری دنیا میں اسلام کو اور مسلمانوں کو وحشت خیز نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس لیے اصل ضرورت یہ تھی کہ اس سوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے کہ اسلام کی تصویر کو کس طرح دوبارہ درست کیا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں کے اوپر فرض تھا کہ وہ اس معاملے کو درستیٔ تصویر (image building) کی حیثیت سے لیں، اور سارے ممکن ذرائع کو استعمال کرکے وہ اس بات کی کوشش کریں کہ اسلام اور مسلمانوں کی تصویر دوبارہ اپنی صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے آسکے، مگر بدقسمتی سے یہ کام نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ اب ساری دنیا میں مسلمان اس کا سخت انجام بھگت رہے ہیں۔
مجھے ہندوستان کے ایک مسلم مدرسے کا واقعہ معلوم ہے۔ یہ مدرسہ ایک ندی کے کنارے واقع اس ندی کے دوسری طرف ایک گاؤں تھا۔ وہاں سے ہندو عورتیں نہانے اور کپڑا دھونے کے لیے اس ندی پر آیا کرتی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مدرسے کے ایک طالب علم نے ایک ہندو عورت کو چھیڑ یہ خبر جب گاؤں والوں کو پہنچی تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس مدرسے کو جلا کر ختم کر دیں گے۔
مدرسے کے ذمہ داروں کو جب اس کا علم ہوا تو انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ گاؤں والوں کو ذمے
دار بتا کر وہ ان کے خلاف تقریریں کریں یا بیانات شائع کریں، بلکہ مدرسے کے ذمے دار، اُس لڑکے کو لے کر گاؤں میں گئے اور کہا کہ۔ اس لڑکے نے بہت غلط کام کیا ہے۔ آپ جو سزا چاہیں اس لڑکے کو دے سکتے ہیں۔ اس اعترافِ خطا کا نتیجہ یہ ہوا کہ گاؤں کے ہندو نرم پڑ ِگیے انھوں نے لڑکے کو معاف
اس کے بعد مدرسے والوں نے مسلسل کوشش کے ذریعے گاؤں والوں کو ٹھنڈا کیا۔ یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعے گاؤں والوں کو اپنا دوست بنالیا، یہاں تک کہ ناخوش گوار واقعہ ایک خوش گوار انجام پر ختم ہوگیا۔ میں خود اس مدرسے میں گیا ہوں اور وہاں میں نے ذاتی طور پر اس واقعے کی تحقیق کی ہے، اور گاؤں کے بعض افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔
اس طریقے کو آج کل کی زبان میں امیج بلڈنگ(image building) کہا جاتا ہے۔ ذاتی مسئلے کو حل کرنے کے لیے عام طور پر لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ۱۱ ستمبر کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں امیج بلڈنگ کا یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا، حتیٰ کہ مسلمانوں کے کسی عالم یا کسی دانش ور نے بطور تجویز بھی یہ بات پیش نہیں کی۔
اب مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنی سابقہ روش کو ترک کر کے پوری سنجیدگی کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کریں۔ اگر ایک مسلم مدرسے کی تصویر بگڑنے کے بعد دوبارہ درست ہوسکتی ہے تو یقینی طور پر یہ بھی ممکن ہے کہ امتِ مسلمہ کی بگڑی ہوئی تصویر دوبارہ درست
تخلیق کس لیے Creation For What ۳ جنوری ۲۰۰۶ کی رات کو میں دہلی میں اپنی رہائش گاہ (سی۔ ۲۹، نظام الدین ویسٹ) میں رات کو پچھلے پہر میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ امریکا کے صدر جارج بش جونیئر، میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ میرے بیٹے کو پڑھادیجئے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے مکان میں ہوں۔ میں اس مکان کے اوپر کی منزل کے ایک کمرے میں وہاں جارج بش کے بیٹے مغربی لباس پہنے ہوئے میرے پاس آتے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً ۱۲ سال ہے۔ بیٹے نے مجھ سے پہلا سوال یہ کیا: