Al-Risala · February 2007

Why was man created

Al-Risala, February 2007, pp. 29–30

By Maulana Wahiduddin Khan

نیند کھلی تو میں نے اس خواب پر غور کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ آج کی پوری دنیا کا سوال آج پوری انسانیت شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سوال سے دوچار ہے۔ آج ہر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے آنے کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا۔ کائنات کے وسیع نقشے میں اس کا مقام کیا ہے۔ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی اس مطلوب منزل تک پہنچ سکتا ہے، جو اس کے دماغ میں بسی ہوئی ہے۔

وہ دنیا جس کو جدید دنیا کہا جاتا ہے، وہ پوری بشری تاریخ کا ایک انوکھا دور ہے۔ زمانے میں اپنے اندر کچھ آرزوئیں لے کر پیدا ہوتا تھا۔ وہ ان آرزوؤں کو صرف اپنی کہانیوں میں ظاہر کر سکتا تھا۔ مگر ساری عمر کی کوشش کے باوجود وہ ان آرزوؤں کی تکمیل نہیں کر سکتا تھا اور محرومی کے احساس کے ساتھ مر جاتا تھا۔

موجودہ دنیا میں بظاہر ان آرزوؤں کی تکمیل کا سامان حاصل ہو چکا ہے۔ جس اڑن کھٹولے کا تصور صرف کہانیوں میں پایا جاتا تھا وہ اب ہوائی جہاز کی صورت میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔

کمیونی کیشن صرف افسانوی کبوتر کے ذریعے متصور ہوتا تھا وہ اب جدید کمیونی کیشن کے ذریعے ایک عملی واقعہ بن چکا ہے۔

یہی معاملہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے کے تمام خواب آج بظاہر واقعہ بن چکے ہیں۔ قدیم زمانے کے افسانوی شہر اب بظاہر عملاً بنائے جاچکے ہیں جن کے اندر دنیا بھر میں عورت اور مرد رہ رہے ہیں۔ قدیم زمانے کی افسانوی زندگی اب بظاہر واقعہ بن چکی ہے۔ لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کا سوال ہے، انسان آج بھی حقیقی خوشی حاصل نہ کرسکا۔ شاخوں پر چہچہانے والی چڑیاں خوش ہوں گی لیکن انسان اب بھی خوشی سے محروم ہے۔ آج دنیا کے بازار میں ہر چیز مل سکتی ہے، مگر سکون کا سرمایہ کسی بازار میں میسر نہیں۔ اس الم ناک صورتِ حال کا واحد سبب ایک ہے۔ اور وہ ہے — صرف ،قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) کو سامنے رکھ کر زندگی کو اکسپلین کرنے کی کوشش کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ایک بعد از موت دورِ حیات (post-death period) ہے، اور اس ابدی دورِ حیات کو شامل کیے بغیر زندگی کی اطمینان بخش توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ — قبل از موت دور، اور بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی مدتِ حیات گویا فصل بونے کی مدت ہے، اور بعد از موت دور کی مدتِ حیات گویا پھل حاصل کرنے کی مدت۔ کا قانون یہ ہے کہ فصل کے بغیر پھل نہیں اور پھل کے بغیر زراعت کی کوئی معنویت نہیں۔ کے اس معاملے کو جانے بغیر، انسانی زندگی کی اطمینان بخش توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔

Printed page