Al-Risala · February 2007

انسان کی کہانی

Al-Risala, February 2007, pp. 31–37

By Maulana Wahiduddin Khan

حیوانات کے لیے زندگی صرف ایک بار ہے مگر انسان کے لیے استثنائی طور پر زندگی دو بار ہوتی ہر انسان اصلاً ابدی حیات کا مالک ہے۔ اس ابدی زندگی کا بہت مختصر حصہ قبل از موت دورِ حیات اور اس کا بقیہ تمام حصہ بعد از موت دورِ حیات میں۔

کائنات کی دوسری چیزیں قانون فطرت کے ماتحت ہیں۔ یہاں کی ہر چیز جبری طور پر وہی کرتی ہے جو اس کے لیے قانونِ فطرت کے تحت مقدر کر دیا گیا ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ اس سے انسان استثنائی طور پر ایک آزاد مخلوق ہے۔ وہ اپنا مستقبل خود اپنے آزاد ارادے کے تحت وہ اپنی آزادی کا یا تو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال۔ وہ اپنے مواقع کو یا تو پاتا ہے یا اس کو نادانی کے ساتھ کھو دیتا ہے۔

اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں خدا نے یہ اعلان کیا ہے کہ ۔ ہم نے انسان کو بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے درجے میں پھینک دیا (التین ۴ - ۵)

We created man in the best mould, then we cast him down to the lowest of the low. یہ گویا انسان کے لیے ایک وارننگ ہے جو اس کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ امکانات کے ساتھ پیدا کیا، مگر انسان اپنے امکانات کا کم تر استعمال کر کے اپنے آپ کو بدترین ناکامی میں ڈال دیتا ہے: God created man with great potential, but by under-utilizing his potential he makes himself a worst case of failure. انسان کی شخصیت ایک دوہری شخصیت ہے۔ جسم اور روح (یا ذہن)۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق ہے، وہ

غیر ابدی ہے۔ جب کہ انسان کی روح ایک ابدی وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کی روح ایک مادی حقیقت ہے۔ وہ مادی قوانین سے بالاتر ہے۔ جب کہ انسان کا جسم مادی قوانین کے ماتحت ہے اور مسلسل طور پر فنا پذیر ہے۔

حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم بہت چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) سے بنا ہے۔ ہر لمحہ ہزاروں کی تعداد میں ٹوٹتے رہتے ہیں۔ انسان کا نظام ہضم گویا ایک خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ مسلسل طور پر خلیات کی سپلائی کرتی رہتی ہے۔ اس طرح جسم اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہ عمل اس طرح ہوتا ہے کہ ہر چند سال کے بعد آدمی کا جسم بالکل ایک نیا جسم بن جاتا ہے۔ لیکن اس کا روحانی وجود کسی تبدیلی کے بغیر اسی طرح باقی رہتا ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ انسان کی شخصیت تغیر کے درمیان عدم تغیر کا نام ہے : Personality is changeless in change. انسان کی ناکامی کا پہلا مظہر یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے غیر متغیر حصے کو نظر انداز کرتا ہے، اور اپنی شخصیت کے تغیر پذیر حصے کو اچھا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنی ساری توجہ فانی انسان کی بہتری میں لگا دیتا ہے، اور ابدی انسان کی بہتری کے لیے وہ نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ کچھ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک محدود مدت گزار کر جب وہ مرتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کا فانی وجود اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے اور اس کا ابدی وجود ترقیات سے محروم حالت میں زندگی بعد موت کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔

یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں انسان کی ناکامی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بلاشبہ بدترین ناکامی ہے کہ انسان انتہائی اعلیٰ امکانات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا جائے مگر وہ اپنے امکانات کو صرف ناقص طور پر استعمال کرے اور اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے اپنے اس عدم استعمال کی قیمت دینے کے لیے اپنے ابدی دور حیات میں داخل ہو جائے۔

اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان استثنائی طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ (conceptual thought) انسان کی ایک ایسی صفت ہے جو وسیع کائنات کی کسی بھی چیز میں نہیں پائی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں :

حتی کہ حیوانات میں بھی نہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان ہے: Man is a thinking animal. اس اعتبار سے دیکھیے تو انسان کی شخصیت دو چیزوں پر مشتمل ہے ــــــ غیر تفکیری جسم، اور جو لوگ اپنے امکانات کو محدود طور پر صرف مادی دائرے میں استعمال کریں وہ گویا اپنے وجود کے غیر تفکیری حصے کی تو خوب تزئین کر رہے ہیں لیکن اپنے وجود کے تفکیری حصے کی ترقی کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ موت سے پہلے کی اپنی تمام عمر جسمانی ترقی (physical development) میں صرف کر دیتے ہیں، اور جہاں تک ذہنی ترقی (intellectual development) کی بات ہے وہ اس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں پر جب موت آتی ہے تو اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسی طرح مر جاتے ہیں جس طرح کوئی حیوان مرتا ہے، یعنی اپنے جسم کو خوب فربہ بنانا، اور اگلے دورِ حیات میں اس طرح داخل ہونا کہ ان کا ذہن تمام ترقیوں سے محروم ہو اور اگلے دورِ حیات میں طویل حسرت کے سوا کچھ اور ان کے حصے میں نہ آئے۔ اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور پایا اس کائنات کی تمام چیزیں ،بشمول حیوانات، صرف اپنے آج (today) میں جیتے ہیں۔ صرف انسان ہے جو کل کا شعور رکھتا ہے، اور کل کو نشانہ بنا کر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ بقیہ چیزیں صرف حال (present) میں جیتی ہیں اور انسان استثنائی طور پر مستقبل (future) میں۔ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ لوگ بدترین محرومی کا شکار ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو صرف آج کی چیزوں کے حصول میں لگا دیں اور اپنے کل کی تعمیر کے لیے وہ کچھ نہ کریں۔ ایسے لوگ موت سے پہلے کی زندگی میں بظاہر خوش نما دکھائی دے سکتے ہیں لیکن موت کے بعد کی زندگی میں وہ محرومی کی بدترین مثال بن جائیں گے۔ کیوں کہ موت کے بعد کی زندگی میں جو چیز کام آنے والی ہے وہ ذہنی اور روحانی ترقی ہے نہ کہ دنیوی مفہوم میں مادی ترقی۔

اِسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر لامحدود خواہشیں رکھتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ہر

انسان کے اندر لا محدود صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جن کو استعمال کرکے وہ لامحدود حد تک اپنی خواہشوں کی تکمیل کرے، مگر ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا صرف اتنا استعمال کر پاتا ہے جو اس کو موت سے پہلے کی محدود دنیا میں کچھ وقتی راحت دے سکے۔ مگر آخر کار ہر انسان کا یہ انجام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ان تمام صلاحیتوں کو لیے ہوئے موت کے بعد والی ابدی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر بے راحت زندگی گزارے، کیوں کہ اُس نے اِس دوسرے دورِ حیات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کیا تھا۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے حقیقت پسندانہ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے کہ اس کی فطری صلاحیتیں بھر پور طور پر اس کے ابدی مستقبل کی تعمیر میں استعمال ہوں۔ اپنے امکانات (potentials) کو سمجھے اور اُن کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ اپنے ابدی دورِ حیات میں ان کا مفید نتیجہ پاسکے۔ وہ اپنے آپ کو اس بُرے انجام سے بچائے کہ آخر میں اس کے پاس صرف یہ کہنے کے لیے باقی رہے کہ میں اپنے امکانات کو استعمال کرنے سے محروم رہا: I was a case of missed opportunities. انسان کے لیے حقیقت پر مبنی منصوبہ بندی یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دور حیات میں مادی چیزوں کے معاملے میں صرف ضرورت (need) پر قناعت کرے، اور اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا بیش تر حصہ اس پر خرچ کرے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں ایک مطہر شخصیت (purified personality) کے ساتھ داخل ہو۔ تاکہ اس کو ابدی دور حیات کی معیاری دنیا (perfect world) میں عزت اور راحت کی مطلوب زندگی مل سکے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ موت سے پہلے کے دورِ حیات اور موت کے بعد کے دورِ حیات دونوں میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو تیار شخصیت (prepared personality) مادی معنوں میں تیار شخصیت موت سے پہلے کے دور حیات میں ترقی کا ذریعہ بنتی ہے، اور روحانی معنوں میں تیار شخصیت اِس دورِ حیات میں کام آئے گی جہاں موت کے بعد آدمی کو رہنا ہے۔

مادی معنوں میں تیار شخصیت یہ ہے کہ آدمی پروفیشنل ایجوکیشن حاصل کرے۔ آدمی کے اندر تجارتی صلاحیت ہو۔ آدمی کے اندر وہ صفات ہوں جن کے ذریعے کوئی شخص لوگوں کے درمیان مقبول آدمی قریبی مفاد (immediate gain) کو آخری حد تک اہمیت دیتا ہو، وغیرہ۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جو تیار شخصیت درکار ہے وہ ایسی شخصیت ہے جس نے موجودہ دنیا کے مواقع کو روحانی ارتقاء (spiritual development) اور فکری ارتقاء (intellectual development) کے لیے استعمال کیا۔ ایسی ہی شخصیت موت کے بعد کے دورِ حیات میں باقیمت ٹھہرے گی۔

یہ شخصیت وہ ہے جس نے اپنی عقل کو استعمال کرکے سچائی کو دریافت کیا۔ جو شبہات کے جنگل میں یقین پر کھڑا ہوا۔ جس نے خدا کو اپنی زندگی کا واحد کنسرن بنایا۔ جس نے خودپسندی کے جذبات کو کچل کر خدا پرستی کے طریقے کو اختیار کیا۔ جو منفی حالات میں مثبت سوچ پر قائم رہا۔ جس نے نفسانی انسان بننے کے بجائے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔ جس نے مفاد پرستی کے بجائے اصول پسندی کا طریقہ اختیار کیا۔ جس نے اپنے آپ کو نفرت سے بچایا اور اپنے اندر انسانی خیرخواہی کے جذبات کی جس نے آزادی کے باوجود اطاعت (submission) کا طریقہ اختیار کیا۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول مسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :

دی اسپرچول مسیج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ 165/- روپے ۔

خط وکتابت کا پتہ ہے:

The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400099 (India)

Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323

عزیزی اُم السلام سلمہا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۵ نومبر ۲۰۰۶ کی شام کو ٹیلی فون کے ذریعے معلوم ہوا کہ عثمان بن سعید چاوُش کا انتقال اِنّا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی صحت عرصے سے اچھی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کے لیے حُسن تلافی کا سامان فرمائے۔

مرحوم سے میرا پہلا تعارف اْس وقت ہوا جب کہ میں رام پور میں تھا۔ یہ تعارف غائبانہ سطح پر پندرہ روزہ ’’الحسنات‘‘ کو دیکھ کر انھوں نے مجھ کو خطوط لکھے، اس طرح ان سے خط و کتابت بعد کو اُن سے براہِ راست ملاقات ہوئی اور پھر ان سے وہ تعلق قائم ہوا جو آخر وقت تک

مرحوم بلاشبہ ایک مخلص انسان تھے۔ وہ ہمیشہ دین کی بات کرتے تھے۔ اُن کو میں نے کبھی ادھر اُدھر کی غیر دینی بات کرتے ہوئے نہیں سُنا۔ الرسالہ مشن کو پھیلانے میں انھوں نے بہت زیادہ کام برسوں تک ان کا یہ حال تھا کہ سفر کر کے وہ ہر جگہ پہنچتے اور الرسالہ، اور الرسالہ مطبوعات کو لوگوں اس معاملے میں ان کی قربانیاں بے مثال ہیں۔

مرحوم مثبت ذہن کے حامل تھے اور خالص داعیانہ مزاج رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے ایک قریبی ساتھی برادرم محمد ضمیر (کامٹی) کا ایک خط مجھے ملا۔ اپنے اس خط میں انھوں نے مرحوم کے دعوتی اور مثبت مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا ایک واقعہ اس طرح لکھا ہے: ’’ایک مرتبہ منگھیڈ (نانڈیڑ) میں کسی غیر مسلم نے اپنی دیوار پر لکھ دیا تھا کہ۔ ’’گرو سے کہو، ہم ہندو ہیں‘‘ اس کے جواب میں آپ نے کوئی چیخ و پکار نہیں کی، نہ ہی انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا، بلکہ انھوں نے اس کے جواب میں صرف محبت کا ایک جملہ لکھ دیا جس پر شرمندہ ہو کر مذکورہ ہندو بھائی

نے اپنا جملہ دیوار سے مٹا دیا۔ مرحوم کی وہ بات یہ تھی ’’مذہب گرو کرنے کی چیز نہیں ہے۔ ‘‘ یہ جملہ انھوں نے مراٹھی زبان میں لکھا تھا۔

مرحوم کی ایک بات مجھے بہت یاد آتی ہے۔ وہ اکثر پر یقین انداز میں کہا کرتے تھے: ’’اللہ بہت بڑے ہیں۔ ‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مومنانہ نفسیات کا خلاصہ ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی بات ہے کہ آدمی کے دل میں خدا کی عظمت بیٹھی ہوئی ہو۔ خدا کی عظمت کا احساس آدمی کو ایک طرف یقین کا سرچشمہ عطا کرتا ہے، اور دوسری طرف وہ اس کے اندر کامل تواضع پیدا کر دیتا ہے۔ یہی دو چیزیں انسان کی شخصیت کی اعلیٰ تعمیر کرنے والی ہیں۔

مرحوم خود اس بات کا کامل نمونہ تھے۔ ان کی ہر ادا سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ خدا کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے اندر تواضع کی صفت بھی کامل درجے میں پائی جاتی تھی۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے:

خدا، رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را!

گھر کے تمام لوگوں کو حسب مراتب سلام اور دعاء۔

Printed page