نئی دہلی، ۶ نومبر ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
Al-Risala, February 2007, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۵ دسمبر ۲۰۰۶ء کی صبح کو میری اہلیہ سابعہ خاتون کا انتقال ہوگیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً ۸۰ سال تھی۔ ان کا پہلا نکاح میرے چچازاد بھائی نظام الدین خاں سے ہوا تھا۔ ان سے ایک بچی بھی پیدا ہوئی تھی، مگر نظام الدین خاں اور بچی دونوں جلد ہی وفات پاگیے۔ ان سے میرا نکاح جولائی ۱۹۴۲ میں وفات سے پہلے اور وفات کے بعد کئی لوگوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت کے باغوں میں ہیں۔ مرحومہ کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ ان کے اندر بے پناہ صبر و شکر تھا۔ میں اپنے مشن کی بنا پر ساری عمر دیوانے کی مانند رہا۔ یہاں تک کہ میرے خاندان کے لوگ مجھ کو مجنوں (mad) کہنے لگے۔ میری یہ حالت شروع سے آخر تک باقی رہی۔ مرحومہ نے کامل صبر کے ساتھ اس کو برداشت کیا۔ نے نہ کبھی مجھ سے شکایت کی اور نہ کسی اور سے۔ میرے مشن میں ان کا حصہ اتنا زیادہ ہے کہ شاید ان کے بغیر میرا مشن وجود ہی میں نہ آتا۔
اس معاملے میں جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی اور مشن میں تین خواتین کا بے حد اہم حصہ ہے۔ میری ماں زیب النساء (وفات: ۱۹۸۵)، میری اہلیہ سابعہ خاتون اور میری لڑکی فریدہ خانم۔
میری بیوی اکثر یہ کہتی تھیں کہ۔ آپ کو لکھنے پڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ یہ بات بالکل لفظی طور پر درست ہے۔ میری اس نااہلی کی تلافی مذکورہ تینوں خواتین نے کی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی انتظام تھا کہ اُس نے ان تین خواتین کے ذریعہ میری نااہلی کی تلافی کا انتظام فرمایا۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ۔ ہر بڑی چیز کے آغاز میں ایک عورت ہوتی ہے:
There is a woman at the beginning of all great things. میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میری زندگی اور میرا مشن جو کچھ ہے، وہ انھیں تین خواتین کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر یہ تین فرشتہ صفت خواتین مجھ کو نہ دی ہوتیں تو میں کچھ بھی نہ
ہوتا اور نہ میرا دعوتی مشن وجود میں آتا۔ میں نے اپنی کتاب ’’عورت: معمار انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی انسان کے لیے بہترین ذہنی رفیق (intellectual partner) ہے۔ میرا احساس ہے کہ تاریخ میں غالباً میں پہلا شخص ہوں جس نے عورت کی اس خصوصی اہمیت کو دریافت کیا۔ میری یہ دریافت خلا میں نہیں ہوسکتی تھی، اور نہ کتابوں کے ذریعہ، کیوں کہ کتابوں کے ذخیرے میں یہ تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ عظیم دریافت مذکورہ تین خواتین سے تعلق کے دوران میرے لیے ممکن ہوسکی۔
۲۵ دسمبر کو قبرستان پنج پیراں (نئی دہلی) کی مسجد میں مرحومہ کی نمازِ جنازہ ہوئی، مولانا محمد ہارون صاحب (امام کلاں مسجد) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد ہم لوگ تدفین کے مقام پر پہنچے۔ قبر کھودی جا چکی تھی۔ جب مرحومہ کے کپڑے میں لپٹے ہوئے جسم کو قبر میں اتارا گیا تو مجھ پر عجیب احساس طاری ہوا۔ محسوس ہوا جیسے کہ پوری انسانیت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور وہ آخری طور پر موجودہ دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں جارہی ہے۔ میرا یہ احساس اُس وقت شدید ہو گیا جب کہ تدفین کے وقت میں نے حسبِ قاعدہ قبر میں تین مٹھی مٹی ڈالتے ہوئے کہا: منها خلقناكم وفيها نعودكم ومنها نخرجكم تارة أخرى (طٰه: ۵۵) مجھے یاد آیا کہ 1965 میں جب کہ میں لکھنؤ میں تھا، مرحومہ کی طبیعت کافی خراب ہوگئی۔ ان کے طبی معائنے کے لیے انھیں ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے مطب (حضرت گنج) میں لے گیا۔ نے دیکھنے کے بعد فوراً کہا— آپ نے بہت دیر کر دی: You are too late عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کا انتقال ۱۹۷۴ میں ہو گیا ۔ اور ان کے انتقال کے ۳۲ سال بعد مرحومہ کی وفات ہوئی۔ مرحومہ کی صحت بہت عرصے سے خراب رہتی تھی۔ مشن کے اعتبار سے میری زندگی کا جو طریقہ بنا، اس کی وجہ سے ان کو بہت سی مشکلات پیش آئیں۔ آخر میں ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہو چکی تھی ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کی پوری زندگی ایک پر مسئلہ زندگی بن کر رہ گئی۔ وہ ۶۳ سال تک میری زندگی کی رفیق بنی رہیں ۔ اس کو سوچتے ہوئے میرے ذہن میں خیالات کا طوفان آگیا۔ میں نے سوچا کہ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جو اعلیٰ معیار کی حد تک مکمل ہے، دنیا
کی اس معیاری صفت کو شعوری طور پر صرف انسان جانتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود انسان اپنی پسند کے خلاف غیر معیاری زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ انسان اور بقیہ کائنات کے درمیان یہ فرق کتنا عجیب ہے۔ ۶۳ سالہ رفاقت کی داستان بہت لمبی ہے۔ کسی وقت انشاء اللہ اس کو تحریر کروں گا۔ واقعے کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ واقعہ میرے مشن میں ایک بنیادی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں ۲۴ جون ۱۹۷۲ کو دہلی آیا۔ اُس وقت میں یہاں الجمعیۃ ویکلی سے وابستہ تھا۔ تحت مجھے جمعیۃ بلڈنگ (دہلی) میں دفتر کے طور پر ایک کمرہ دیا گیا تھا۔ میں یہاں اس طرح تھا کہ ہر دن یہ سوچتا تھا کہ مجھے دہلی سے واپس چلا جانا چاہیے۔ اچانک ایک دن میں نے دیکھا کہ میرے تین بچے اُم السلام اور فریدہ خانم اور ثانی اثنین میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ کہا کہ تم لوگ یہاں کیسے آئے ۔ بچوں نے بتایا کہ والدہ کے ساتھ۔ اس کے بعد میری بیوی کمرے میں اُس وقت میرے پاس دہلی میں رہنے کے لیے ایک چھوٹے کمرے کے سوا کچھ اور نہ میں سخت پریشان ہوا۔
غصے کی حالت میں یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر چلا گیا کہ ــــ اس طرح کوئی ایسا شخص ہی آ سکتا ہے جو یا تو پاگل ہو، یا جس کے پاس کوئی گھر نہ ہو۔ یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر چلا گیا اور شہر کی ایک مسجد میں گم نام طور پر رہنے لگا۔ تین دن کے بعد مجھے احساس ہوا تو میں دوبارہ اپنے کمرے میں واپس آیا۔ اصل یہ ہے کہ میری بیوی کو یقین تھا کہ میں خود سے کبھی ان کو دہلی نہیں بلاؤں گا۔ اُس وقت وہ یوپی کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ وہاں بچوں کی تعلیم نہ ہو سکے گی ۔ اس لیے وہ ایک طرفہ فیصلے کے تحت دہلی آگئیں۔ ان کا یہ خیال بالکل درست تھا۔ دہلی آنے کی وجہ ہی سے ایسا ہوا کہ میرے بچوں کی باقاعدہ تعلیم مکمل ہوسکی۔
اسی کے ساتھ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے دارالسلطنت میں الرسالہ مشن کی بنیاد پڑی۔ اس طرح دہلی نہ آتیں اور دہلی کے قیام پر اصرار نہ کرتیں تو الرسالہ مشن کبھی شروع نہ ہوتا۔ اور دعوت کا وہ کام انجام نہ پاتا جو دہلی کے قیام کے دوران خدا کی خصوصی توفیق سے انجام پایا۔