Al-Risala · January 2007

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

Al-Risala, January 2007, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

عرض یہ کہ ماہ نامہ زندگی نو کے شمارہ جنوری ۲۰۰۶ میں آپ کا ایک مضمون بعنوان: ’’اجتہاد، عصر حاضر کی ایک دعوتی ضرورت‘‘ چھپا ہے۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے دار الدعوۃ کا ذکر کیا ہے اور اس کے تحت آپ نے یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ محمد محروس مدرس الاعظمی بھی اسی نظریے سے اتفاق کرتے ہیں‘‘۔

میں نے مذکورہ دونوں صاحبان کی کئی تحریریں پڑھی ہیں۔ اپنے مطالعے کے مطابق، میں نے ان کی کسی تحریر میں دار الدعوۃ کا تصور نہیں پایا۔ براہِ کرم ان دونوں صاحبان کی اُن کتابوں کے نام اور ان کا صفحہ نمبر تحریر فرمائیں جن میں انھوں نے دار الدعوۃ کے تصور کا ذکر کیا ہے، تاکہ اس سے رجوع کر کے اس بات کو معلوم کیا

نئی دہلی، ۴ جنوری ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین کافی انتظار کے باوجود اُن کی طرف سے اِس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اِس کے بعد انھیں یاد دہانی کے طور پر دوسرا خط روانہ کیا گیا۔ اِس دوسرے خط کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے: برادر محترم مولا نا ظریف شہباز ندوی!

Printed page