Al-Risala · March 2008

عظیم ترین شہادت

Al-Risala, March 2008, pp. 15–22

By Maulana Wahiduddin Khan

شہادت کے لفظی معنیٰ گواہی (witness) کے ہیں۔ شہادت، قرآن کی ایک خاص اصطلاح اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ دینی عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا کام (الصف: 14) بتایا ہے۔

اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو ان کی موت سے پہلے بتا دیا جائے کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان (creation plan) کیا ہے۔ قبل از موت زندگی کیا ہے اور بعد از موت زندگی کیا ہے۔ اسی لیے اس کام کو قرآن میں انذار و تبشیر (الأحزاب: 45) کا کام قرار دیا

یہی وہ خاص کام ہے جس کے لیے خدا نے ہر زمانے میں اپنے پیغمبر بھیجے اور اب ختم نبوت کے بعد یہی کام آپ کے امتیوں کو انجام دینا ہے۔ جو شخص انذار و تبشیر کے اس کام کو انجام دے وہ داعی ہے، اور جس کے اوپر اس کام کو انجام دیا جائے وہ مدعو ہے۔ داعی اور مدعو کے اس تعلق کو قرآن میں شاہد اور مشہود (البروج: 3) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

دعوت یا شہادت کا یہ عمل انسان کی تخلیق کے آغاز ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس مقصد کے لیے ہر مقام پر اور ہر زمانے میں پیغمبر آتے رہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اب کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں، لیکن پیغمبر کا دعوتی کام پیغمبر کے متبعین کے ذریعے بدستور باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ تاہم تاریخی اعتبار سے اس دعوتی کام کے دو دور ہیں۔ قبل از سائنس دور اور بعد از سائنس دور۔ جدید سائنس کے ظہور سے پہلے دنیا میں توہمات (superstitions) کا غلبہ تھا۔ جدید سائنس نے پہلی بار اس توہماتی دور کو ختم کیا۔ اس کے بعد دنیا میں عقلی طرزِ فکر کا دور آیا۔ اس اعتبار سے دعوتی عمل کے بھی مختلف ادوار ہیں۔ ایک، قدیم روایتی دور میں کیا جانے والا دعوتی کام اور دوسرا، جدید سائنسی دور میں

کیا جانے والا دعوتی کام۔ جدید دور سائنس میں کیا جانے والا یہی دعوتی کام ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت قرار دیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال) دعوت یا شہادت کے اس عظیم ترین کام کا ذکر خود قرآن میں بھی موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 42 میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے دلائل ظاہر ہوں گے جن کے ذریعے حق کی تبیین اعلی ممکن ہو جائے گی ۔ اس قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے ، کائنات میں بھی اور خود انسانوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ بلاشبہ حق ہے (حم السجدة : 53)۔

اول الذکر حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں جب کہ دجالی فتنہ ظاہر ہوگا ، ایک شخص اس کے مقابلے میں 'حجیج بن کر اٹھے گا۔ وہ دجالی فتنے کو حجت اور دلیل (rational argument) کے ذریعے ختم کرے گا اور امر حق کو اعلیٰ ترین سطح پر مبرهن کر دے گا ، اور یہ دعوتی کام اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر امر حق کی اعلیٰ ترین شہادت کے ہم معنی ہوگا (هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين) ۔

بظاہر اس حدیث رسول میں ایک فرد (حجیج) کا ذکر ہے، لیکن اس دنیا میں کوئی بھی بڑا کام ایک فرد کا ذاتی کارنامہ نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ زمانے میں کچھ خصوصی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ مواقع ہمیشہ لمبے تاریخی عمل کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں۔ اس معاملے میں فرد کا حصہ یہ ہے کہ وہ ان مواقع کو دریافت کرتا ہے اور منصوبہ بند انداز میں اُن کو استعمال کرتا ہے۔ اس طرح وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو انقلاب کہا جاتا ہے۔ کوئی انقلاب کبھی بھی شخصی چمتکار کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجود مواقع کو دانش مندانہ انداز میں استعمال کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ دینی انقلاب کا بھی ہے اور یہی معاملہ سیکولر انقلاب کا بھی۔

اس معاملے کی ایک سیکولر مثال انڈیا کے قومی لیڈر مہاتما گاندھی کی ہے۔ 1947 میں انڈیا کو برطانیہ کے مقابلے میں جو سیاسی آزادی ملی، عام طور پر اُس کو مہاتما گاندھی کا کارنامہ بتایا جاتا ہے۔

معاملے میں ایک مقبول نظم میں ایک شاعر گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:

سابر متی کے سنت، تو نے کر دیا کمال!

مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی آزادی، مہاتما گاندھی کا شخصی چمتکار نہ تھا، وہ دور جدید کے مواقع کو استعمال کرنے کا نتیجہ تھا۔ شہنشاہ اور نگ زیب (وفات: 1707) کے زمانے میں مرہٹہ لیڈر اور سکھ لیڈر اسی طرح کے سیاسی نشانے کو لے کر اٹھے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس، مہاتما گاندھی برطانوی حکمرانوں کے مقابلے میں سیاسی مقصد کو لے کر اٹھے اور کامیاب ہو گئے۔ فرق کا سبب زمانی فرق ہے۔ مہاتما گاندھی کو بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ملا، جب کہ دنیا میں ڈیموکریسی، سیکولرازم، قومی خود مختاری، صحافتی آزادی، حقوق انسانی (human rights) کا زمانہ آ چکا اس تبدیلی کے نتیجے میں مہاتما گاندھی کو وہ زمانی حمایت حاصل ہو چکی تھی جو اور نگ زیب کے زمانے میں اٹھنے والے لیڈروں کو حاصل نہ تھی۔ مہاتما گاندھی نے ان جدید مواقع کو استعمال کیا۔ طرح وہ اپنے سیاسی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

یہی معاملہ دینی انقلاب کا بھی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم انقلاب بر پا کیا۔ تمام مورخین اس کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی شخصی چمتکار کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ زمانے کے موجود مواقع کو استعمال کرنے کا معاملہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے موجود مواقع کو دانش مندی کے ساتھ استعمال کیا، اس کے نتیجے میں وہ انقلاب ظاہر ہوا جس کو ہم اسلامی انقلاب کہتے ہیں۔

یہ مواقع ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش (570ء) سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرات ابراہیم مکہ آئے، جو اس وقت صرف ایک بے آب و گیاہ صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ حدیث میں آیا ہے (صحیح البخاری، کتاب الأنبیاء)۔

اس طرح متمدن شہروں سے دور صحرا کے اس فطری ماحول میں ایک نسل بننا شروع ہوئی۔

یسل، انسانی تہذیب کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ صحرا کے اس فطری ماحول میں تربیت پا کر ایک نئی قوم تیار ہوئی۔ ایک مستشرق نے بجا طور پر اس کو ہیروز کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا یہی انوکھی قوم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا میدان بنی۔ پیغمبر کی تعلیم و تربیت کے ذریعے اِنھیں کے اندر سے صحابہ کا وہ استثنائی گروہ نکلا، جس کو قرآن میں خیر امت (آل عمران: 110) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ساری دنیا پر مشرکانہ تہذیب کا غلبہ تھا۔ اس ماحول میں پیدا ہونے والے ہر عورت اور مرد کا کیس کنڈیشننگ کا کیس بن چکا تھا۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر وہ لوگ پیغمبر کے پیغام پر کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے قابل نہ رہے۔ ڈھائی ہزار سال کی صحرائی ڈی کنڈیشننگ کے نتیجے میں ایک نئی قوم پیدا ہوئی، جو آزادانہ طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اہل عرب کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کی دعوت کو سمجھا اور اس کو دل و جان کے ساتھ قبول کر لیا۔ اس طرح وہ انقلابی ٹیم بنی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہی تاریخ موجودہ زمانے میں ایک نئی صورت میں دہرائی گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں جو سائنسی انقلاب آیا، اُس کو مغربی مصنف جان فریڈرک ویسٹ (John Fredrick West) نے اپنی کتاب میں عظیم ذہنی انقلاب (great intellectual revolution) کا ٹائٹل دیا ہے۔ زیر بحث موضوع کے اعتبار سے اس انقلاب کو ڈی کنڈیشننگ کا ایک عظیم واقعہ (great event of de-conditioning) کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

جدید سائنسی انقلاب کا ایک پہلو، اس کا ٹیکنکل پہلو ہے۔ اور اس کا دوسرا پہلو، اس کا فکری پہلو فکری پہلو کے اعتبار سے سائنس نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ اپنی گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے عالمی ڈی کنڈیشننگ (universal de-conditioning) کے ہم معنی تھا۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مائتھا لوجی اور توہم پرستی (superstitions) کے زیر اثر سوچنے کا دور عملی طور پر ختم ہو گیا۔ اب لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر روح تجسس (spirit of inquiry) پیدا ہوئی۔ قومی اور سماجی تعصبات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں سوچنے لگے، چیزوں کو

فار گرانٹید (for granted) لینے کا دور ختم ہو گیا اور ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر اُن کو ماننے کا زمانہ آ گیا ۔ قدیم زمانے میں مسلّمات پر مبنی سوچ کا طریقہ رائج تھا، اب یہ ذہن بن گیا کہ حقیقی وجود صرف اُس چیز کا ہے جو سائنسی جانچ (scientific scrutiny) پر پوری اترے۔

تحقیق کا یہ ذہن ابتدا ء مخصوص سائنسی موضوعات کے ذیل میں پیدا ہوا، مگر دھیرے دھیرے وہ مذہب کے دائرے تک پہنچ گیا۔ چناں چہ ایک نیا علمی موضوع پیدا ہوا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی تنقید کے نتیجے میں تمام مذاہب کا علمی اور تاریخی استناد مشتبہ ہو گیا۔ اس عموم میں صرف ایک استثنا تھا، اور وہ ہے مذہب اسلام کا استثنا۔ جدید سائنسی تحقیقات نے ایک طرف، دوسرے مذاہب کے بارے میں بتایا کہ وہ علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ مذہب کی حیثیت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، انھیں سائنسی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام استثنائی طور پر ایک ایسا مذہب ہے جس کو علمی اور تاریخی اعتبار سے کامل استناد (credibility) کا درجہ حاصل ہے۔

اِسی کے ساتھ جدید سائنس نے اور بہت سے اُن موافق دلائل کو واضح کیا جس کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے۔ اِس طرح دورِ جدید، دینِ خداوندی کے حق میں ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس دور میں ایک طرف یہ ہوا کہ بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کی ڈی کنڈیشننگ عمل میں آئی، یعنی ایک ایسا گروہ وجود میں آیا جو ہر قسم کے پیشگی تعصبات (pre-occupations) سے آزاد ہو کر خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر رائے قائم کر سکتا تھا۔

فیصلے کی یہ بنیاد جو موجودہ زمانے میں تاریخ کے طویل عمل کے بعد پیدا ہوئی، وہ عین دین خداوندی کے حق میں تھی ، مگر اس امکان کو حقیقی طور پر استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنما اور مفکرین مواقع بلائنڈ (opportunity blind) ہو گئے ، وہ جدید مواقع کو دیکھنے سے مکمل طور پر محروم رہے۔ انھوں نے انتہائی نادانی کے ساتھ جدید حالات کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور اِس کے خلاف ایک ایسی غیر دانش مندانہ لڑائی میں مصروف ہو گئے جس کا انجام کامل تباہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

موجودہ زمانہ میں دنیا بھر کے مسلم رہ نما، مواقع بلائنڈ کیوں ہوگئے، اس کا جواب ہم کو ایک حدیث رسول سے ملتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُبّک الشئ یعمی و يصم (أبوداؤد، كتاب الأدب) یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ اس قول رسول میں ایک اور مفہوم بھی لازمی طور پر شامل ہے، وہ یہ کہ: بغضک الشئ يعمی و يصم، یعنی کسی چیز کے ساتھ دشمنی تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔

یہی موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں کے ساتھ ہوا۔ موجودہ زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کے ذریعے آیا تھا۔ بعض سیاسی اسباب کے تحت، موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں نے مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کو اپنا دشمن سمجھ لیا، وہ ان سے نفرت کرنے لگے۔ منفی نفسیات کی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ مغرب کی طرف سے آئی ہوئی ہر چیز کو سازش اور دشمنی کی نظر سے مغربی قوموں یا مغربی تہذیب کے ذریعے اسلامی دعوت کے عظیم مواقع کھلے تھے، لیکن یہ رہ نما اپنے منفی ذہن کی بنا پر ان جدید مواقع کو دیکھنے سے قاصر رہے۔

میرے علم کے مطابق ، اس معاملے میں کسی بھی مسلم رہ نما کا کوئی استثنا نہیں۔ سید جمال الدین افغانی، عرب ورلڈ کے سید قطب، ایران کے آیت اللہ خمینی، انڈیا کے ڈاکٹر محمد اقبال سب یکساں طور پر اس منفی نفسیات کا شکار بن گئے، حتیٰ کہ مولانا حمید الدین فراہی جیسا غیر سیاسی آدمی بھی اپنے آپ کو اس منفی نفسیات سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم اس معاملے پر نظر ثانی کریں اور شخصیت پرستی کے دائرے سے باہر آکر جدید مواقع کو سمجھیں۔ اس کے بغیر نہ جدید مواقع کی معرفت حاصل ہوگی اور نہ ان کو استعمال کرنا ممکن ہو سکے گا۔

جدید دور نے جو عظیم مواقع اسلامی دعوت کے حق میں پیدا کیے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ جدید دور میں پہلی بار حق کے داعیوں کو ایک عظیم استدلالی امکان حاصل ہوا، جس کو مشترک استدلالی بنیاد (mutually accepted ground) کہا جا سکتا ہے۔

قدیم زمانے میں جن داعیان حق نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، اُن کے پاس اپنے پیغام کی

صداقت کو ثابت کرنے کے لیے صرف روایتی دلیل ہوتی تھی۔ اُس زمانے کا ذہنی فریم ورک روایتی عقائد پر قائم تھا، اِس لیے اِس زمانے کے داعیوں نے اِس فریم ورک کے مطابق کلام کیا اور روایتی دلائل کی زبان میں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ اِس میں استثنا صرف پیغمبروں کا ہے، جنھوں نے خدا کی خصوصی نصرت کے تحت کچھ معجزات پیش کیے، جن کو اُن کے معاصرین نے جادو کا کرشمہ کہا اور اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ ایسی بنیاد پر اپنی بات کو ثابت کیا جائے جس کا دلیل ہونا، فریق ثانی کے نزدیک بھی تسلیم شدہ ہو۔ اِس قسم کی مشترک استدلالی بنیاد پہلے زمانے میں ممکن نہ تھی، مگر آج وہ پوری طرح ایک ممکن چیز بن گئی ہے۔ زمانے کے مسلم رہ نما اپنی منفی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کو صرف مسائل (problems) کی نظر سے دیکھتے رہے، وہ موجودہ زمانے کو مواقع (opportunities) کی نظر سے نہ دیکھ سکے ۔ اِس بنا پر وہ اِن مواقع کو استعمال کرنے سے بھی قاصر رہے۔

مثلاً قدیم زمانے میں تمام فلاسفہ اور سیکولر مفکرین یہ سمجھتے تھے کہ دینی حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے اول درجے کا استدلال (primary rationalism) موجود نہیں، دینی حقیقتوں کے لیے صرف ثانوی درجے کا استدلال (secondary rationalism) ممکن ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے کے علماءِ الہیات، خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ دلیل استعمال کرتے تھے، جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے، یعنی دنیا کی چیزوں میں ڈیزائن ہے تو ضرور اُن کا ایک ڈیزائنر ہے:

Where there is a de sign, there is also a designer, and when designer is proved, existence of God is also proved. اِس استدلال کو قدیم سیکولر مفکرین یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یہ ایک استنباطی استدلال (inferential argument) ہے، نہ کہ براہ راست استدلال (direct argument)۔ زمانے کی سائنسی تحقیقات نے اس اعتراض کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ اب یہ ثابت ہو گیا کہ استنباطی

استدلال واحد استدلال ہے جو اس دنیا میں ممکن ہے، سیکولر حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے بھی اور مذہبی حقیقتوں کو ثابت کرنے کے لیے بھی۔

یہ حقیقت اُس وقت سامنے آئی، جب کہ بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گئیں۔ جب تک انسان کا علم عالم کبیر تک محدود تھا، یہ سمجھا جاتا تھا کہ چیزیں قابل مشاہدہ ہیں، صحیح استدلال وہی ہے جو مبنی بر مشاہدہ ہو، لیکن بیسویں صدی میں جب انسانی علم ترقی کر کے عالم صغیر تک پہنچ گیا تو معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز قابل مشاہدہ نہیں۔ علم کی اس ترقی کا فکری نتیجہ تھا کہ استدلالی منطق میں تغیر واقع ہو گیا۔ اب یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہ راست استدلال۔ اصول استدلال میں اس تبدیلی سے الہیات یا علم کلام میں بنیادی تغیر واقع ہو گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ مذہب کے تصورات کو ٹھیک اسی منطقی بنیاد پر ثابت کیا جاسکے، جس بنیاد پر اس سے پہلے غیر مذہبی تصورات کو ثابت کیا جاتا تھا۔ ان مذہبی تصورات میں وہ تمام تصورات شامل ہیں جن کو مذہبی عقائد کہا جاتا مثلاً توحید، ملائکہ، نبوت، آخرت، جنت اور جہنم، وغیرہ۔ اس طرح منطقی اعتبار سے وہ فرق باقی نہ رہا جو روایتی طور پر مذہبی علم اور سیکولر علم کے درمیان سمجھا جاتا تھا۔ اب استدلالی بنیاد کے اعتبار سے دونوں کی سطح بالکل یکساں ہوگئی ہے۔ یہ بہت بڑا علمی انقلاب ہے جو جدید دور میں پیش آیا ہے۔ مہدی اور مسیح کی آمد حدیث کی کتابوں میں کئی ایسے کردار کا ذکر ہے جو تاریخ انسانی کے آخری دور میں ظاہر ہوں ان میں سے دو کردار وہ ہیں جن کے لیے حدیث میں مہدی اور مسیح کے الفاظ آئے ہیں۔ روایتوں کو لے کر مسلمانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ ذہن بن گیا ہے جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

Printed page