Al-Risala · March 2008

مَردے از غیب بروں آید و کارے کند

Al-Risala, March 2008, pp. 22–24

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دین خداوندی کے سلسلے میں کوئی بڑا کام اُس وقت انجام پائے گا

جب کہ کوئی آنے والا‘‘ پراسرار طور پر آئے گا اور معجزاتی طور پر بڑے بڑے کام کر ڈالے گا۔ نے مسلمانوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) کی حالت پیدا کر دی ہے۔ کے اندر سے تخلیقی فکر (creative thinking) کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دین کی دعوت کے لیے کسی بڑے کام کا حوصلہ ان کے اندر موجود نہیں۔ عام انسانوں کے لیے ذمہ داری کا کوئی احساس وہ اپنے اندر نہیں ان کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ اپنے اور اپنے اہل خاندان کے معاملات کو درست کرنے میں لگے رہیں، اس کے علاوہ انسانیت عامہ کی نسبت سے جو وسیع تر ذمہ داریاں ہیں، ان کے سلسلے میں ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ کسی آنے والے کا انتظار کرتے رہیں۔ ’’مردے از غیب‘‘ کے اس عقیدے کا انجام یہ ہوا ہے کہ ان میں سے تقریباً ہر شخص کے اندر ایک کم زور شخصیت پیدا ہو گئی ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کے معاملے میں وہ آخری حد تک باعمل ہے، اور انسانیت عامہ کے مفاد کے معاملے میں آخری حد تک بے عمل۔ وہ اکرام خویش کو جانتا ہے لیکن وہ اکرام غیر کو نہیں جانتا۔ اس کے پاس اپنوں کے لیے دعائیں ہیں اور ’’اغیار‘‘ کے لیے صرف اپنے لیے تو انھوں نے جنت الفردوس میں رزرویشن کرا رکھا ہے، لیکن دوسری قوموں کو جہنم سے بچانے کی ان کو کوئی فکر نہیں۔ وہ اپنے معاملات کے بارے میں آخری حد تک خوش فہم بنا ہوا ہے، اس قسم کی کمزوریاں مسلمانوں کے اندر عام طور پر پیدا ہوگئی ہیں اور یہ صرف اس بات کا نتیجہ ہیں کہ موجودہ مسلمانوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ دینی دعوت کا کوئی بڑا کام صرف اس وقت انجام پائے گا جب کہ پراسرار طور پر ایک معجزاتی شخصیت، ہندو اصطلاح کے مطابق، اچانک پر کٹ ہو جائے گی اور پھر وہ خود ہی تمام مسلمانوں کے حصے کا کام کر ڈالے گی۔

اس قسم کے تمام خیالات بلا شبہہ بے بنیاد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں مہدی اور مسیح کے نام سے مستقبل کے جن کرداروں کا ذکر آیا ہے، وہ کردار کے حوالے سے مواقع کی پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں تاریخی عمل (process) کے نتیجے میں نئے قسم کے عظیم مواقع ظاہر ہوں گے۔ اُس وقت یہ ممکن ہو جائے گا کہ کوئی خدا کا بندہ ان

مواقع کو استعمال کرکے بہت بڑا دعوتی کام انجام دے گا۔

اس قسم کی حدیثیں کسی کراماتی شخصیت کے ظہور کی پیشین گوئی نہیں ہیں، بلکہ وہ شخصیت کے حوالے سے کراماتی مواقع کے ظہور کی پیشین گوئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہ عظیم مواقع مکمل طور پر ظہور میں آچکے ہیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ان مواقع کو پہچانا جائے اور ان کا بھر پور استعمال کرکے دعوت حق یا عظیم ترین شہادت کا وہ کام انجام دے دیا جائے جو دورِ آخر کے لیے خدا نے مقدر کیا ہے۔ تاریخ کا خاتمہ قریب آگیا حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے سائنس دانوں نے ایک نئے موضوع پر بہت بڑے پیمانے پر تحقیقات کی ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کا موضوع ہے۔ یہ تحقیقات سب سے بڑے عالمی ادارہ، اقوام متحدہ (یو این او) کے تحت کی گئی ہیں۔ ان تحقیقات کے ذریعے نہایت حتمی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ معلومات سائنسی تیقن (scientific certainty) کی حد تک درست سمجھی جاتی ہیں۔ دنیا بھر کے سائنس دانوں نے متفقہ طور پر ان نتائجِ تحقیق کی تصدیق کی ہے۔ ان سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں مسلّمہ طورپر یہ معلوم ہوا ہے کہ ہماری زمین کے اوپر جو لائف سپورٹ سسٹم قائم تھا، وہ تیزی سے تباہ ہورہا ہے۔ گلوبل وارمنگ، برف کے ذخیروں کا پگھلنا، سمندروں میں پانی کی سطح کا خطرناک حد تک بڑھنا، ہوائی کثافت، وغیرہ کے نتیجے میں زمین کے حالات، زندگی کے لیے خطرناک حد تک بدلتے جارہے ہیں۔ زمین کے مختلف حصوں میں تیزی سے جانور ہلاک ہورہے ہیں، سمندروں کی مچھلیاں ختم ہورہی ہیں۔ غرض مختلف قسم کے تباہ کن حالات بتا رہے ہیں کہ زمین پر انسانی تاریخ کا خاتمہ قریب آگیا۔ اور انسانی تاریخ کے خاتمے ہی کا دوسرا نام قیامت کا آنا ہے۔

حال میں ایک عالمی سائنسی رپورٹ کو چھاپتے ہوئے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس، نے اس کا یہ عنوان قائم کیا تھا ۔ اب قیامت زیادہ دور نہیں:

Printed page