Al-Risala · March 2008

دابۃ کا دور

Al-Risala, March 2008, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی پیغام کو پھیلانے کے دو ذریعے ہیں۔ قول اور تحریر ۔ قدیم زمانے میں ان دونوں طریقوں کو دعوت کے لیے استعمال کیا گیا، لیکن سائنسی دور سے پہلے دونوں ذریعے صرف محدود دائرے میں استعمال ہو سکتے تھے۔ داعی کا قول صرف وہ لوگ سن سکتے تھے جو اس کے قریب موجود ہوں۔ معاملہ تحریر کا تھا۔ قدیم زمانے میں کوئی داعی صرف ہاتھ سے کسی لوح یا کاغذ پر اپنا پیغام لکھ سکتا تھا۔ سے لکھنے کے سوا کوئی اور ذریعہ اُس وقت موجود نہ تھا۔ اس محدودیت کی بنا پر حق کا داعی صرف اپنے قریبی دائرے میں حق کا پیغام پہنچانے کی استطاعت رکھتا تھا۔ گویا کہ قدیم زمانے میں ہر داعی ایک مقامی داعی کی حیثیت رکھتا تھا، نہ کہ بین اقوامی داعی کی حیثیت۔

موجودہ سائنسی دور میں کمیونیکیشن میں غیر معمولی انقلاب آیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار انسان کو وہ چیز حاصل ہوئی جس کو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔ اس طرح جدید ذرائع ابلاغ نے قول اور تحریر دونوں کے اندر تیز رفتاری کی صفت پیدا کردی۔ اب انسان کو وہ چیز حاصل ہو گئی جس کو فاصِلاتی پیغام رسانی (telecommunication) کہا جاتا ہے۔

غالباً یہی وہ متحرک ذریعہ ہے جس کو قرآن میں دابۃ (النمل: 82) کہا گیا ہے۔

لفظی معنی ہیں رینگنے والا (creeper)، یعنی وہ چیز جو متحرک ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے۔ کا یہ ارشاد کہ بعد کے زمانے میں ایک دابۃ ظاہر ہوگا، اس سے مراد غالباً یہی تیز رفتار مشینی حرکت کا دور ہے جو سائنسی انقلاب کے بعد سامنے آیا ہے۔ تیز نشریاتی ذرائع کی اس تکنیک نے مختلف صورتیں پیدا کی ہیں، جن کے مجموعے کو موجودہ زمانے میں ملٹی میڈیا (multimedia) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزماں کو سارے عالم کے لیے نذیر بنا کر بھیجا ہے (الفرقان: 1) مگر ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب کہ پیغمبر آخرالزماں کا ظہور ہوا، اُس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کا ظہور عمل میں نہیں آیا تھا۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئندہ وہ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ خدا اسلام کے کلمہ کو ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچادے (لايبقى على وجه الأرض بيت مدر ولا وبر، إلا أدخله الله كلمة الإسلام)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، دعوت کی تاریخ میں ایک مسلسل عمل (process) کو ظہور میں لانے کے ہم معنی تھا۔ آپ کے ذریعے ایک ایسا دعوتی عمل ظہور میں آیا، جس کا آغاز عرب سے ہوا اور پھر ایک مسلسل عمل (process) کے روپ میں وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ سارے عالم پر محیط ہو گیا۔

مگر اسباب کی اس دنیا میں ہر دعوتی کام انسانوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ میں اسلام کا پھیلاؤ اصحاب رسول کے ذریعے ہوا تھا، بعد کے زمانے میں بھی یہ دعوتی عمل ایک انسانی گروہ کے ذریعے انجام پائے گا۔ غالباً اسی لیے حدیث میں بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والے ایک گروہ کا ذکر ہے جس کو اِخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی کمیونیکیشن کے دور میں یہ دعوتی کام اصحاب رسول کے ذریعے انجام پائے گا، اور سائنسی کمیونیکیشن کے دور میں یہ دعوتی کام اُن لوگوں کے ذریعے انجام پائے گا جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کا نام دیا گیا ہے۔ اصحاب رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا: من سرّه أن يكون من هذه الأمة، فليؤدّ شرط الله فيها (ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 396) یعنی جو شخص اصحاب رسول کی اِس

امت میں شامل ہونا چاہیے، وہ اس کے بارے میں خدا کی شرط کو پورا کرے۔ وہ شرط یہ تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی مہم میں اپنے وقت اور اپنے مال اور اپنی توانائی کو پوری طرح لگا پیغمبر اسلام کے معاصر اہل ایمان نے اس شرط کو پورا کیا، اس لیے وہ اصحاب رسول قرار پائے۔ موجودہ زمانے میں دوبارہ دعوت الی اللہ کے نئے امکانات کھلے ہیں۔ اب دوبارہ وہی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ کچھ لوگ اٹھیں اور جدید مواقع دعوت کو استعمال کرکے دین خداوندی کے پیغام کو سارے عالم تک پہنچادیں۔ یہی وہ عالمی دعوتی کام ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت قرار دیا گیا ہے۔ اصحاب رسول کو یہ درجہ مطلوب عمل کے ذریعے حاصل ہوا تھا، اسی طرح اخوان رسول کو بھی اخوان رسول کا یہ درجہ مطلوب عمل کے ذریعے حاصل ہوگا۔ عمل کے بغیر نہ اصحاب رسول، اصحاب رسول بنے تھے، اور نہ اب یہ ممکن ہے کہ کوئی گروہ مطلوب عمل کے بغیر اخوان رسول کا درجہ حاصل کرلے۔ اخوان رسول تاریخ کا آخری خدائی اعزاز ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنی توانائیوں کو نصرت خداوندی کے اس مشن میں لگا کر خدا کے یہاں تاریخ کا عظیم انعام

Printed page