گلوبل وارمنگ یا ڈوائن وارننگ
Al-Risala, March 2008, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ساری دنیا کے سائنس دانوں کی طرف سے آج کل مسلسل گلوبل وارمنگ کی خبریں آرہی پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے ذریعے روزانہ اس خطرے کی بابت لوگوں کو آگاہ کیا
20 دسمبر 2007 کو انڈیا ٹی وی (نئی دہلی) میں ایک لمبا تفصیلی پروگرام تھا جس کا عنوان تھا_ قیامت پانچ سال میں۔ ان رپورٹوں میں سائنس دانوں کی زبان سے وارننگ کے طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ کلائمیٹ چینج (climate change) اب کلائمیٹ ڈزاسٹر (climate disaster) بنتا زمین پرگرمی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے اور لائف سپورٹ سسٹم کا متوازن نظام ٹوٹ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ساری دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے انسانوں کے لیے وہ وقت تیزی سے آ رہا ہے جب کہ ان کے لیے اس سیارہ زمین پر زندہ رہناہی ممکن نہ ہوگا۔
جیسا کہ معلوم ہے، قطب شمالی اور قطب جنوبی میں برف کی بہت بڑی بڑی کیپ (ice cap) اسی طرح پہاڑوں کے اوپر گلیشیر کی صورت میں برف کے بہت بڑے بڑے تودے موجود تھے۔ یہ گویا میٹھے پانی کے بڑے بڑے اسٹور ہاؤس (store house) تھے۔ گلوبل وارمنگ کے اثر سے یہ ذخیرے بہت زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ان کا پانی دریاؤں کے راستے بہہ کر سمندر میں چلا جا رہا ہے_ اس طرح میٹھا پانی دوبارہ کھاری پانی بنتا چلا جا رہا ہے۔
اس کا نتیجہ دونا قابل برداشت ہلاکتوں کی صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوگا کہ بہت جلد سمندروں میں پانی کا لیول بہت اونچا ہو جائے گا۔ اس بنا پر یہ ہوگا کہ ساحلی شہر ڈوب کر ختم ہو جائیں گے_ مثلاً انڈیا میں کلکتہ اور بمبئی اور مدراس، وغیرہ۔ غیر ساحلی مقامات خطرناک حد تک پانی کی کمی کا شکار ہو جائیں گے۔ پانی کی قلت اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ عین ممکن ہے کہ پانی کے حصول کے لیے تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے۔
دریاؤں میں پانی مسلسل اس لئے رہتا ہے کہ پہاڑوں کی برف پگھل کر دھیرے دھیرے چشموں کی صورت میں سال بھر اوپر سے نیچے آتی رہتی ہے اور دریاؤں میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ جب پہاڑوں کی برف پگھل کر ختم ہو جائے گی تو فطری طور پر دریاؤں کا پانی بھی خشک ہو جائے گا۔ دوسری طرف یہ سارا پانی سمندروں میں جا کر مل جائے گا اور تمام میٹھا پانی کھاری پانی بن جائے گا۔ اس کے بعد سمندروں میں اگر چہ بہت پانی ہوگا لیکن سخت کھاری ہونے کی بنا پر یہ پانی نہ آب پاشی کے قابل ہوگا اور نہ پینے کے قابل۔ گویا کہ وہی صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہو جائے گی جس کی تصویر اٹھارھویں صدی کے شاعر کولرج (Coleridge) نے اپنی ایک نظم میں ان الفاظ میں کھینچی تھی: Water water everywhere Nor a drop to drink خدا کے پیغمبر برابر یہ بتاتے رہے کہ موجودہ دنیا ابدی نہیں ہے۔ اس کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہورہا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب کہ وہ اپنی عمر پوری کر کے ختم ہو جائے گی۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ اب یہ کاؤنٹ ڈاؤن بہت جلد اپنے آخری نمبر پر پہنچنے والا ہے۔ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کو دریافت کرکے بتایا تھا کہ دنیا کی انرجی مسلسل ختم ہورہی ہے۔ اس عمل کو واپسی کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔ لئے یہ یقینی ہے کہ ایک مقرر مدت کے بعد موجودہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب اکیسویں صدی کے سائنس داں اپنی تازہ تحقیقات کے مطابق، بتا رہے ہیں کہ اب خاتمے کی یہ مدت بہت زیادہ قریب ہو سکتا ہے کہ یہ مدت 10 سال یا 20 سال سے بھی کم ہو۔
یہ بات جو میڈیا میں گلوبل وارمنگ(global warming) کے عنوان سے آ رہی ہے، وہ دراصل ڈوائن وارننگ (divine warning) ہے۔ یہ خالق کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ خالق کے منصوبے کے مطابق، اب دنیا کی مقرر مدت پوری ہو چکی ، دنیا کی مقرر مدت کا پہلا دور (first phase) ختم ہو چکا۔ اب بہت جلد یہ ہونے والا ہے کہ موجودہ دنیا کو ختم کر کے اس کی عمر
کا دوسرا دور (second phase) شروع کیا جائے۔ پہلا دور ٹسٹ کے لیے تھا اور ٹیمپریری تھا۔ دور انجام کے لیے ہے اور ابدی ہوگا۔
موجودہ دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی دی گئی تھی۔ یہ آزادی کسی استحقاق کی بنا پر نہ تھی، بلکہ وقتی طور پر صرف امتحان کے لیے تھی۔ یہ اس لیے تھی تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہر عورت اور مرد کا ریکارڈ تیار کیا جا رہا اگلے مرحلہ حیات میں یہ ریکارڈ خالق کے سامنے پیش ہوگا۔ جس شخص کا ریکارڈ یہ بتائے گا کہ اس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اس کو اس کا خالق جنت میں جگہ دے گا، جہاں وہ ابدی طور پر راحت اور مسرت کی زندگی گزارے گا۔ قرآن کے الفاظ میں، ایسے لوگ جنت الفردوس میں جگہ پائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (الکہف : 108-107)۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کا ریکارڈ بتائے گا کہ انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، ان کو خالق کے فیصلے کے تحت جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، جہاں پیغمبر مسیح کے الفاظ میں وہ ابدتک غم اور حسرت کی زندگی گزاریں گے :
There will be wailing and weeping for all eternity (Matthew 13:42)
اب آخری وقت آگیا ہے کہ سارے مرد اور عورت جاگ اٹھیں۔ وہ اپنا محاسبہ (introspection) کریں ۔ وہ اگلے مرحلہ حیات میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کو اپنا واحد کنسرن ہر عورت اور مرد کو جاننا چاہیے کہ موجودہ دنیا میں ان کو جو چانس ملا تھا، وہ پہلا اور آخری چانس تھا، اس کے بعد کوئی دوسرا چانس انھیں ملنے والا نہیں۔ موجودہ گلوبل وارمنگ بتا رہی ہے کہ — اب لوگوں کے لیے پوائنٹ آف نورٹرن (point of no return) آچکا ہے۔ ملے ہوئے موقع کو استعمال کر لیجیے، اس سے پہلے کہ اس کو استعمال کرنے کا وقت ہی ختم ہو جائے اور پھر نہ موجودہ دنیا کی طرف واپسی کا امکان ہو اور نہ اگلی دنیا میں عمل کرنے کا امکان۔