انسانی تاریخ کے دو دور
Al-Risala, March 2008, pp. 31–34
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا۔ پھر اس نے انسان کی تاریخ کو دو دور میں پہلا مختصر دور پیدائش سے لے کر موت تک، اور دوسرا طویل تر دور موت کے بعد، جس میں انسان ابدی طور پر رہے گا۔ ان میں سے پہلا امتحان (test) کا دور ہے۔ اور دوسرا دور پہلے دور کے ریکارڈ کے مطابق، ابدی انجام پانے کا دور۔
تاریخ بتاتی ہے کہ انسانوں کی بہت بڑی اکثریت ہمیشہ اس حقیقت سے بے خبر رہی۔ سب سے بڑی وجہ غالباً وہ چیز ہے جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو فورا ہی اس کو ماں اور باپ اور رشتے دار مل جاتے ہیں۔ وہ کما کر پیسہ حاصل کرتا ہے اور پھر اپنے لیے ایک گھر بناتا ہے اور اپنی کوششوں کے ذریعے دھیرے دھیرے زندگی کے تمام سامان حاصل کر لیتا ہے۔ بظاہر وہ دیکھتا ہے کہ ہر چیز جو اس کو مل رہی ہے، وہ خود اس کی اپنی کوشش کے ذریعے مل رہی ہے۔
اس طرح شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کے اندر وہ ذہن بنتا ہے جس کو ملکیت (ownership) کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ اس دنیا میں اُس کو جو چیزیں ملی ہوئی ہیں، وہ سب اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس کو اپنی ذاتی کوشش کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں، یہ تمام چیزیں سامانِ ملکیت ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر وہ سمجھ نہیں پاتا کہ اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے چیزوں کی اصل نوعیت کیا ہے۔ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے چیزیں سامانِ امتحان ہیں، مگر انسان کنڈیشننگ کی بنا پر اُن کو سامانِ ملکیت سمجھ لیتا ہے۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کی پوری زندگی زیر امتحان زندگی یہاں انسان کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ اس کے لیے پرچہ امتحان (test paper) کی حیثیت رکھتا
اس اعتبار سے انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں ہر لمحہ اس احساس کے ساتھ رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے، بلکہ پابند ہے۔ وہ چیزوں کا مالک نہیں ہے، بلکہ تمام چیزیں وقتی طور پر اس کے تصرف میں دی گئی ہیں تا کہ ان چیزوں میں جانچ کر دیکھا جائے کہ وہ صحیح عمل کرنے والا ہے، یا غلط عمل
اس دنیا میں آدمی ایک گھر بناتا ہے اور اُس کو وہ "اپنا گھر" کہتا ہے۔ وہ اپنے نام پر اس کا نام یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر گھر ٹسٹ ہاؤس ہے۔ دنیا میں ہر کاٹسٹ کا رہا ہے۔ اس دنیا میں ہر پراپرٹی ٹسٹ پراپرٹی ہے۔ اس دنیا میں ہر اولاد ٹسٹ اولاد اس دنیا کی تمام چیزیں ٹسٹ کا سامان ہیں۔
مگر آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا ہوا رہتا ہے، یہاں تک کہ اچانک اس کی موت آتی ہے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو میں اپنی چیزیں سمجھتا تھا، وہ تو خدا کی طرف سے امتحان کے لیے وقتی طور پر ملی ہوئی تھیں۔ پچھلا دور حیات ختم ہوتے ہی وہ سب کی سب مجھ سے چھین لی گئیں۔ ایک ایسی دنیا میں رہنا ہے جہاں مجھے مکمل طور پر محرومی کی حالت میں زندگی گزارنا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو اُن کے حسن عمل کے نتیجے میں دوبارہ تمام چیزیں بطور انعام دے دی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر البلاد الى الله أسواقها (صحیح مسلم، کتاب المساجد) یعنی تمام جگہوں میں سب سے بُری جگہ بازار ہے۔ بازار کیا ہے۔ بازار، وہ مقام ہے جہاں سے آدمی چیزوں کو خرید کر حاصل کرتا ہے۔ بازار خرید و فروخت کی علامت ہے۔ اس طرح بازار آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ چیزیں صرف خرید کر ملتی ہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ چیز کی قیمت ادا کرو اور تم کو وہ چیز مل جائے گی۔
موجودہ دنیا میں ملکیت (ownership) کا قانون رائج ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز ملکیت کے
ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ مکان، گاڑی، ساز وسامان، استعمال کی چیزیں، کنزیومر گڈس، تمام چیزیں آدمی کو اس طرح ملتی ہیں کہ وہ ان کی قیمت ادا کرتا ہے اور پھر وہ ان کا مالک بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ دنیا ایک فریب کی جگہ (deceptive world)بن گئی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دنیا کی ہر چیز امتحان کا پرچہ (test paper)ہے۔ وہ خدا کی طرف سے انسان کو اس کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن خرید و فروخت کے موجودہ نظام کی بنا پر آدمی غلط طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ چیزیں اس کو قیمت ادا کر کے حاصل ہو رہی ہیں۔
اس صورتِ حال کی بنا پر ہر آدمی ایک فریب میں جی رہا ہے۔ وہ امتحان کے ذریعے ملی ہوئی چیزوں کے بارے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس کو بطور ملکیت حاصل ہوئی ہیں۔ صورتِ حال بلاشبہ سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی احساس ملکیت کے تحت زندگی گزارتا ہے، حالاں کہ اس کو احساسِ ذمہ داری کے تحت زندگی گزارنا چاہیے۔ موت اس صورتِ حال کا خاتمہ ہے۔ موت کے وقت اچانک یہ تمام چیزیں انسان سے چھن اُس وقت اچانک انسان پر یہ کھلتا ہے کہ جن چیزوں کے درمیان وہ زندگی گزار رہا تھا، وہ چیزیں صرف امتحان کی مدت تک کے لیے تھیں، موت نے اس مدت کا خاتمہ کر دیا۔ موت سے پہلے آدمی اپنے کو ” سب کچھ والا‘‘ سمجھ رہا تھا، مگر موت کے بعد اچانک وہ ” بے کچھ والا‘‘ بن جاتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو موت سے پہلے، خود سے فریب کے اس پردے کو پھاڑ دے، ورنہ موت اس پردے کو پھاڑے گی، لیکن موت کی طرف سے پردے کا پھاڑا جانا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا۔ ثانیہ مرزا (21 سال) ٹینس کی مشہور کھلاڑی ہیں۔ ان کا وطن حیدر آباد ہے۔ ان کی برتھ ڈے پر ان کی ماں نسیمہ نے حیدر آباد کے ایک لگژری ہوٹل میں شان دار پارٹی دی۔ اس کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (16 نومبر 2007) میں اس عنوان سے چھپی ہے : Surprise party brings in Sania's 21st birthday. رپورٹ کے مطابق ، ثانیہ مرزا کی ماں نسیمہ نے اپنی بیٹی کے بارے میں کہا کہ — میں اپنی بیٹی
کے اوپر ہر دن اور ہر لمحہ فخر کرتی ہوں:
یہی آج تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ آج تمام لوگ اسی قسم کے جھوٹے فخر میں کسی کو اپنی اولاد پر فخر ہے، کسی کو اپنی جائیداد اور اپنے ساز و سامان پر فخر ہے، کسی کو اپنے عہدے اور مقبولیت پر فخر ہے ۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ تمام چیزیں اس کو کیسے ملیں ۔ اگر آدمی گہرائی کے ساتھ سوچے تو وہ جان لے کہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز جو اس کو ملی ہوئی ہے ، وہ سب خدا کا عطیہ ہے۔ براہِ راست خدا کی دین ہے۔ اگر آدمی اِس حقیقت کو جان لے تو اس کا سینہ احساناتِ خداوندی کے جذبے سے بھر جائے گا۔ وہ کہہ اٹھے گا کہ ہر دن اور ہر لمحہ میں خداوند برتر کا شکر گزار ہوں : I am grateful to God Almighty, every moment of the day. الرسالة آن لائی اب آپ ماہ نامہ الرسالة (اُردو اور انگریزی ) کے نئے اور پرانے شمار اب آپ ماہ نامہ الرسالة (اردو اور انگریزی) کے نئے اور پرانے شمارے اور مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں اور اُس کو فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس طرح اب آپ کے آپ لیے ہر ماہ الرسالة کے تازہ شماروں کا آن لائن مطالعہ ممکن ہو سکے گا۔ اس رِسَالہ کو اب آپ کے لِیے، ماہنامہ اَرِسَالہ کے نام سے، آن لائن بنایا گیا ہے، جو پوری دنیا میں پڑھا جا سکتا ہے۔ آن لائن مطالعے کے لیے ویب سائٹ کا پتہ درج ذیل ہے:
مختلف فکری اور دعوتی موضوعات پر مولانا وحید الدین خاں کے ویڈیو اور آڈیو لیکچرز مت اِس میں اور اور دروس دِلفروز پر، روزانہ پروگرام ریڈیو میں 1 اُردو اور انگریزی زبان میں سُننے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
رے، پئے، چُے۔