sight, touch, taste, smell and hearing
Al-Risala, January 2008, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ پانچ حواس، دراصل پانچ مقاماتِ لذت ہیں۔ ان میں سے ہر ایک صلاحیت کے اندر خالق
نے بے پناہ لذت رکھی ہے۔ انسان کے لیے دیکھنا بھی ایک انتہائی لذتیر تجربہ ہے، چھونا بھی ایک لذید تجربہ ہے، چکنا بھی ایک لذید تجربہ ہے، سونگھنا بھی ایک لذید تجربہ ہے اور سننا بھی ایک لذید تجربہ۔ اس کائنات میں کسی بھی دوسری مخلوق کے اندر، بشمول حیوانات، ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وہ کسی چیز سے انتہائی لطیف قسم کی محظوظیت (pleasure) حاصل کر سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ انسان کے اندر چھٹی حس (sixth sense) بھی موجود ہے۔ یہ چھٹی حس سوچنے کی صلاحیت (thinking capacity) ہے۔ یہ چھٹی حس، انسان کے لیے سب سے زیادہ اعلیٰ لذت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سوچنا، انسان کی ایک انوکھی صفت ہے۔ کے لیے اتھاہ لذت کا خزانہ ہے۔ سوچنے کا فعل بظاہر دکھائی نہیں دیتا، مگر وہ انسان کو ایسی سپر لذت دیتا ہے جس کا حصول کسی بھی دوسری چیز کے ذریعے ممکن نہیں۔
اسی کے ساتھ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان ان لذتوں کو محسوس تو کرتا ہے، لیکن وہ موجودہ دنیا میں ان لذتوں کی تسکین کا سامان نہیں پاتاہر آدمی بے پناہ لذتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پھر تھوڑی مدت کے بعد ہر عورت اور ہر مرد غیر تکمیل شدہ خواہشات (unfulfilled desires) کے ساتھ مرجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے پاس خواہشیں ہیں، لیکن یہاں اُس کے لیے خواہشات کی تکمیل کا سامان موجود نہیں۔ یہ حقیقت اس بات کا حتمی اشارہ ہے کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، ان خواہشات کی تکمیل کا سامان، قبل از موت مرحلۂ حیات میں نہیں رکھا گیا، بلکہ وہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں رکھا گیا ہے۔ یہ خواہشیں انسان کو اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ حقیقتِ حیات کو سمجھے اور اُس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔
اسی کے ساتھ اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔ حیوانات بظاہر زندہ مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن کسی بھی حیوان کے اندر کل' کا تصور نہیں پایا جاتا۔ حیوانات کا محدود مائنڈ صرف حاضر (present) کو جانتا ہے، مستقبل (future)
کے تصور سے آشنا نہیں، جب کہ انسان کے اندر کل یا مستقبل کا تصور نہایت طاقت ور صورت میں موجود مگر ہر انسان کا عملی تجربہ اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ مطلوب مستقبل اُس کے لیے سرے سے قابل حصول نہیں۔
اس حقیقت کے اندر ایک اشارہ (clue) چھپا ہوا ہے۔ یہ اشارہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ جس مطلوب مستقبل کو چاہتا ہے، وہ مطلوب مستقبل اس کی محدودیت کی بنا پر اس کے لیے موجودہ دنیا میں مقدر اس مطلوب مستقبل کو پانے کے لیے اُسے موجودہ دنیا میں ضروری تیاری کرنا چاہیے، تا کہ وہ موت کے بعد آنے والے مرحلہ حیات میں وہ اپنے اس مطلوب مستقبل کو پاسکے۔
موجودہ دنیا کا معاملہ ایک امتحان ہال جیسا ہے۔ امتحان ہال میں اسٹوڈنٹ کی ناگزیر ضرورتوں کا محدود انتظام تو ہوتا ہے، لیکن اس کی تمام خواہشوں کی تکمیل کا سامان وہاں نہیں ہوتا۔ اس لیے جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو صرف امتحان ہال سمجھے، وہ مایوسی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ لیکن جو اسٹوڈنٹ، امتحان ہال کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لے، اُس کو وہاں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، موجودہ دنیا ٹیسٹ کے لیے بنی ہے۔ یہاں جو لائف سپورٹ سسٹم ہے، وہ صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ ٹسٹ (امتحان) کے مقصد کے لیے ضروری ہے۔ اب جو لوگ اس دنیا کو ٹسٹنگ گراؤنڈ (testing ground) سمجھیں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں، ان کے اندر کبھی مایوسی کی نفسیات پیدا نہیں ہوگی۔ لیکن جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنی خواہشوں کی تکمیل کا مقام سمجھ لیں، اُن کو سخت مایوسی کا تجربہ ہوگا۔ کیوں کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے، اس کی تکمیل کا انتظام خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق ،یہاں کیا ہی نہیں گیا تھا۔
موجودہ سیارہ زمین پر زندگی کا درست اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس دنیا کو عیش کا مقام نہ سمجھے، بلکہ وہ اس کو ٹسٹ (امتحان) کا مقام سمجھے۔ ایسا آدمی، خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق یہاں زندگی گزارے گا اور اس کے نتیجے میں وہ ابدی کامیابی حاصل کرے گا۔ ٹسٹ کے مزاج کے تحت کسی انسان کی جو زندگی بنتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو
انجوائے منٹ کے مزاج کے تحت بنتی ہے۔ دونوں کا نقشہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ یہاں ہم دونوں قسم کی کچھ مثالیں درج کریں گے جس سے دونوں کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ اس معاملے میں بنیادی فرق سوچ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ ٹسٹ (امتحان) کا مزاج رکھنے والے انسان کے اندر، خالق رُخی سوچ (Creator-oriented thinking) پیدا ہوتی ہے۔ معاملے میں یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ خالق کے نقشے کے مطابق، اٗس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ اس کے برعکس ، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے انسان کے اندر، خود رُخی سوچ (self-oriented thinking) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو صرف اپنی مرضی کا پابند سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اپنے سوا کسی برتر ہستی کی مرضی کا پابند۔
ٹسٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی موت کے بعد کی دنیا کو بہتر بنانے کی فکر میں رہتا ہے ، اور انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی صرف آج کی دنیا کو بہتر بنانے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے اندر دولت کے بارے میں قناعت کا مزاج ہوگا، وہ اس معاملے میں بقد ر ضرورت پر اکتفا کرنا پسند کرے گا۔ اس کے برعکس ، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی ہمیشہ اس فکر میں رہے گا کہ زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھا کرے ، اس معاملے میں اس کی حرص کبھی ختم نہ ٹسٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے پاس ایک چھوٹی کار ہے۔ ایک شخص اُس سے کہتا ہے کہ تم بڑی کار خرید لو، تو وہ جواب دے گا کہ مجھے اپنا مواخذہ اور بڑھانا نہیں ہے۔ اس کے برعکس ، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اس کوشش میں رہے گا کہ اُس کے پاس نہ صرف ایک بڑی کار ہو، بلکہ اس کے پاس کئی اور کاریں ہو جائیں۔
ٹسٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی بے فائدہ تفریحات سے اپنے آپ کو دور رکھے گا، کیوں کہ وہ اس کو اپنے لیے ڈسٹریکشن (distraction) سمجھے گا۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی تفریحی چیزوں میں کود پڑے گا، خواہ اس میں اس کا وقت اور پیسہ کتنا ہی زیادہ برباد ہو جائے ۔ ٹسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر چیز میں اسراف (waste) سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ مثلاً خرچ میں
اسراف، پانی میں اسراف، بولنے میں اسراف، وغیرہ۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والا آدمی اسراف کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دے گا۔ لسٹ کا ذہن رکھنے والا آدمی ہر معاملے میں اپنے آپ کو اخلاقی قدروں کا پابند سمجھے گا۔ اس کے برعکس، انجوائے منٹ کا مزاج رکھنے والے آدمی کے لیے ساری اہمیت اپنے ذاتی انٹرسٹ کی ہوگی، نہ کہ کسی برتر اخلاقی معیار کی۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، اس معاملے میں ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ مختلف أحوال کے درمیان آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پرورش پارہی ہے — ربانی شخصیت، یا غیر ربانی شخصیت۔ موجودہ دنیا میں آدمی جس طرح اپنے جسمانی وجود کے لیے مادی غذا حاصل کرتا ہے، اسی طرح اپنے روحانی وجود کے لیے بھی اس کو مسلسل روحانی غذا (spiritual food) درکار ہوتی ہے۔ یہی روحانی غذا اس کے اندر ربانی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔
روحانی غذا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب سچائی آئے تو اس کا انکار کرنے کے بجائے وہ اس کا اعتراف کرے، خواہ سچائی کا پیش کرنے والا اُس کا اپنا آدمی ہو، یا وہ اُس کا غیر ہو۔ حالات کے زیر اثر نہ سوچے، بلکہ حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے تحت اپنی رائے بنائے اس کی زندگی شکر اور اعتراف کی زندگی ہو، نہ کہ ناشکری اور بے اعترافی کی زندگی۔ وہ منفی تجربے کا بھی مثبت انداز میں جواب دے، وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کو خود عائد کردہ ڈسپلن کے تحت استعمال کرے ۔ ہر حال میں انصاف کی بات کہے، خواہ انصاف کی بات خود اُس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو۔ وہ دنیا کے وقتی فائدے کے بجائے، آخرت کے ابدی فائدے کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے ۔ اُس کی سرگرمیوں کا نشانہ، آخرت کی ابدی کامیابی کا حصول ہو، نہ کہ صرف دنیا کی وقتی کامیابی کا حصول۔ جو لوگ موجودہ دنیا کو اپنے لیے ٹسٹنگ گراؤنڈ سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کریں، وہ آخرت میں خالق کے پڑوس میں ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ دنیا کو صرف انجوائے منٹ کی جگہ سمجھیں، وہ آخر کار اس بھیانک نتیجے سے دوچار ہوں گے کہ اُن کے لیے آخرت کی ابدی دنیا میں محرومی اور حسرت کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہ ہوگا۔