It has no basis in fact.
Al-Risala, April 2008, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا مستحقین جنت کے انتخاب (selection) کی دنیا ہے۔ صرف اُنہی لوگوں کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کیا ہو۔ قرآن کی سورہ نمبر 53 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے اُس نے دنیا کی زندگی میں کوشش کی (النجم: 29)۔ اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کسی آدمی کے لیے نہ خرید و فروخت کام آئے گی اور نہ دوستی اور نہ سفارش (البقرہ: 254)۔ سفارش جیسی چیزوں کو جنت میں داخلے کا ذریعہ سمجھنا، جنت کی تصغیر (underestimation) اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام انسانوں کی زندگی کا اعمال نامہ (record) تیار کیا جا رہا ہے۔ جنت ایک اعلیٰ ترین مقام ہے، اور موجودہ دنیا کے ریکارڈ کی بنیاد پر اعلیٰ ترین انسانوں کو وہاں آباد کرنے کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ قرآن کے مطابق، جنت وہ جگہ ہے جو خدائے برتر کے پڑوس میں بنے گی، اور جہاں سچے لوگ سچائی کی دنیا میں ابدی جگہ پائیں گے (القمر: 55)۔ جنت خدا کے پڑوس (التحریم: 11) میں رہنے کا نام ہے۔ یہ تصور مضحکہ خیز حد تک بے اصل ہے کہ خدائے برتر کے پڑوس میں داخلہ کسی محض انسانی سفارش کی بنیاد پر حاصل ہو جائے۔