Al-Risala · April 2008

Bulldoze them all.

Al-Risala, April 2008, pp. 14–20

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مسلم ڈیبیٹر اس آخری حد تک گیے کہ جب مسلمانوں کو ٹرسٹ (terrorist) کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہاں، ہم ٹرسٹ ہیں۔ مگر ہم پولس کی طرح مجرمین کے لیے ٹرسٹ ہیں: Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A pliceman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thieves, dacoits and rapists. جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کو قطب اور اقبال اور مودودی اور احمد دیدات کے ذریعے اسلام ملا، وہ دراصل ایک شدید قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ قومی اسلام کو ربانی اسلام کا درجہ دے رہے ہیں۔ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے ان حضرات کے ذریعے اپنے قومی فخر کو دوبارہ حاصل کر لیا، مگر غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کو حقیقی اسلام حاصل ہو گیا ہے۔ اسی قسم کے ایک مسلمان مسٹر مراد سے 2 اگست 2007 کو میری ملاقات دہلی میں ہوئی۔

کے والدین شام سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر وہ شام کو چھوڑ کر ترکی گئے۔ پھر ترکی سے وہ آسٹریلیا منتقل اس وقت یہ فیملی آسٹریلیا میں رہ رہی ہے۔ مسٹر مراد کی تعلیم آسٹریلیا کے اسکول اور کالج میں انھوں نے کہا کہ یہ اسکول ایک کرسچن اسکول تھا۔ وہاں انھیں بتایا جاتا تھا کہ عیسائیت (Christianity) زیادہ اچھا مذہب ہے، اور اسلام اُس کے مقابلے میں کم تر مذہب ہے۔ وہ اسلام کی اس منفی تصویر سے سخت پریشان تھے۔ پھر انھیں احمد دیدات جیسے لوگوں کو سننے کا اس سے اُن کے ذہن میں اسلام کی عظمت (glory) دوبارہ لوٹ آئی۔ وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کی ایک چیز سمجھنے لگے۔ پھر اسی مجلس میں انھوں نے بتایا کہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے آگرہ گیا مجھے تاج محل دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ میں نے سوچا کہ تاج محل کو بنانے والے مسلمان تھے، مگر آج ہندو لوگ اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ کی اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو احمد دیدات جیسے لوگوں کے ذریعے جو اسلام ملا ہے، وہ اسلام نہیں ہے، بلکہ صرف قومی فخر ہے۔ اگر آپ کو حقیقی اسلام ملا ہوتا تو آپ تاج محل کے بارے میں اس قسم کی منفی بات نہ کہتے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کو انڈیا میں صرف تاج محل انڈیا میں اس کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ بڑی چیز موجود ہے، اور وہ دعوتی عمل کی تاج محل کو لے کر آپ کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو گیا، حالاں کہ اگر آپ انڈیا میں موجود دعوتی مواقع کو لے کر سوچتے تو آپ کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا۔

میرے تجربے کے مطابق ، یہی اُن تمام لوگوں کا معاملہ ہے جو شاعروں اور مُناظروں کی باتوں کو سُن کر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کو پالیا ہے، حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ جس چیز کو انھوں نے دریافت کیا ہے، وہ اسلام کے نام پر محض فخر (pride) ہے۔ اور فخر صرف ایک مذموم چیز ہے، نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز۔

کسی آدمی نے حقیقی اسلام کو پایا ہے یا نہیں، اُس کا معیار صرف ایک ہے، اور وہ فکر آخرت جس آدمی کا اسلام اُس کے اندر گہرے طور پر آخرت کی فکر پیدا کر دے، اُسی نے فی الحقیقت

اسلام کو پایا۔ جس آدمی کا اسلام اُس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نہ دکھائے، اُس نے اسلام کو پایا اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے اسلام کو پالیا ہے۔ اسلام کا آغاز، خدا کی دریافت (معرفت) سے ہوتا ہے۔ خدا کی دریافت ایک ایسی بالا تر ہستی کی دریافت ہے جو انسان کا خالق ہے، جو انسان کا مالک ہے، جس نے انسان کو زندگی کے تمام سامان دیے ہیں۔ جب انسان خدا کو دریافت کرتا ہے تو اُسی کے ساتھ وہ یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ خدا کا یہ تخلیقی نقشہ اُس کو بتاتا ہے کہ دنیا میں جو سامانِ حیات اُس کو ملے ہوئے ہیں، وہ سب کے سب امتحان کے پرچے ہیں۔ چیزیں اُس کو حق کے طور پر نہیں ملی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ملی ہیں کہ اُن کے ذریعے انسان کو جانچ کر دیکھا جائے کہ وہ جہنم کی سزا کے قابل ہے، یا جنت کے انعام کے قابل۔

یہ دریافت اُس کو آخری حد تک تڑپا دیتی ہے۔ دنیا کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے، ہر وقت اُس کو قرآن کی یہ آیت یاد آتی ہے: ثم لتسئلن يومئذ عن النعيم (التكاثر : 8) یعنی پھر یقیناً تم سے اُس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ پھر خدا کی معرفت اور جنت اور جہنم کا یقین اور مواخذۂ آخرت (accountability) کا شدید احساس، اُس کو ایسا بنا دیتا ہے کہ اس دنیا میں میرا کوئی حق (right) نہیں، یہاں میری صرف ذمے داریاں (responsibilities) ہی ذمے داریاں ہیں۔ یہ احساس اُس کو آخری حد تک فرض شناس (duty conscious) بنا دیتا ہے۔ اندر ایک ایسا ذہن بنتا ہے جس میں دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ صرف اپنی ذمے داریوں کو سوچتا ہے، نہ کہ دوسروں کی کوتاہیوں کو۔ اُس کی نظر ہمیشہ اپنی غلطیوں پر ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں پر۔ اُس کا دل دوسروں کے لیے ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔

The story of the wall of laughter ایک پرانا قصہ ہے کہ کسی مقام پر ایک مضبوط دیوار تھی ۔ یہ دیوار بہت اونچی تھی۔ اسی کے ساتھ وہ دونوں طرف بہت زیادہ دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے، اور کس قسم کے لوگ ادھر رہتے ہیں۔ دیوار کے ایس طرف جو لوگ رہتے تھے، انھوں نے یہ چاہا کہ دیوار کے دوسری طرف کا حال معلوم کریں۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک بہت لمبی سیڑھی بنائی، پھر انھوں نے اُس سیڑھی کو دیوار کے ایک طرف کھڑا کیا اور اپنے ایک آدمی کو سیڑھی پر چڑھایا، تاکہ وہ دیوار کے اوپر تک جائے اور وہاں سے دیکھے کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد وہ نیچے آکر دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو دیوار کے دوسری طرف کا حال بتائے۔ لیکن جب یہ آدمی لمبی سیڑھی پر چڑھ کر دیوار کے اوپر پہنچا تو دوسری طرف کی دنیا اُس کو اتنی زیادہ خوب صورت معلوم ہوئی کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔

اس کے بعد دیوار کے اس طرف رہنے والوں نے اپنے ایک اور آدمی کو تیار کیا اور اس کو لمبی سیڑھی کے اوپر چڑھایا، لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ جب وہ آدمی دیوار کے اوپر پہنچا تو قہقہہ لگا کر وہ دوسری طرف کود پڑا۔ یہ تجربہ بار بار کیا جاتا رہا، لیکن ہر بار یہی ہوا کہ او پر چڑھنے والے آدمی کو دوسری طرف کا منظر اتنا پرکشش نظر آیا کہ وہ قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔ اس طرح دیوار کے اس طرف رہنے والوں کے لیے دیوار کے دوسری طرف کا حال بدستور نا معلوم بنارہا۔

اس افسانوی دیوار کو اگر موت کی دیوار مانا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ انسان کی زندگی کا ایک حصہ دیوار کے اس طرف ہے، اور اس کا دوسرا حصہ دیوار کے دوسری طرف۔ دیوار کے دوسری طرف خوشیوں کی دنیا، یا دوسرے لفظوں میں ، جنت کی دنیا بسی ہوئی ہے اور دیوار کے اس طرف محنت اور

مشقت کی دنیا ہے، تو یہ کہانی انسانی تاریخ کے اوپر مکمل طور پر صادق آئے گی۔ یہ تمثیلی کہانی گویا کہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔

انسان پیدائشی طور پر اپنے لیے خوشیوں کی ایک زندگی چاہتا ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو متلاشی مسرت حیوان (joy-seeking animal) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم انسان نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی زندگی مختلف قسم کے غم سے بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے لیے ایک پُرمسرت زندگی کی تلاش شروع کر دی۔ اس تلاش کا غالباً پہلا نمایاں واقعہ پہیہ (wheel) کی دریافت تھی۔ پہیے کی دریافت کے بعد تلاش مسرت کا یہ انسانی سفر شروع ہو گیا۔ اس سفر کو ایک متعین نام دینا ہو تو اُس کو تہذیب (civilization) کا سفر کہا جا سکتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر چلتا رہا۔ لمبی مدت کے بعد آخر کار یہ سفر جدید تہذیب (modern civilization) کے دور تک پہنچ گیا۔ اب اُس کو تیز رفتار سفر کے لیے مشین کی طاقت جدید کمیونی کیشن کا زمانہ آیا اور جسمانی سفر کے بغیر انسان کی آواز اور اس کی متحرک تصویر بعید ترین مسافت تک پہنچنے لگی۔ جدید انڈسٹری نے کنزیومر ازم (consumerism) کا دور پیدا کیا، جب کہ راحت اور آسائش کی تمام چیزیں غلے اور سبزی کی طرح بازار میں بکنے لگیں، وغیرہ۔ اس طرح انسانی تہذیب کا میابی کے ساتھ لمبا سفر طے کرتے ہوئے آخر کار اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ گئی، لیکن اس آخری منزل پر پہنچ کر انسان کے لیے ایک نیا شدید تر مسئلہ پیدا ہو گیا۔ یہ ہوا کہ دیوار قہقہہ (laughter wall) اُن کے لیے ایک نئی قسم کی دیوار گر یہ (wailing wall) بن گئی۔ اب معلوم ہوا کہ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد جو دنیا اپنے لیے بنائی تھی، وہ انسان کے لیے خوشیوں کی دنیا نہ تھی، بلکہ وہ صرف نئی نا قابل عبور مصیبتوں کی ایک دنیا تھی۔ چناں چہ اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب ایک بندگلی (blind alley) تک پہنچ کر انسانی تاریخ کے خاتمہ (end of history) کے ہم معنی بن گئی۔

ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک ہے، وہ یہ کہ خوشیوں کی ایک دنیا بنانے کے لیے ایک مکمل انڈسٹری درکار ہے۔ انسان نے لمبی جدوجہد کے بعد ایک ایسی انڈسٹری تیار کی، لیکن جب یہ انڈسٹری

تیار ہو گئی تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ انڈسٹری ایک نیا نا قابل عبور مسئلہ لے کر آئی ہے۔ یہ مسئلہ فضائی کثافت (air pollution) کا مسئلہ ہے، جو کہ انسانی انڈسٹری کے ساتھ لازمی طور پر جڑا ہوا ہے۔ ہم کو اپنی مطلوب راحتوں کی دنیا بنانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution-free industry) درکار ہے، اور بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ کثافت کے مسئلے نے عملی طور پر تہذیب کے تمام ثمرات(achievements) کی نفی کر دی ہے۔ ایک طرف، اپنی مطلوب دنیا بنانے کے لیے انسان کے عجز کا یہ معاملہ ہے اور دوسری طرف، اسی دنیا میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں ایک بے کثافت انڈسٹری عملاً ہزاروں سال سے مکمل طور پر یہ فطرت (nature) کی انڈسٹری ہے۔ تہذیب، بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانے میں مکمل طور پر نا کام رہی، لیکن اسی دنیا میں فطرت (nature) ایک مکمل قسم کی بے کثافت انڈسٹری بہت بڑے پیمانے پر بالفعل (in action) قائم کیے ہوئے ہے۔

موجودہ سیارہ زمین جس پر انسان رہتا ہے، وہ مسلسل طور پر گردش میں ہے۔ وہ اپنے محور (axis) پر ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وسیع خلا میں سورج کے گرد وہ اپنے مدار (orbit) پر 19 کروڑ میل کا لمبا سفر طے کرتا ہے، پہلا سفر 24 گھنٹے میں پورا ہوتا ہے اور دوسرا سفر ایک سال میں۔ سیارہ زمین کا یہ دو طرفہ تیز رفتار سفر مسلسل طور پر جاری ہے، لیکن یہاں نہ کوئی شور (noise) ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔

سورج آگ اور انرجی کا بہت بڑا بھنڈار ہے۔ وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اُس سے 12 لاکھ زمینیں بن سکتی ہیں۔ وہ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور رہتے ہوئے مسلسل طور پر ہم کو روشنی اور حرارت بھیج رہا ہے، لیکن دوبارہ یہاں کسی قسم کی کوئی کثافت (pollution) مطلق موجود نہیں۔ اسی طرح نیچر میں ایک اور انڈسٹری ہے۔ یہ درختوں اور پودوں کی صورت میں قائم ہے۔ یہ انڈسٹری ایک نہایت پیچیدہ نظام کے تحت، انسان کو مسلسل طور پر صحت بخش آکسیجن سپلائی کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہماری سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کر رہی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم انڈسٹری

ہے، لیکن یہ انڈسٹری بھی شور اور کثافت جیسی نامطلوب چیزوں سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اسی طرح پانی کو دیکھیے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بڑے بڑے سمندروں کی صورت میں ہماری زمین پر موجود ہے۔ اس ذخیرے میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تقریباً 10 فی صد نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر وہ براہِ راست طور پر انسان کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔ یہاں بارش کی صورت میں ایک عظیم آفاقی عمل جاری ہے، جس کو از الۂ نمک (desalination) کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ناقابلِ بیان حد تک ایک عظیم انڈسٹری ہے، لیکن یہ انڈسٹری کسی قسم کی کوئی کثافت پیدا نہیں کرتی۔ یہی معاملہ انسانی خوراک کا ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ خوراک غلہ اور سبزی اور پھل اور دودھ اور مچھلی اور گوشت، وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے۔ خوراک بھی مسلسل طور پر انسان کے لیے وجود میں لائی جا رہی ہے۔ یہ عمل بھی ایک عظیم انڈسٹری کے ذریعے انجام پاتا ہے، لیکن یہاں بھی انسانی صنعتوں کی مانند کوئی کثافت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ دو مختلف قسم کے تجربے ہیں۔ ایک، انسانی تہذیب کی انڈسٹری اور دوسرے، ڈوائن نیچر کی انسانی تہذیب کی انڈسٹری ہمارے لیے خوشیوں اور راحتوں کی دنیا بنانے میں ناکام ہے۔ وہ راحت کے سامان وجود میں لانے کی کوشش میں مصیبتوں کا ایک نیا جنگل اُگا دیتی ہے۔ طرف، عین اُسی وقت، ڈوائن نیچر کی انڈسٹری راحت کے تمام سامان پیدا کر رہی ہے، لیکن وہ مکمل طور پر ایک بے کثافت انڈسٹری ہے، نہ کہ انسانی انڈسٹری کی طرح پر کثافت انڈسٹری۔ اب اگر قدیم کہانی کے مطابق، دیوارِ کو موت کی دیوار قرار دیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دیوار کے ایک طرف دنیا ئے گریہ (wailing world) ہے، اور اس دیوار کے دوسری طرف دنیا ئے قہقہہ (laughter world) ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر تہذیب انسانی کی ناکامی ہمیں ایک نیا پر اُمید سبق دے رہی ہے، وہ یہ کہ ہم ’’دیوار‘‘ کے اس طرف ناکام طور پر اپنی دنیا ئے قہقہہ بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف کی ’’ دنیا ئے قہقہہ ‘‘ میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں، جو کہ بروقت ہی ڈوائن نظام کے تحت ’’دیوار‘‘ کے دوسری طرف موجود ہے۔

Printed page