Osama's son wants to be a peacenik
Al-Risala, April 2008, pp. 26–30
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کہا کہ— اسلام کے دفاع کے لیے القاعدة کی اختیار کردہ ملیٹنسی سے زیادہ بہتر طریقہ اسلام میں موجود ہے:
There is a better way to defend Islam, than Al-Qaida’s militancy (p. 22)
عمر بن اسامہ بن لادن نے مذکورہ بات ایسوسی ایٹیڈ پریس (A.P) کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اس کے بعد مشہور ٹی وی چینل سی این این (CNN) نے اُن سے انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مختلف اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (23 جنوری 2008) نے اس کی رپورٹ مندرجہ ذیل عنوان کے تحت چھاپی ہے:
Osama's son wants father to 'give up violence, find another way'
یہ خبر علامتی طور پر تاریخ میں ایک نئے دور کا اعلان ہے ۔ دور تشدد کا خاتمہ، اور دور امن کا یہ نیا دور نظریاتی طور پر شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ عملی طور پر بھی وہ دنیا میں قائم ہو جائے گا۔
بیسویں صدی عیسوی میں تاریخ کی دوسب سے بڑی جنگیں لڑی گئیں، پہلی عالمی جنگ، اور دوسری عالمی جنگ۔ ان جنگوں میں تقریباً 60 ملین انسان ہلاک ہوگئے۔ اس عظیم ہلاکت کے بعد انسان کا ضمیر عام طور پر جنگ کے خلاف ہو گیا۔ اس کے بعد جب دنیا میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) آگئے، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب اس کا امکان ختم ہو گیا کہ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل کیا جاسکے۔
اس عالمی پس منظر کا اثر مسلمانوں کی مسلح جدوجہد پر بھی پڑا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے مسلح جہاد کے نام پر اپنی جان اور اپنے مال کی جو قربانی دی ہے، وہ پوری تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر مسلم دنیا میں یہ احساس عام ہو چکا ہے کہ مسلح جدوجہد اب مسلمانوں کے لیے کوئی قابلِ انتخاب چیز نہیں۔ اس پس منظر میں اسامہ بن لادن کے بیٹے کا مذکورہ اعلان گویا کہ پوری ملت کی طرف سے ایک نمائندہ اعلان ہے۔ اب تقریباً یقینی ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان جنگ اور تشدد کے راستے کو چھوڑ کر امن اور مفاہمت کا طریقہ اختیار کریں گے اور پھر اپنے مقصد کو زیادہ بہتر طور پر حاصل کر لیں گے۔
تیرھویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل نے اُس زمانے کی عباسی سلطنت کو تباہ کر دیا اور مسلم دنیا کے اوپر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ مگر اس کے بعد صرف پچاس سال کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ جولوگ پہلے بظاہر اسلام کے دشمن بنے ہوئے تھے، وہ اب اسلام کے سپاہی بن گئے۔ اس حیرت ناک تاریخی واقعے کا اعتراف ایک مورّخ نے ان الفاظ میں کیا ہے ـــ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی، جہاں اُن کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے : The religion of Muslims have conquered, where their arms had failed. بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاریخ دوبارہ دہرائی جانے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا عمل (process) بطور واقعہ شروع ہو چکا ہے۔ آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ ساری دنیا میں، خاص طور
مغربی ممالک میں، لوگ تیزی سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکا میں یہ تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بظاہر حالات، یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ عمل اب رکنے والا نہیں۔ اسلام کی یہ فکری اشاعت کوئی اتفاقی بات نہیں۔ وہ موجودہ زمانے کے حالات کا ایک فطری موجودہ زمانے میں سائنس کے زیر اثر توہماتی طرزِ فکر کا خاتمہ ہوگیا۔ لوگ قدیم طرز کے تعصّباتی مزاج سے بلند ہو کر مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے لگے۔ جدید کمیونیکیشن نے اسلام کی معلومات کو ہر آدمی کے لیے قابلِ حصول بنادیا۔ موجودہ زمانہ جس کو گلوبلائزیشن کا زمانہ کہا جاتا ہے، وہ دراصل گلوبل انٹریکشن کا زمانہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مسلمان ساری دنیا کے لوگوں سے ملنے لگے، اور اس طرح انٹریکشن کے دوران اسلام کا پیغام عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچنے لگا، وغیرہ۔ اس طرح کے مختلف واقعات جو موجودہ زمانے میں پیش آئے، وہ سب کے سب اسلام کے لیے ایک موافق زمین بنانے کے ہم معنی تھے۔ ظاہری سطح پر خواہ کتنے ہی غیر موافق اسباب دکھائی دیتے ہوں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے جدید دنیا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسلام کی موافقت میں تھی۔ جدید دنیا کا یہ مثبت پہلو اب بطور واقعہ دکھائی دینے لگا ہے۔ اسلامی دعوت اب خود تاریخی عمل (historical process) میں شامل ہو چکی ہے، اور جو فکر خود تاریخی عمل میں شامل ہو جائے، اُس کا اپنے آخری انجام تک پہنچنا اتنا ہی ممکن ہو جاتا ہے جتنا کہ رات کے بعد سورج کا نکلنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے جو مسلح جہاد شروع کیا، وہ اسلامی دعوت کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن گیا۔ مسلمانوں نے جن قوموں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا، وہ سب اسلامی دعوت کے اعتبار سے مدعو قومیں تھیں، یعنی مسلمان داعی تھے اور وہ مدعو۔ اسلامی دعوت کا تقاضا تھا کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں۔ کیوں کہ جب داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں، تو دعوت کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہتا ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات باقی نہ رہیں، تو دعوت کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری مسلمانوں کی طرف سے مدعو قوموں کے خلاف مسلح جہاد کی
یہ مسلح جہاد خدا کے منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اب جان و مال کی تباہی کے بعد مسلمان مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ مسلح جہاد کے اس عمل کو چھوڑ دیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب عملاً اس کا آغاز ہو چکا ہے۔
غیر مطلوب مسلح جہاد کا ختم ہونا، اپنے آپ میں دعوتی عمل کا آغاز ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حالات معتدل ہو جائیں تو لوگ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اسلام کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں، اور عین اپنی فطرت کے مطابق پا کر اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔ بیسویں صدی اگر غیر مطلوب مسلح جہاد کی صدی تھی، تو اکیسویں صدی مطلوب دعوت کی صدی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، تشدد کا خاتمہ اور امن کا آغاز اہل اسلام کے لیے فتح مبین (الفتح: 1) کی حیثیت رکھتا ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کی ترقی اپنے آپ اسلامی دعوت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ خلیجی جنگ (1991) کے دوران امریکا کے فوجی بڑی تعداد میں مصر اور عرب ملکوں میں ان کا انٹریکشن مسلمانوں سے ہو۔ اس دوران تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں نے اسلام قبول یہ واقعہ موجودہ زمانے میں ہر جگہ ہو رہا ہے۔ فی الحال یہ واقعہ زیادہ تر اپنے آپ ہو رہا ہے۔ عمل میں ماڈرن کمیونیکیشن عملاً دعوت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
گویا کہ ماڈرن کمیونیکیشن کے زمانے میں دعوت کا کام خود تاریخی عمل (historical process) کا حصہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس تاریخی عمل میں اپنے آپ کو شامل تا کہ جو کام اپنے آپ ہو رہا ہے، وہ مزید شدت کے ساتھ براہ راست کوشش کے ذریعے اور دعوت کا قافلہ بہت جلد اپنی مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔ یہ مطلوب منزل، حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اسلام کا کلمہ روئے زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں داخل ہو جائے، کوئی بھی عورت یا مرد خدائی پیغام سے بے خبر نہ رہے (لايبقى علی وجه الأرض بيت مدر ولا وبر، إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔