Simple living, high thinking
Al-Risala, April 2008, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
سادہ زندگی اور اونچی سوچ (high thinking) دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سادہ زندگی نہیں تو اونچی سوچ بھی نہیں۔ اونچی سوچ یا اعلیٰ ذہن کی تشکیل کے لیے ارتکاز (concentration) نہایت ضروری ہے، اور سادگی کے بغیر ذہنی ارتکاز (intellectual concentration) پر قائم رہنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
جب کوئی شخص سماجی زندگی میں رہتا ہے تو اس کے ساتھ بار بار ڈسٹریکشن (distraction) کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، یعنی ایسی چیزوں میں مشغول ہونا جو آدمی کو اس کے حقیقی مقصد سے ڈسٹریکشن کا معاملہ سماجی زندگی میں بار بار پیش آتا ہے۔ لیکن جس آدمی کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد ہو اور وہ واقعی معنوں میں اس کو حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔ ڈسٹریکشن آدمی کی توجہ کو اس کے اصل مقصد سے ہٹاتا رہتا کوئی با مقصد انسان اس قسم کے ڈسٹریکشن کو گوارا نہیں کر سکتا۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے، با مقصد انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ سادگی کے اصول کو ترک کر دے۔
سوال و جواب آج کل گراس روٹ (grassroots) کا بہت چرچا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گراس روٹ سے کام کرنے کا طریقہ ٹھوس طریقہ ہے۔ یہی اصلاحی کام کا زیادہ صحیح طریقہ ہے۔ آپ کا طریقہ بظاہر اس سے مختلف نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ گراس روٹ لیول (grassroot level) سے کام کرنے کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔ ایسا کیوں ہے، اور اس معاملے کی حقیقت کیا ہے۔ (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)
گراس روٹ لیول سے کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی سطح سے کام کیا جائے، یعنی اصلاحی کام کا آغاز گاؤں سے کرنا، یا غریب بستیوں سے کرنا، یا بے پڑھے لکھے عوام سے کرنا۔ طریق کار میں کچھ فائدے ضرور ہیں، لیکن یہ کام کا زیادہ نتیجہ خیز طریقہ نہیں۔ نچلی سطح کے لوگوں کو گراس روٹ سمجھنا، ایک غلط مفروضہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ گراس روٹ انسان کا ذہن ہے، یعنی انسان کی سوچنے کی صلاحیت کا مرکز۔
مذکورہ مفروضے کے مطابق، بہت سے بڑے بڑے لوگوں نے گراس روٹ سے کام کیا ہے، مگر اُن کے اپنے نشانے کے مطابق، ان کے کام کا کوئی بڑا نتیجہ نہیں نکلا۔ مثال کے طور پر مدر ٹریسا (وفات: 1997) کا نام اس معاملے میں بہت زیادہ مشہور ہے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ ان کی موت روحانی کرب (agony) کے عالم میں ہوئی۔ آخر وقت میں وہ اپنے کام سے غیر مطمئن تھیں۔ کیوں کہ جس نشانے کو سامنے رکھ کر انھوں نے کام شروع کیا تھا، وہ نشانہ ان کو حاصل نہیں ہو سکا۔ حال اُن تمام بڑے بڑے مصلحین (reformers) کا ہے۔ جنھوں نے اپنے خیال کے مطابق، مفروضہ گراس روٹ سے کام شروع کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے تمام اعمال کا مصدر اور منبع اس کا ذہن (mind) ہے۔ جیسا اپنے ذہن سے سوچتا ہے، ویسا ہی وہ عمل کرتا ہے۔ اس لیے آدمی کا ذہن (mind) انسانی زندگی میں گراس روٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی بات فطری نقشے کے مطابق ہے۔ ہم اپنا کام اسی فطری نقشے کے بنیاد پر کر رہے ہیں۔ ہم انسان کے ذہن کو تمام انسانی اعمال کے لیے گراس روٹ سمجھتے ہیں۔ لیے ہماری تمام کوشش یہ ہے کہ انسان کا ذہن بدلے، انسان کی سوچ بدلے، انسان کے اندر صحیح طرزِ فکر سوچ بدلے گی تو زندگی بدلے گی، اور اگر سوچ نہ بدلے تو کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔ عام طور پر یہ سمجھتا ہے کہ شادی یا نکاح کے معاملے میں اسلام کا طریقہ ارینجڈ میریج (arranged marriage) کا طریقہ ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اس طریقے کو روایتی (traditional) طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں کا یہ خیال ہے کہ شادی یا نکاح زندگی کا ایک بے حد اہم معاملہ ہے، اس لیے نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ ماننا ہے کہ انھیں اس معاملے کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ اس دوسرے طریقے کو عام طور پر لو میریج (love marriage) کہا جاتا ہے۔ معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (رابعہ، کرناٹک)۔ موجودہ دنیا عقل کا امتحان ہے۔ جو آدمی سوچ سمجھ کر کام کرے گا، وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص محض جذبات کے تحت کام کرے گا، وہ ناکام ہوگا۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے، شادی کو میریج کا نام لو افیئر (love affair) یا لو میریج کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ صرف سطحی جذباتیت کا خوب صورت نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شادی یا نکاح اپنے لیے ایک لائف پارٹنر حاصل کرنے کا نام ہے۔ زوجین کو چاہیے کہ وہ نکاح کے معاملے کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ اس معاملے میں وہ جذباتی مغلوبیت کے تحت کوئی کام نہ کریں، بلکہ خالص عقلی فیصلے کے تحت کام کریں۔ لو افیئر یا لو میریج صرف وقتی جذباتیت کا نتیجہ ہوتی ہے، جب کہ نکاح کا تعلق عورت یا مرد کی
پوری زندگی سے ہوتا ہے۔ اس معاملے میں دانش مندانہ فیصلہ ہمیشہ کئے لیے آدمی کی زندگی کو خوش گوار بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جذباتی فیصلہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی کو تلخ بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں عقلی فیصلے کا نتیجہ کامیابی ہے اور جذباتی بہاؤ کا نتیجہ ناکامی۔