دعوت الی اللہ
Al-Risala, January 2008, pp. 17–26
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت اور تبلیغ کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف بلانا۔ انسان کو اس کے خالق اور مالک کے ساتھ جوڑنا۔ اللہ کی طرف بلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو یہ بتایا جائے کہ اللہ کی زمین پر تمھارے لیے زندگی کا صحیح طریقہ صرف یہ ہے کہ تم اللہ کے بندے بن کر رہو۔ انسان کے لیے دنیا کی زندگی میں صرف دو رویے ممکن ہیں۔ ایک، خودرخی اور دوسرا، خدارخی۔ رخی رویے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خود اپنی ذات کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے، وہ اپنی سوچ کے مطابق چلے، وہ اپنے خواہشوں کی پیروی کرے، وہ اپنے ذاتی تقاضوں کی تکمیل کو زندگی کی کامیابی قرار دے۔ اس کے مقابلے میں خدارخی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کا ماتحت سمجھے، وہ اپنے جذبات کو خدا کے تابع بنائے۔ اس کے نزدیک زندگی کی کامیابی یہ ہو کہ وہ خدا کی پسند کے مطابق جিয়ে اور خدا کی پسند ہی پر اس کا خاتمہ ہو جائے۔
خودرخی زندگی میں گھمنڈ اور حسد اور انانیت جیسے جذبات جاگتے ہیں۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ حق وہ ہے جس کو وہ حق سمجھے اور باطل وہ ہے جس کو وہ باطل قرار دے۔
خدارخی زندگی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ خدارخی زندگی آدمی کے اندر عبدیت، تواضع، اعتراف اور خود احتسابی جیسے جذبات ابھارتی ہے۔ پہلی صورت میں انسان اگر خود پرست بن جاتا ہے تو دوسری صورت میں خدا پرست۔
دعوت الی اللہ یہ ہے کہ آدمی کو خودرخی زندگی کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے اور اس کو خدارخی زندگی اختیار کرنے کی دعوت دی جائے۔ ان دونوں قسم کی زندگیوں کو جاننے کا معتبر اور مستند ماخذ خدائی تعلیمات ہیں، جو قرآن کی صورت میں محفوظ طور پر ہمارے پاس موجود ہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اُخروی نوعیت کا کام ہے۔ قومی یا اقتصادی یا سیاسی معاملات سے براہِ راست اس کا کوئی تعلق یہ انسان کو خدا اور آخرت کی طرف بلانے کی ایک مہم ہے۔ اسی دینی اور روحانی اسلوب میں وہ
شروع ہوتی ہے اور اپنے اسی اسلوب میں وہ آخر وقت تک جاری رہتی ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی کام ہے، جس کو بندوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کو اسی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس اسپرٹ کے بغیر جو کام کیا جائے وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ ہوگا، خواہ اس کو دعوت الی اللہ کے نام پر جاری کیا گیا ہو۔ دعوت الی اللہ نہ سیاست کی طرف بلانے کا کام ہے اور نہ قومی مسائل کی طرف بلانا اس کا یہ مکمل طور پر خدا کی طرف بلانے کا ایک کام ہے اور اسی خاص صورت میں اس کو ادا کیا جانا چاہیے۔
خدا کی طرف بلانے سے کیا مراد ہے۔ اس کا ابتدائی مقصد یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کیا جائے۔ اس کو بتایا جائے کہ خدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے اور خدا آئندہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ گویا انسان کو خدا سے متعارف کرنے کا ایک کام اس کا نشانہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کی غفلت ٹوٹے، اور وہ اپنی بندگی کا ادراک کر کے خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔
اس دعوتی عمل کا نشانہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ذات کو پہچانے۔ وہ خدا کی قدرت کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرے ۔ غیب کا پردہ پھاڑے جانے سے پہلے وہ خدا کا مشاہدہ کرے۔ سے براہ راست سابقہ پیش آنے سے پہلے وہ بالواسطہ طور پر خدا کی معرفت حاصل کرے۔ دعوت کا مقصد انسان کے اندر سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے۔ بھٹکے ہوئے انسان کو، خدا کی طرف جانے والے سیدھے راستے پر کھڑا کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اُس بصیرت کو جگایا جائے جو کائنات کی نشانیوں میں خدا کے جلوؤں کو دیکھنے لگے۔ جو مخلوقات کے آئینے میں اس کے خالق کو بلا حجاب پالے۔
دعوت ایک انسان کو اس قابل بنانے کا نام ہے کہ وہ براہ راست اپنے رب سے مربوط ہو جائے۔ اس کو روحانی سطح پر خدا کا فیضان پہنچنے لگے۔ اس کے دل و دماغ خدا کے نور سے منور ہو جائیں۔
پورا وجود خدا کی رحمت کی بارش میں نہا اٹھے۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ آدمی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی مخلوق بن جائے، وہ دنیا کی عظمتوں میں خدا کی عظمت دریافت کرے، وہ دنیا کی نعمتوں میں جنت کی نعمتوں کا تجربہ کرنے دنیا کی تکلیفیں اس کو جہنم کی تکلیف یاد دلائیں ۔ دنیا کے مناظر اس کو آخرت کی حقیقتوں کا مشاہدہ کرانے لگیں۔ یہی دعوت کا نشانہ ہے اور ایسے ہی انسانوں کو وجود میں لانا دعوت اور داعی کی کامیابی ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ’احسن تقویم‘ کی صورت میں پیدا کیا۔ پھر اس کو گرا کر ’اسفل سافلین‘ میں ڈال دیا (التین: 5-4)۔ دعوتی عمل کا مقصد انسان کو دوبارہ اس کی اصل ابتدائی حالت کی طرف لوٹانا ہے، جنت سے نکالے جانے کے بعد دوبارہ اُس کو جنت کے راستے پر ڈالنا ہے، خدا کی رحمت سے دور ہونے والوں کو دوبارہ خدا کی رحمت کے سائے میں پہنچا دینا ہے۔ انسان کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کی ایک مچھلی جس کو پانی سے نکال کر صحرا میں ڈال دیا جائے۔ ایسی مچھلی صحرا میں مسلسل تڑپ رہی ہوگی۔ اور اس کے ساتھ بہترین ہمدردی یہ ہوگی کہ اس کو دوبارہ پانی کی طرف لوٹا دیا جائے۔
انسان بھی اسی طرح جنت کی ایک مخلوق ہے۔ اس کے اندر ایک نامعلوم آئیڈیل کو پانے کا جذبہ بے پناہ حد تک پایا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اس نامعلوم آئیڈیل کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ وہ بار بار دنیوی رونق والی کسی چیز کی طرف لپکتا ہے، اس امید میں کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے وہ شاید یہی ہے، مگر ہر بار اسے ناکامی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے اپنے آئیڈیل کو پایا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں داعی کو اپنا دعوتی عمل انجام دینا ہے۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ جس آئیڈیل کی تلاش میں ہے، وہ صرف خدا اور اس کی جنت ہے۔ یہ صرف خدا ہے جس کو پا کر آدمی اپنے آئیڈیل کو پالے۔ یہ صرف جنت ہے جہاں پہنچ کر آدمی اس اطمینان سے دوچار ہو کہ وہ جس دنیا کی تلاش میں تھادہ دنیا سے حاصل ہوگئی۔
اس اعتبار سے ہر انسان داعی کا نشانہ ہے۔ داعی کو ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ اسے ہر آنکھ پر پڑے ہوئے پردے کو ہٹانا ہے۔ گویا دنیا میں اگر چھے بلین انسان ہیں تو داعی کو چھے بلین کام کرنا ہے۔ بلین روحوں کو ان کے خدا سے ملانا ہے۔ اسے چھے بلین انسانوں کو ان کے جنتی قیام گاہ تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔
اسی معلمِ انسانیت کا نام داعی ہے۔ داعی وہ ہے جو زندگی کے راستوں پر روشنی کا مینار بن کر کھڑا ہو جائے، جو انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے خدائی رہنما بن جائے۔ قرآن کی سورہ نمبر 51 میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے کہ: ففرّوا الى الله إنّى لكم منه نذير مبين (الذاريات: یعنی اے لوگو! اللہ کی طرف دوڑو، میں اس کی طرف سے تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا اسی بات کو دوسری جگہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اعبدوا الله واجتنبوا الطَّاغوت (النحل: 36) یعنی اے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اس دنیا میں انسان دو پکاروں کے درمیان ہے۔ ایک، خدا کی پکار اور دوسرے، شیطان (طاغوت) کی پکار۔ خدا خیر کا سرچشمہ ہے اور وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے برعکس، شیطان شر کا سرچشمہ ہے۔ وہ لوگوں کو شر کے راستوں کی طرف بلاتا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب میں نہ آئے اور شیطان کو چھوڑ کر وہ خدا کی طرف دوڑپڑے۔
خدا تمام صفاتِ کمال کا جامع ہے۔ وہ عدل، رحمت، سچائی، دیانت داری اور اخلاص کو پسند خدا چاہتا ہے کہ انسان انھیں اعلیٰ اوصاف کو اپنائے ۔ وہ اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات میں ڈھال لے۔
اس کے برعکس، شیطان برائیوں کا مجموعہ ہے اور وہ انسان کو بھی برائیوں کی طرف لے جانا چاہتا شیطان، آدمی کے اندر چھپے ہوئے بدی کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر حسد، انانیت، غصہ، انتقام، تکبّر، خود غرضی اور بے اعترافی جیسے جذبات کو جگا کر انسان کی انسانیت کو دبا تا ہے اور اس کی حیوانیت کو جگا کر اس کو اپنے جیسا بنا دینا چاہتا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اسی دو طرفہ تقاضے کے درمیان ہے۔ ہر آدمی ایک داخلی جنگ کے محاذ پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا ضمیر ہے جو اس کو خدا کی طرف کھینچتا ہے۔ دوسری طرف اس کی انانیت ہے جو اس کو دھکیل کر شیطان کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ ضمیر خدا کا نمائندہ ہے اور انانیت شیطان کی نمائندہ۔
داعی کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ انسان کے اندر ذہنی بیداری لا کر اس کو اس قابل بنائے کہ وہ اس دو طرفہ تقاضے کو پہچانے۔ وہ اپنی انانیت پر روک لگائے اور ضمیر کی آواز کو تقویت دے۔ وہ شیطان کی ترغیبات سے بچ کر خدا کے اُس راستے کا مسافر بن جائے جو اس کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ یہ دعوتی کام زمین پر ہونے والے تمام کاموں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ پیغمبروں والا کام ہے۔ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں، اُن کو نہایت خصوصی انعامات سے نوازا جائے گا۔
قرآن کی سورہ نمبر 7 میں اصحابِ اعراف کا ذکر ہے، یعنی بلندیوں والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اونچے منبروں پر کھڑے کیے جائیں گے۔ اور اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ دونوں کے بارے میں خدا کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے:
”اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے۔ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غم گین “ (الأعراف: 49-46)
اس آیت میں اصحابِ اعراف سے مراد شہداء ہیں، یعنی خدا کے وہ خاص بندے جنھوں نے میں قوموں کے اوپر خدا کے دین کی گواہی دی اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے انکار کیا (تفسیر قرطبی، جلد 7، صفحہ 211)۔ ان شہداء (دُعاة) کے لیے قرآن میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً منذر، مبشر، اس گروہ میں اولاً انبیاء شامل ہیں اور اس کے بعد اللہ کے وہ خاص بندے جنھوں نے انبیاء کے نمونے کو لے کر اپنے زمانے کے لوگوں پر دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا۔ تاہم قیامت میں لوگوں کے ابدی انجام کا جو فیصلہ ہونے والا ہے وہ اُسی کارِ شہادت (دعوت) کی بنیاد پر ہوگا جو دنیا میں ان کے اوپر انجام دیا گیا تھا۔ یہ کارِ شہادت (دعوت) دنیا ہی میں انسانوں کو دو گروہوں میں بانٹ رہا ہے۔ ایک، اس کو قبول کرنے والے اور دوسرے، اس کا انکار کرنے قیامت میں یہ دوسرے قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے۔ دونوں کے لیے ان کے عمل کے مطابق، دو مختلف انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اگر چہ تمام تر خدا کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم اس فیصلے کا اعلان انھیں خصوصی بندوں کے ذریعے کرایا جائے گا جنھوں نے دنیا میں دعوت اور شہادت کا کام انجام دیا تھا۔ یہ ان کے حق میں ایک غیر معمولی اس اعلان کے لیے قیامت کے میدان میں اونچے اسٹیج بنائے جائیں گے جن کے اوپر یہ اصحابِ اعراف کھڑے ہوں گے۔ وہاں سے وہ ہر ایک کو دیکھیں گے اور ہر ایک کے بارے میں خدائی فیصلے سے اس کو باخبر کریں گے۔
شہداء اور دُعاۃ نے دنیا میں خدا کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کے لیے محنت کی تھی، اس عمل کی بنا پر ان کو یہ امتیازی انعام دیا جائے گا کہ قیامت میں وہ بلندیوں پر کھڑے ہوں اور اس دعوتِ حق کے آخری انجام سے لوگوں کو باخبر کریں۔ دنیا میں وہ اپنے مقصد کے اعتبار سے بلند تھے اور قیامت میں وہ اس کے عملی انجام کے اعتبار سے بلند قرار دیے جائیں گے۔
خدا پر ایمان لانے کے بعد ایک بندے سے عملی طور پر جو کچھ مطلوب ہے، اس کو قرآن میں دو قسم کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اطاعتِ خدا، اور نصرتِ خدا۔ اطاعتِ خدا سے مراد یہ ہے کہ بندہ
ان تمام اوامر ونواہی پر عمل کرے جو خدا کی طرف سے رسول کے ذریعے بتائے گئے ہیں۔ وہ ان تمام حکموں کو اپنی زندگی میں اختیار کرے جن کو اختیار کرنے کی خدا نے تاکید کی ہے، اور ان تمام چیزوں سے بچے جن سے بچنے کا خدا نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے، یا اپنے رسول کے ذریعے جن کا اعلان
نصرت خدا کا مطلب ہے خدا کی مدد کرنا۔ یہ ایک انوکھا شرف ہے جو کسی صاحب ایمان آدمی کو ملتا اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یہ چوں کہ خود خدا کا ایک مطلوب عمل ہے جو بندے کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے، اسی لیے اس کو نصرت خدا (خدا کی مدد) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
عبادت، اخلاق اور معاملات میں خدا کے احکام کی تعمیل بندے کی اپنی ضرورت ہے۔ کے ذریعے بندہ اپنی بندگی کو ثابت کر کے خدا کے انعام کا مستحق بنتا ہے، مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ اللہ کے اوپر سے حجت کو اٹھانا ہے (النساء: 165) امتحان کی مصلحت کی بنا پر یہ کام انسانوں کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک خدائی عمل ہے جس کو کچھ انسان خدا کی طرف سے انجام دیتے ہیں اور پھر خدا کے یہاں سے وہ اس کا انعام پاتے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجیے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ، كما قال عيسى بن مريم للحواريين مَّن أنصاري إلى الله، قال الحواريُّونَ نحن أنصار الله، فآمنت طائفة من بني إسرائيل وكفرت طائفة، فأيدنا الَّذِينَ آمنوا على عَدُوِّهم فأصبحوا ظاهرين (الصَّف: 14) ”اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا_ کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔
اس آیت میں اللہ کی نصرت کرنے یا اللہ کا انصار بننے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے ــــ خدا کے دعوتی منصوبے میں اپنے آپ کو قول اور عمل سے شریک کرنا، اقامتِ حجت کے خدائی کام کو اپنا کام بنا کر اس کے لیے محنت کرنا۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: أى مَن معيّني فى الدعوة إلى الله عزوجل؟ (وهم أتباع عيسى عليه السلام): نحن أنصار الله، أي نحن أنصار على ما أرسلت به وموازروك على ذلك۔ و لهذا بعثهم دُعاةً إلى الناس فى بلاد الشام فى الإسرائيليين واليونانيّين، وهكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في أيام الحج ”مَن رجل يؤوينى حتى أبلّغ رسالة ربّي، فإنّ قريشاً قد منعونى أن أبلّغ رسالة ربّيّ۔ (تفسير ابن كثير، جلد 4، صفحه 362) ”یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریوں نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیں اس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گئے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔ اس لیے حضرت مسیح نے ان لوگوں کی طرف داعی بنا کر بھیجا، بلادِ شام میں اسرائیلیوں اور یونانیوں کی طرف۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایامِ حج میں لوگوں کے پاس جا کر کہتے کہ تم میں کون شخص ہے جو میری مدد کرے یہاں تک کہ میں اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، کیوں کہ قریش مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ ساری دنیا کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں، مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے اور اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس ذمے داری کو ادا کرنے کی صورت کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ آپ کی امت آپ کے بعد اس کام کی ذمے دار ہے۔ اپنی زندگی میں آپ نے براہِ راست طور پر اس کام کو آپ کے بعد یہ کام بالواسطہ طور پر آپ کی امت کے ذریعے انجام پائے گا۔
امت کی لازمی ذمے داری ہے کہ وہ نسل درنسل ہر زمانے کے لوگوں کے سامنے اُس دین کا پیغام پہنچاتی رہے، جو دین آپ خدا کی طرف سے لائے اور جو قیامت تک اسی حال میں محفوظ رہے۔ اس معاملے کی مزید تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کو مشہور سیرت نگار محمد بن اسحاق (وفات: 768 ء) نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے دعوتی مشن کے بارے میں بھی فرمایا ہے اور خود اپنے بارے میں بھی۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ (623ء) کی ادائیگی کے بعد ایک دن اپنے اصحاب کے سامنے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، اللہ نے مجھ کو تمام دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم اس معاملے میں مجھ سے اختلاف نہ کرو، جیسا کہ مسیح کے حواریوں نے کیا تھا۔ اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو اُس کام کی طرف بلایا جس کی طرف میں نے تم کو بلایا ہے، پس مسیح نے جس کو قریبی مقام پر جانے کے لیے کہا، وہ راضی رہا اور تیار ہوگیا اور جس کو دور کے مقام پر جانے کے لیے کہا تو اس نے ناگواری ظاہر کی اور وہ اُس پر گراں گزرا۔ اس کے بعد مسیح نے اللہ سے اس بات کی شکایت کی تو جو لوگ زبان کے فرق کی وجہ سے جانے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے وہ اس قوم کی زبان بولنے لگے جن کی طرف مسیح ان کو بھیج رہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مختلف سرداروں اور حاکموں کی طرف اپنی دعوت کے ساتھ روانہ کیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب کے سامنے آئے اور اس دعوتی کام کی طرف انھیں توجہ دلائی تو ان سے کہا کہ ’’اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمے داری کو ادا کرو، اللہ تمھارے اوپر رحم (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 278)
زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کسی انسان کے لیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ ایک ایسے کام کے لیے سرگرم ہو جو براہِ راست طور پر خدا کا کام ہو، جو گویا خداوند ذوالجلال کی نیابت ہے۔
ایک ایسا اعزاز ہے جس سے بڑا کوئی اعزاز ممکن نہیں۔
خدا قادر مطلق ہے۔ وہ ہر معلوم اور نامعلوم کام کو انجام دینے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے پتھروں کو گویا کر دے، وہ درخت کی ہر پتی کو زبان بنا دے جس سے وہ خدا کے پیغامات کا اعلان کرنے لگیں، مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کے پیغام کی پیغام رسانی خود انسان ہی انجام دے، تاکہ التباس کا پردہ باقی رہے، تاکہ امتحان کی مصلحت مجروح نہ ہونے پائے۔
دعوت جس کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے، وہ براہِ راست خدا کا کام ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ حجت، خدا پر نہ رہے بلکہ وہ انسانوں کی طرف منتقل ہو جائے ۔ مگر امتحان کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ یہ کام کسی معجزاتی اسلوب میں انجام نہ پائے، بلکہ انسانوں میں سے کوئی انسان اسے انجام دے۔ ہے جس کی بنا پر اس خدائی کام کو انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
اس صورت حال نے انسان کی لیے عظیم ترین عمل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جو لوگ دعوت کے اس خدائی عمل کے لیے اٹھیں، ان کو دنیا کی زندگی میں نہایت خصوصی مدد حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں ان کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جائے گا۔
ایک بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے آگے اپنے عجز کا اقرار کر رہا ہے۔ کے مقابلے میں جب وہ دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خود خدا کا ایک کام انجام دے رہا ہے۔ کسی بندے کے لیے بلاشبہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی تجربہ نہیں کہ وہ یہ محسوس کرے کہ میں اپنے رب کے کام میں مصروف ہوں، میں اپنے رب کے ایک منصوبے کی تکمیل کر رہا ہوں۔