سوال و جواب
Al-Risala, April 2008, pp. 40–43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک دینی حلقے سے جڑے ہوئے لوگوں کے درمیان تدبر قرآن اور فہم قرآن کی باتیں ممنوع قرار دے دی گئی ہیں۔ ان کے نزدیک عوام کے لیے قرآن صرف تلاوت کی شے ہے، تدبر قرآن اور فہم قرآن صرف علماء کا حق ہے۔ ان دنوں عوام کو قرآن فہمی سے روکنے کے لیے ان حضرات کے ذریعے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ’’ صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا (تعلمنا الإيمان، ثم تعلمنا القرآن)‘‘۔ پھر اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ایمان کو پختہ کے بغیر قرآن فہمی کی کوشش گم راہی کا سبب بن سکتی ہے۔ جب اللہ تعالی خود قرآن میں تدبر کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس قسم کی حدیثوں کی حقیقت کیا ہے۔ آخر یہ حضرات عوام کو قرآن سے دور کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے میں ہم لوگوں کی رہ نمائی کریں، شکریہ (محمد خورشید اکرم سوز، کیلاش نگر، مہاراشٹر)۔
آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے، وہ صحیح اسناد سے ثابت ہے۔ لیکن صحابی کے اس قول کی وہ تشریح درست نہیں جس کو آپ نے کچھ لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔ صحابی کے اس قول میں ایمان سے مراد معرفت ہے، اور قرآن سے مراد شریعت۔ یہ بالکل درست ہے کہ اسلام میں پہلا دعوتی عمل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر معرفت پیدا کی جائے، یعنی لوگوں کی سوچ کو بدلا جائے، لوگوں کو ذہنی اعتبار سے تیار کیا جائے۔ اس ذہنی تیاری کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ لوگ اسلام کے عملی احکام کو اپنی زندگی میں اختیار کریں۔
تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ معرفت کا حصول کا ذریعہ بھی قرآن ہی ہے۔ کوئی اور خود ساختہ
طریقہ نہیں ۔ قرآن ہی کی رہ نمائی میں یہ کیا جائے گا کہ لوگوں کو بدلا جائے ۔ لوگوں کے اندر معرفت پیدا کی جائے جس کو ایمان کہا گیا ہے ۔ قرآن سے باہر معرفت کے حصول کا کوئی اور طریقہ وضع کرنا ایک بدعت ہے ، اور بدعت سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔
’تذکیر القرآن‘ اسی اصول پر لکھی گئی ہے ۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اُن پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے جو معرفت یا شعورِ ایمان کو پیدا کرنے والے ہیں ۔ تذکیر القرآن کے جس صفحے کو بھی آپ کھولیں ، آپ یہ حکمت اس کے اندر پائیں گے ۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ تذکیر القرآن کے ذریعے لوگوں کے اندر شعورِ ایمان پیدا کیا جائے ۔ شعورِ ایمان کا پیدا ہونا گویا کہ استعداد کا پیدا ہونا ہے ۔ استعداد پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خود ہی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شریعت کے عملی احکام کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیتے ہیں ۔
اسلامی شریعت کے مطابق ، یہ مسئلہ بتایا جاتا ہے کہ قیامت کے دن خدا ظاہر ہوگا ۔ لوگوں کو جنت میں جگہ دے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ بہت سے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا تو ارحم الراحمین ہے ، پھر خدا رحمت والا خدا ہونے کے باوجود کیوں لوگوں کو ابدی جہنم میں داخل کرے گا ( رجت ملہوترا، نئی دہلی ) ۔
قیامت کے جزا اور سزا کا تعلق رحمت سے نہیں ہے ، بلکہ عدل سے ہے ۔ یہ خدا کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عمل کے مطابق ، جزا یا سزا دے ۔
قیامت میں جن لوگوں کے لیے جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا ، وہ ان کے اندھے پن کی بنا پر ہوگا ۔ کیوں کہ انھوں نے نعمتوں کا بھرپور استعمال کیا ، لیکن انھوں نے منعم کا اعتراف نہیں کیا ۔ خدا نے ان کو اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ پیدا کرنے والا کون ہے ۔ خدا نے اُن کو سیارهٔ ارض (planet earth) جیسی جگہ رہنے کے لیے دی ، لیکن
انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ استثنائی زمین کس نے بنائی۔ خدا نے سورج کے ذریعے روشنی اور حرارت کا انوکھا انتظام کیا، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ انوکھا انتظام کرنے والا کون ہے۔ خدا نے اُن کے لیے آکسیجن کی مسلسل فراہمی کا انتظام کیا، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ فراہمی کس کی طرف سے خدا نے زمین سے اُن کے لیے طرح طرح کی غذا ئیں نکالیں، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ کون ہے جو یہ سب کر رہا ہے۔ خدا نے دریاؤں اور سمندروں کو پانی سے بھر دیا، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس زندگی بخش نعمت کو فراہم کرنے والا کون ہے۔ خدا نے دنیا میں انسان کے لیے وہ تمام چیزیں فراہم کیں، جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس لائف سپورٹ سسٹم کو دینے والا کون ہے۔
وہ لوگ جو نعمتوں کو استعمال کریں، لیکن وہ منعم کا اعتراف نہ کریں، ایسے لوگوں کو قرآن میں اندھا اور بہرا (الاسراء: 72) بتایا گیا ہے۔ جہنم دراصل انھیں اندھے اور بہرے لوگوں کے لیے جو لوگ دنیا کی زندگی میں اندھے اور بہرے بن کر رہیں، جن کا حال یہ ہو کہ وہ نہ اپنی عقل سے سوچیں، اور نہ اپنی آنکھ سے دیکھیں، اور نہ اپنے کان سے سنیں، ایسے لوگوں کا انجام بلا شبہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو مابعد موت دورِ حیات (post-death period) کے ابدی مرحلے میں خدا کی ان رحمتوں سے محروم کر دیا جائے۔ وہ دوبارہ خدا کی رحمتوں میں حصے دار نہ بن سکیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو قرآن میں اہل جہنم (الأعراف: 179) کہا گیا ہے۔
May name is Yusuf Vorajee, I am 35 years old. I am a born and bred south African. I hail from a town called Lenasia, a suburb of Johannesburg. I have had the privilege of a good Islamic upbringing. When I was 21 years of age I decided to pursue the study of Islam seriously. The only option available to me at the time was to go to a local dar al-ulum affiliated to the madrasah in Deoband. I studied in this institution for 7 years, but was always at loggerheads with the authorities regarding issues of teaching methodology, curriculum content, interpretation of sources etc. After I qualified, however, then I came into real conflict with the
'ulama fraternity after I refused to submit to the dictates of the 'ulama uncritically. I have subsequently been ostracized by the 'ulama, rendered unemployable and labeled a deviant. During this time (over 7 years plus the period of my studies), one of the sources by which I drew solace was your writings. Whenever I was asked to speak in a Musjid I spoke from your books. At present I find myself in a "spiritual mess". I have literally been ostracized by the "ruling" 'ulama body here who exert every influence over most of the Islamic organizations. I have continuosly been refused work at "their" madaaris and Islamic schools and anywhere else. I am not called upon to deliver khutbas, jumu'ah or otherwise any longer, I have no avenues from which to articulate my thought. Friends I had from my madrasah days avoid me. I read extensively and continue studying on my own, and have grown beyond the narrow outlook of the traditional ulema fraternity. It's not possible for me to move away to a different place or locality as I have a widowed mum and an ailing widowed grandmother to take care of, and I am an only child. I am also married and have two beautiful children alhamdulillah. Because of this total isolation and ostracism, I feel abandoned by Allah (SWT) and there are days when I question my faith, times when I felt shaken to my core. When I contemplate my predicament, I am able to understand and accept it on an intellectual level, and have intellectual responses; but I can't come to terms with it emotionally or spiritually, and I am in serious need of a spiritual guide and mentor. I do realize that you are extremely busy but if you could spare a few minutes for me so that I may solicit advice from you albeit electronically I would be most grateful. Also I humbly request you to make du'a for me. (Yusuf Vorajee, South Africa)
According to my experience, I would make some suggestion to you: 1. First of all, you will have to study all of my books, also you will have to be a regular reader of my monthly magazine “Al-Risala”, published from Islamic Centre, New Delhi, India. This magazine and other of my writings are also available on the internet (www.alrisala.org). 2. According to my analysis, all of your problems are the result of one thing alone. And that is your idealism. You are an idealist, and idealists always try to translate their ideals into their social matters, but it