I have not been sent to you for this purpose.
Al-Risala, May 2008, pp. 10–13
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا نشانہ، سیاسی اقتدار پھر آپ کا نشانہ کیا تھا۔ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس کا جواب ہے: يأيها المدثر، قُم فأنذر (المدثر : اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کا نشانہ انذار تھا، یعنی خدا کے تخلیقی پلان سے انسان کو آگاہ کرنا۔ سیرت رسول کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کی پوری زندگی کا محور یہی دعوتی نشانہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی نشانہ ہے۔ اُس کو خالص غیر سیاسی انداز میں اور پوری طرح پر امن طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا یہ فکر ایک عرصے تک امت میں رہا، پھر دھیرے دھیرے اس میں انحراف آ گیا، یہاں تک کہ غیر سیاسی اسلام بدل کر سیاسی اسلام بن گیا۔ موجودہ زمانے میں ہم اس انحراف کی آخری صورت دیکھ رہے ہیں۔
اس معاملے کو مزید سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: عن عائشة قالت : سأل رجلُ النبي صلى الله عليه وسلم، أىّ الناس خير۔ قال : القرن الذي أنا فيه، ثم الثانی، ثم الثالث۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بہتر لوگ کون ہیں، آپ نے فرمایا کہ وہ دَور جس کے اندر میں ہوں۔ اس کے بعد دوسرا دَور، اور اس کے بعد تیسرا دور (صحیح مسلم، فضائل الصحابة)۔
یہ تین دور امت میں قرون مشہود لہا بالخیر تسلیم کیے گئے ہیں۔ پہلا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ہے، دوسرا دور صحابہ کا دور ہے، اور تیسرا دور تابعین کا دور۔ ان تین دوروں کو عہد رسالت،
عہدِ خلافت راشدہ اور عہدِ بنوامیہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ان تینوں دوروں کی تاریخی ترتیب یہ ہے: 1- عہدِ رسالت: 632-610ء 2- عہدِ خلافت راشدہ: 661-632ء 3- عہدِ بنوامیہ: 750-661ء 4- عہدِ بنوعباس: 750-1258ء پہلے تینوں دور میں عربوں کا غلبہ تھا۔ عرب لوگ وہ تھے جن کو براہِ راست پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت ملی تھی اور اُن کوکم وپیش آپ کی تربیت حاصل ہوئی، لیکن چوتھے دور میں مسلم سماج اور مسلم تنظیمات پر ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا۔ ایرانی وہ لوگ تھے جنھوں نے براہِ راست پیغمبرِ اسلام سے تربیت حاصل نہیں کی تھی ، یہی عباسی دور، جس میں ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا تھا، اسی دور میں تمام فکری انحرافات شروع ہوئے، اور ان کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
وہ تمام کتابیں جن کو اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے، وہ تقریباً سب کی سب اس عباسی دور میں تیار کی اس دور میں اسلام ،کم و بیش، ایک پولیٹکل اسلام بن چکا تھا۔ دعوت کا عمل اب بھی خود اپنی طاقت پر جاری تھا، لیکن فکری اعتبار سے دعوت کا تصور تقریباً غیر موجود ہو گیا تھا۔ اس کا اثر بعد کی تمام کتابوں پر پڑا۔ مثلاً قرآن کو آپ کسی تفسیر کے بغیر پڑھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ قرآن مکمل طور پر ایک دعوتی ایک عالم کے الفاظ میں ، قرآن انذار اور تبشیر کی سرگذشت ہے، لیکن اگر آپ قرآن کی تفسیروں کو پڑھیں تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ بالکل بدل جائے گا۔ مثلاً دعوت کا پہلو قرآن کا سب سے اہم پہلو ہے، لیکن تمام تفسیروں میں قرآن کا یہی پہلو گم ہو گیا ہے۔ مثلاً صبر، اعراض اور تالیف قلب دعوت کے اہم اجزا ہیں، لیکن قرآن کی موجودہ تفسیروں میں ان دعوتی اجزا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جہاد کی آیتیں اترنے کے بعد یہ چیزیں منسوخ ہو گئیں۔
یہی معاملہ حدیث کے ساتھ پیش آیا۔ حدیث حقیقت میں ایک پیغمبرِ داعی کا کلام ہے۔ میں دعوت کے تمام اجزا موجود ہیں، لیکن ذہنی شاکلہ بدل جانے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ علماء نے حدیث
کی جو کتابیں مدوّن کیں، اُن میں انھوں نے دعوت کا باب سرے سے قائم نہیں کیا۔ مجموعوں میں آپ ’کتاب الصلاۃ‘ ’کتاب الجہاد‘ جیسے عنوانات پائیں گے، لیکن حدیث کے کسی بھی مجموعے میں آپ کو ’کتاب الدعوۃ و التبلیغ‘ نہیں ملے گا۔
یہی معاملہ فقہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ فقہ کے موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں۔ تک کہ یہ سمجھا جانے لگا کہ اسلام کی تمام تعلیمات فقہ کی کتابوں میں آگئی ہیں، اسلام کو سمجھنے کے لیے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کافی ہے۔ لیکن ذہنی شاکلہ بدل جانے کی وجہ سے یہاں بھی یہ حادثہ پیش آیا کہ فقہ کی کسی بھی کتاب میں ’کتاب الدعوۃ، والتبلیغ‘ شامل نہ ہوسکا۔ فقہ کی کتابوں میں آپ کو ہر قسم کے ابواب تفصیل کے ساتھ ملیں گے، لیکن دعوت اور تبلیغ کا باب فقہ کی کسی بھی کتاب میں نظر نہ آئے گا۔ مدوّن کتابوں کے علاوہ، دوسری جو کتابیں اسلام کے موضوعات پر لکھی گئیں، اُن کا بھی یہ حال ہے کہ اُن میں دعوت الی اللہ کا باب سرے سے موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی کی ’احیاء علوم الدین‘، ابن تیمیہ کی ’کتاب النبوات‘، شاہ ولی اللہ کی ’حجۃ اللہ البالغہ‘، وغیرہ کا نام اس معاملے میں بطور مثال لیا جاسکتا ہے۔ ابن تیمیہ نے شتم رسول کے مسئلے پر ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تیار کردی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی اُسوہ کو لے کر وہ کوئی کتاب نہ لکھ سکے، نہ پچھلے ادوار میں کسی اور عالم نے اس موضوع پر کوئی اور کتاب لکھی۔ عباسی دور میں اسلامی فکر میں یہ انحراف آیا کہ نان پوٹکل اسلام لوگوں کی اپنی تعبیرات کے نتیجے میں پوٹکل اسلام بن گیا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دوسری قوموں کو اپنا غیر سمجھنے لگے۔ حالاں کہ یہ دعوتی اسپرٹ کے سرتاسر خلاف تھا۔ قرآن کو آپ پڑھیے تو اُس میں بار بار ’الانسان‘، اور ’الناس‘ کا ذکر ملے گا۔ گویا قرآن کے نزدیک ساری دنیا انسانوں کی دنیا ہے، ساری دنیا ’دار الانسان‘ کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی مسلم بھی انسان اور بقیہ لوگ بھی انسان۔
یہی صحیح اسلامی ذہن ہے، لیکن عباسی دور میں جو فقہ بنی، اُس نے یہ کیا کہ دنیا کو بطور خود دو طبقوں میں بانٹ دیا— دار الاسلام اور دار الحرب۔ دار الاسلام سے مراد وہ علاقہ تھا جہاں مسلمانوں کا
اقتدار قائم ہو۔ اور دار الحرب سے مراد وہ علاقہ، جہاں غیر مسلم آباد ہوں اور جن سے مسلمان امکانی طور پر بر سر جنگ (potentially at war) ہوں۔ یہ تقسیم بلا شبہ بے اصل تھی، لیکن وہ اتنا عام ہوئی کہ وہ مسلم فکر کا جزو بن گئی۔ اس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ وسیع تر انسانیت، مسلمانوں کو غیر دکھائی دینے لگی، وسیع تر انسانیت اُن کا کنسرن نہ رہی۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت کا ذہن مسلمانوں سے تقریباً معدوم دعوت ہمیشہ انسان کی خیر خواہی کے جذبے سے ابھرتی ہے۔ اور جن لوگوں کے اندر انسان کی خیر خواہی نہ رہے، وہ انسان کے اوپر دعوت کا عمل بھی نہیں کریں گے۔
پولٹکل طرزِ فکر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک منفی طرزِ فکر ہے۔ اُس کا نتیجہ ہمیشہ تفریق کی صورت میں نکلتا ہے۔ پولٹکل ایکٹوزم کا نتیجہ کبھی مثبت صورت میں نہیں نکلا ہے اور نہ کبھی اس کا نتیجہ مثبت صورت میں نکل سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پولٹکل ایکٹوزم کو اسلام میں تقریباً حرام کا درجہ دے دیا۔ اس سلسلے میں جو احادیث آئی ہیں، اُن کے مطابق، مسلمانوں کے لیے صرف یہی ایک انتخاب ہے کہ وہ غیر سیاسی میدان میں پر امن دعوہ ورک کریں۔ سیاسی ٹکراؤ یا سیاسی اپوزیشن جیسی چیزیں اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کا مضمون جہادِ اسلامی تاریخ میں مطبوعہ: ماہ نامہ الرسالہ، مارچ 2008) موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو اپنی پولٹکل سوچ کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دورِ جدید کے ایک عظیم امکان سے بالکل بے خبر رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ عظیم امکان غیر سیاسی میدان میں تھا، اور موجودہ زمانے کے مسلم علما اور رہ نما اپنے سیاسی ذہن کی بنا پر اس جدید تبدیلی کو سمجھ ہی نہ دوسری قوموں نے اس جدید امکان کو سمجھا اور اس کو استعمال کیا، لیکن مسلمان اُس سے بالکل فائدہ نہ انھوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی بے شعوری کی بنا پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر پٹکتے رہے اور ایک طرفہ طور پر صرف اپنے نقصان میں اضافہ کرتے رہے— اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس پورے معاملے پر نظر ثانی کر کے نئے حالات میں دعوت الی اللہ کے کام کی از سرِ نو منصوبہ بندی کی جائے۔