Al-Risala · May 2008

مدر ٹریسا

Al-Risala, May 2008, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

مدر ٹریسا، یورپ میں مقدونیہ (Maccdonia) کے علاقہ (Skopje) میں 1910 میں پیدا 1997 میں کلکتہ (انڈیا) میں اُن کا انتقال ہوا۔ خدا کے نام پر غریبوں کی خدمت کو انھوں نے اپنا مشن بنایا۔ اُن کا مرکز کلکتہ میں تھا۔ اس میدان میں اُن کو اتنا بڑا درجہ ملا کہ اُن کو اسی خدمت کے نام پر 1979 میں نوبل پرائز دیا گیا۔ خدا کے نام پر انسان کی خدمت اُن کی پہچان بن گئی۔ ہر موقع پر وہ خدا اور روحانیت کے الفاظ بولتی رہیں۔ اُن کے سوانح نگار مسٹر نوین چاؤلا نے اُن کے اوپر 280 صفحے کی ایک کتاب (Mother Teresa) لکھی۔ یہ کتاب پہلی بار پینگوئن بکس (UK) سے 1998 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے انھوںنے مدر ٹریسا سے ایک تحریر مانگی۔ مدر ٹریسا نے اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھ کر اُن کو بھیج دیے، جو کہ اس کتاب میں بطور فورورڈ (foreword)

All you do, all you write, do it all for the glory of God, and the good of all people. Let your book be love for God in action. (February, 24, 1991)

یعنی تم جو کچھ کرو، جو کچھ تم لکھو، اُس کو تمام تر خدا کی بڑائی کے لیے اور لوگوں کی بھلائی کے لیے اپنی کتاب کو خدا کی محبت کے لیے کیا جانے والا عمل بنادو۔

مدر ٹریسا، جدید دنیا میں اسپرچول ہیرو سمجھی جانے لگیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسیح کو تم غریبوں میں خدا اور روحانیت کے بارے میں اُن کے اقوال اور بیانات ہر جگہ چھپنے لگے۔ بہت سے لوگوں نے ان کو اپنی زندگی کے لیے ماڈل بنا لیا۔ ویٹکن (روم) نے اعلان کر دیا کہ مدر ٹریسا کی اعلیٰ خدمات کی بنا پر پوپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مدر ٹریسا کو سینٹ ہڈ (sainthood) کا خطاب دیا جائے گا۔ مگر مدر ٹریسا کی وفات کے بعد اُن کے بارے میں ایک کتاب چھپی ہے، جس میں مدر ٹریسا کی بالکل مختلف تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مادر ٹریسا کو اپنے 66 سالہ عمل کے

باوجود خدا نہیں ملا۔ وہ مسلسل طور پر روحانی فاقہ (spiritual starvation) میں جیتی رہیں۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:

Mother Teresa: Come Be My Light, by Rev Brian Kolodiejchut. نیویارک کے ٹائم میگزین (3 ستمبر 2007) نے اس کتاب کو اپنی کور اسٹوری بنایا ہے۔ میگزین میں مدر ٹریسا کی کہانی کے اوپر یہ عنوان قائم کیا گیا ہے— مدر ٹریسا کا ذہنی کرب (Her Agony)— میگزین کا ٹائٹل حسب ذیل ہے:

Printed page