Al-Risala · May 2008

The Secret Life of Mother Teresa

Al-Risala, May 2008, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مدر ٹریسا کی زندگی بظاہر خدا اور روحانیت کی زندگی تھی، لیکن ان کی زندگی خدا اور روحانیت سے بالکل خالی تھی۔ اُن کے اپنے الفاظ کو لے کر نئی دہلی کے ٹائمس آف انڈیا (25 اگست 2007) نے اس کی رپورٹ پر یہ عنوان قائم کیا ہے— مدر ٹریسا زبان سے خدا کا نام لیتی رہیں، لیکن اپنے دل میں انھوں نے کبھی خدا کو نہیں پایا:

Mother Teresa had God on her lips, but never felt Him (p. 11)

مدر ٹریسا کی زندگی کا یہ دوسرا پہلو اُن کے نجی خطوط کے ذریعے سامنے آیا۔ مدر ٹریسا نے اپنے یہ خط اپنے کچھ قریبی ساتھیوں کو لکھے تھے۔ ان خطوط کی تعداد تین درجن سے زیادہ ہے۔ مدر ٹریسا نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ان خطوط کو ضائع کر دیا جائے، لیکن اُن کے یہ خطوط محفوظ رہے اور مدر ٹریسا کی وفات کے بعد ویٹکن کی اجازت سے وہ شائع کیے گئے ہیں۔ مدر ٹریسا نے اپنے ان خطوط میں کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ اُنھوں نے غریبوں کے پاس خدا کو ڈھونڈھا، مگر ان کو خدا نہیں ملا۔ خط میں وہ اپنے ایک ساتھی کو لکھتی ہیں کہ— خدا کے بارے میں ہمارا اشتیاق کتنا زیادہ ہے، اس کے باوجود وہ ہم سے کتنا زیادہ دور ہے:

Your longing for God is so deep, and yet He keeps Himself away from you. (Time, p. 33)

مدر ٹریسا کے مطبوعہ خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سخت تنہائی (loneliness) میں

انھوں نے ایک خط میں اپنے ایک ساتھی کو لکھا کہ — میری روح کے اندر اتنا زیادہ کرب اور اتنا زیادہ تاریکی کیوں ہے:

Why is there so much pain and darkness in my soul. (p. 31)

مدر ٹریسا کو اپنی پوری عمر صرف کرنے کے باوجود خدا کیوں نہیں ملا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مخلوق میں خدا کو تلاش کر رہی تھیں ۔ اور جو لوگ مخلوق میں خدا کو تلاش کرتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ یہی ہوا ہے ۔ خدا نے مدر ٹریسا کے اس واقعے کی صورت میں اُن لوگوں کے لیے تاریخ میں ایک عبرت ناک مثال قائم کردی ہے جو دعوہ ورک کے مقابلے میں کمیونٹی ورک کو اپنے لیے روحانی سکون کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔

قدیم زمانے میں انسان نے نیچر کو خدا سمجھ لیا۔ دریا، پہاڑ اور سورج اور چاند ہر ایک کو اُس نے خدائی کا درجہ دے دیا، مگر یہ سب مخلوقات تھیں، اس لیے قدیم زمانے کا انسان خدا کو نہ پاسکا۔ انسان نے بادشاہ کو اور اپنے بزرگوں کو خدا کا درجہ دے دیا۔ یہ بھی مخلوق کو خدا بنانا تھا، اس لیے انسان یہاں بھی اپنی تلاش میں ناکام رہا۔ اس کے بعد یہ سمجھا گیا کہ طبیعیاتی طاقتیں (physical forces) خدائی کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہاں بھی انسان کو خدا کی یافت نہ ہوسکی، کیوں کہ طبیعی طاقتیں مخلوقات ہیں، نہ کہ خدا۔ خدا، مخلوقات سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے، اور اس کو علاحدہ اور مستقل وجود ہی کی حیثیت سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں انسان کی تلاش کی ناکامی کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی ہے۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے : اور جن لوگوں نے انکار کیا، اُن کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں سراب، پیاسا اُس کو پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اُس کے پاس آیا تو اُس نے اُس کو کچھ نہ اور اُس نے وہاں اللہ کو موجود پایا، پس اُس نے اس کا حساب چکا دیا۔ اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (النور: 39)

Printed page