Al-Risala · May 2008

مواقع کی دنیا

Al-Risala, May 2008, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کے انگریزی اخبارٹائمس آف انڈیا (14 ستمبر 2007) میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ کو یہاں صفحے کے نیچے درج کیا جارہا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا کے ایک مسلمان عظیم ہاشم پریم جی اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند مسلمان ہیں۔ میں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ہندو انڈیا‘‘ میں ہوا، جہاں کے بارے میں عام طور پر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ یہاں محرومی کی زندگی گزاررہے ہیں۔

عظیم ہاشم پریم جی کے اس واقعے پر غور کیجیے تو اس سے ایک بہت بڑی حقیقت کا علم حاصل ہوتا یہ انفرادی واقعہ ایک عالمی قانون کو بتا رہا ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا مواقع (opportunities) کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں ختم نہیں ہوتے۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ فطرت کے اس قانون کو بدل سکے، یا وہ اس قانون کو منسوخ کر دے۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون وہ قرآن کی آیت کے مطابق، لا تبديل لخلق الله (الروم: 30) کے عمومی حکم میں شامل ہے۔ عظیم ہاشم پریم جی نے اپنے انٹرویو میں اسی حقیقت کو اپنے لفظوں میں اس طرح بیان کیا —اس قسم کی کامیابی بتاتی ہے کہ گلوبلائزیشن دو طرفہ ٹریفک کا معاملہ ہے، یعنی اُس کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ، زیر ترقی ممالک کو بھی پہنچ رہا ہے:

Such success shows globalization is turning into "two-way traffic" that can bring tangible benefits to develping countries. موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما اور مفکرین ایک مشترک غلطی کا شکار ہوئے۔ انھوں نے قدیم زمانے کی اصطلاحوں میں جدید زمانے کو سمجھنا چاہا، اس بنا پر وہ دورِ جدید کی نوعیت کو سمجھنے میں مکمل طور پر نا کام انھوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو غلط رہ نمائی دی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام مسائل اسی غلط رہ نمائی کا نتیجہ ہیں، جن کو غیر واقعی طور پر اغیار کی سازش کہا جاتا ہے۔ مومن کی ایک صفت حدیثِ رسول میں یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے زمانے کا جاننے والا ہوتا ہے (أن يكون بصيراً بزمانه)۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما بصیرتِ زمانہ کا ثبوت نہ دے سکے، اس کے باوجود انھوں نے مسلمانوں کورہ نمائی دینے کی کوشش کی جو بلا شبہہ درست نہ تھی۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے اور از سرِ نو اپنے معاملے کی صحیح منصوبہ بندی کی جائے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں مسلم مسائل کا آغاز اُس دور سے ہوتا ہے جس کو عام طور پر نو آبادیاتی دور کہا جاتا ہے۔ بعض مبصرین نے اس دورِ زوال کے آغاز کا تعین 1799 کیا ہے۔

خیال کے مطابق، 1799 وہ سال تھا جب کہ مسلمانوں کا دور عروج ختم ہوکر اُن کا دور زوال شروع ہو گیا۔ اس تاریخ کے تعین میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اصل واقعے کے بارے میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ قدیم نو آبادیاتی دور کو ہمارے رہ نما یورپین امپیریل ازم (European emperialism) کا نام دیتے ہیں اور بیسویں صدی کے نصف آخر میں امریکا کے عروج سے جو صورت حال پیدا ہوئی، اُس کو امریکی ایمپیریل ازم (American emperialism) کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں غلط تسمیہ (wrong nomenclature) کا کیس ہے، اور یہ غلط تسمیہ اس لیے وجود میں آیا کہ لوگ زمانی بصیرت کی روشنی میں اس معاملے کو نہ دیکھ سکے۔

میں کہوں گا کہ ایمپیریل ازم زرعی دورِ سیاست کی اصطلاح ہے، آج کے حالات کے مطابق یہ اصطلاحیں منطبق نہیں ہوتیں۔ قدیم زمانے میں اس طرح کے واقعات توسیع بادشاہت کے ہم معنی ہوتے تھے، مگر موجودہ زمانے میں اس طرح کے واقعات توسیع مواقع کے ہم معنی ہیں۔ کی توسیع بادشاہت اصلاً یک طرفہ فوائد کے حصول کے لیے ہوا کرتی تھی، مگر موجودہ زمانے میں یہ توسیع، فوائد میں دوطرفہ حصے دار بننے کے لیے ہوتی ہے۔

اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ جدید صورت حال کو بتانے کے لیے ایمپیریل ازم زیادہ صحیح لفظ نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے زیادہ صحیح لفظ گلوبلائزیشن (globalization) یورپی نو آبادیات کا دور گویا کہ منی گلوبلائزیشن (mini-globalization) کا دور تھا، اور نام نہاد امریکی ایمپیریل ازم کا دور سپر گلوبلائزیشن (super globalization) کا دور ہے۔ قدیم ایمپیریل ازم زیادہ تر یک طرفہ فائدے کے لیے ہوتا تھا، مگر جدید گلوبلائزیشن دوطرفہ فائدے کے اصول پر مبنی ہے۔ مثالوں کے ذریعے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔

قدیم ایمپیریل ازم کے زمانے میں بادشاہ لوگ بڑے بڑے قلعے اور بڑے بڑے محل بناتے تھے، وہ شاہانہ شخصیتوں کے بڑے بڑے مقبرے تعمیر کرتے تھے۔ اس قسم کی چیزوں سے عملاً صرف شاہانہ طبقے کے لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا، عوام کا اُس میں کوئی قابلِ ذکر حصہ نہ تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں

گلوبلائزیشن کے تحت جو کام کیے جاتے ہیں، اُن کا فائدہ دونوں طبقوں کو مشترک طور پر پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر یورپی نو آبادیات کے زمانے میں وسیع پیمانے پر انڈیا میں ریلوے لائن بچھائی ہمارے لیڈروں نے اِس ریلوے لائن کو لوہے کی غلامانہ زنجیر بتایا، مگر یہ بلاشبہ مبالغہ تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اِس ریلوے لائن سے ایک طرف برطانی حکم رانوں کو یہ فائدہ ملا کہ وہ اپنے فوجیوں اور اپنے سامان تجارت کو ایک حصّے سے دوسری طرف منتقل کر سکتے تھے۔ لیکن دوسری طرف، ملکی باشندوں کو اِس سے یہ فائدہ ملا کہ اُن کے لیے ملک میں، ہر طرف سفر کرنا آسان ہو گیا۔ اِس سفری سہولت سے ملکی باشندوں کو عظیم فائدے حاصل ہوئے۔

یہی معاملہ موجودہ گلوبلائزیشن کا ہے۔ اِس گلوبلائزیشن کے زمانے میں غیر ملکی کمپنیوں نے، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، موبائل کی انڈسٹری قائم کی۔ اِس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ غیر ملکی تجارتی اداروں کو مالی فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ لیکن دوسری طرف، ملک کے باشندوں کو تاریخ میں پہلی بار ٹیلی کمیونکیشن (tele-communication) کا ذریعہ حاصل ہو گیا۔ اِس کے نتیجے میں لوگوں کے کاروبار بہت زیادہ پھیل گئے۔ تجارتی فوائد کی یہ توسیع ہمارے ملک کے لیے ایک ایسی روں کے بار بار ہدایت رہارہا ہے ۔ باراں میں یہ نعمت ثابت ہوئی جو اس سے پہلے کبھی اُنھیں حاصل نہ تھی۔

Printed page